جی این این سوشل

پاکستان

پاکستان کا ڈیفالٹ رسک خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے، مفتاح اسماعیل

اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کا ڈیفالٹ رسک خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پاکستان کا ڈیفالٹ رسک خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے، مفتاح اسماعیل
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

 

پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے سوشل میڈیا پر اپنا آرٹیکل شیئر کر دیا۔ انہوں نے لکھا کہ دسمبر کے بانڈز کی ادائیگی کے بعد بھی ڈیفالٹ کا خطرہ ختم نہیں ہوگا اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے معاہدے پر عمل نہ کرنے سے ڈیفالٹ کا رسک بڑھا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں جبکہ مارکیٹوں اور قرض دہندگان کو یقین دلانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔ قومی مفاد کو سیاسی مفاد پر ترجیح دینی چاہیے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت نے درست قدم نہ اٹھائے تو انہیں پی ٹی آئی پر تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں۔ 2013 سے 2018 کے دوران برآمدات میں 38 فیصد کمی ہوئی اور 38 فیصد برآمدات میں کمی سے دوسرا بڑا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آئی ایم ایف معاہدے پر عمل نہ کرنے سے معیشت کو مشکلات پیش آئیں تاہم ہم نے آئی ایم ایف سے دوبارہ معاہدہ کیا جس کے باعث مشکل فیصلے کرنا پڑے۔ آج اوپن مارکیٹ اور انٹربینک میں ڈالر کے ریٹ میں بڑا فرق ہے اور اسٹیٹ بینک غیر رسمی طور پر ایکسچینج ریٹ پر بینکوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔

پاکستان

فیصل واوڈا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحری امور کے بلا مقابلہ چئیرمین منتخب

تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل سلیم سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین منتخب ہو گئے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

فیصل واوڈا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحری امور کے بلا مقابلہ چئیرمین منتخب

سینیٹر فیصل واوڈا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحری امورکے بلا مقابلہ چئیرمین منتخب ہو گئے ۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحری امورکے بلا مقابلہ چئیرمین منتخب ہونے پر کمیٹی ارکان نے شکریہ ادا کیا۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ بحری مسائل کی نشاندہی ہی نہیں، بلکہ مسائل کا حل میری ترجیح ہوگیا، سب کو ساتھ لیکر چلیں گے۔

سینیٹر فیصل سلیم سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین منتخب ہو گئے، جبکہ تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل سلیم بھی بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

کم عمری میں بچے محنت مزدوری کیوں کرتے ہیں ؟

چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لیے دنیا بھر میں قانون سازی کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی چائلڈ لیبر سے نجات کے لیے قانون پاس کیا گیا ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

کم عمری میں بچے  محنت مزدوری کیوں کرتے ہیں ؟

ہر سال 12 جون کو عالمی سطح پر چائلڈ لیبر ڈے منایا جاتا ہے۔ رواں سال بھی عالمی سطح پر چائلڈ لیبر ڈے  25 سال گرہ منائی گئی، جس کے لیے تھیم ’’ لیٹس ایکٹ آن آور کمٹمنٹ، اینڈ چائلڈ لیبر‘‘ کا انتخاب کیا گیا۔ تاریخ میں پہلی بار 2002 میں چائلڈ لیبر کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزییشن (آئی ایل او) کی سفارشات پر12 جون کو بطور چائلڈ لیبر ڈے مختص کیا گیا۔ 
یونیسیف کے مطابق دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک بچہ چائلڈ لیبر کا شکار ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 160 ملین سے زائد بچے چائلڈ لیبر سے متاثر ہو رہے ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ تعداد برا عظم افریقہ سے تعلق رکھنے والے بچوں کی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف افریقہ میں 72 ملین سے زائد بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ دوسرے نمبر پر ایشائی ممالک کے 62 ملین بچے، امریکہ کے 11 ملین، یورپ اور مرکزی ایشیا کے 6 ملین، جبکہ متحدہ عرب امارات کے 1 ملین بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ 
ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ چائلڈ لیبرکیا ہے؟ 
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن(آئی ایل او) کے مطابق ایسا تفویض شدہ کام جو بچوں کو ان کی معصومیت، تخلیقی صلاحیتوں اور وقار سے محروم کر دے اور بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشونما پر براہ راست برااثر ڈالے، چائلڈ لیبر کے ضمرے میں آتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایسا کوئی بھی کام جس میں بچے کو کمانے کی عمر سے قبل مشغول کیا جائے، مگر اس کام کا بچے  کی صحت و تعلیم پر کوئی مضر اثر نہ ہو، چائلڈ لیبر کے ضمرے میں نہیں آتا۔ 
بد قسمتی سے دنیا بھر میں چائلڈ لیبرکی لعنت اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے۔ مختلف وجوہات کی بناء پر بچوں کو مجبورا اپنے کھیلنے کودنے کی عمر میں چائلڈ لیبر کا شکار ہوتے ہیں۔
یوں تو دنیا بھر مں چائلڈ لیبر کی وجوہات مختلف ہیں، مگرعالمی طور پرچائلڈ لیبر کی سب سے بڑی وجہ غربت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں چائلڈ لیبر کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ غریب لوگ اپنی آمدن کے ذرائع بڑھانے کے لیے اپنے گھر کے چھوٹے بچوں کو بھی کام میں جت دیتے ہیں، جس کے نتیجہ میں چھوٹے بچوں کا معصوم ذہن صحیح نشونما نہیں کر پاتا اور وہ معاشرے کے گرداب میں پھنس جاتے ہیں۔ 
کچھ جگہوں پر لوگوں نے چائلڈ لیبر کو بطور رواج سمجھ لیا ہے، جہاں بچے اپنے مالکان کا کام کرتے ہیں اور بدلے  میں مالکان سماجی خدمت سمجھتے ہوئے بچوں کو ان کی خدمت کے عوض چند اونے پونے دام پکڑا دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ بچوں سے کام لینا بجٹ کے لحاظ سے بہت موزوں رہتا ہے کیوں کہ بچوں کو کسی بالغ کی نسبت زیادہ معاوضہ ادا نہیں کرنا پڑتا۔ معاشرے میں موجود طبقاتی نظام اور جنس پرستی بھی چائلڈ لیبر کی ایک بڑی وجہ ہے۔
چائلڈ لیبر کے شکار بچے مختلف قسم کے کاموں میں مشغول کیے جاتے ہیں۔ جن میں زراعت، کان کنی، بھٹہ مزدوری، گھر کی نوکر چاکری، ہوٹلوں اور دکانوں پر کام کاج اور صنعتوں میں کام سر فہرست ہیں۔ مزید برآں، جنگی مہم جوئیوں کے دوران، بچوں کو جنگی حکمت عملی کے طور پر بطور جا سوس اور مددگار استعمال کیا جاتا ہے۔
چائلڈ لیبر بچوں پر بہت سنگین  اثرات مرتب کرتی ہے۔ ایسے بچے جو چائلڈ لیبر کا شکار ہوتے ہیں، وہ ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی طور پر مفلوج ہو جاتے ہیں۔ ایسے بچے نہ تو اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز رکھ پاتے اور نہ ہی ان کا کام ان کے ایک بہتر مستقبل کا ضامن ہوتا ہے۔
چائلڈ لیبر کی روک تھام کے لیے دنیا بھر میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن، یونیسیف سمیت متعدد ادارے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی اقوام متحدہ کا رکن ملک ہونے کے ناطے اقوام متحدہ کے چارٹر اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے ساتھ کام کرتا ہے۔ پاکستان میں یونیسیف کے مشنز بھی چائلڈ لیبر کے تدارک کے لیے کوشاں ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان میں سپارک( سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چلڈرن) کام کر رہا ہے۔ 
چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لیے دنیا بھر میں قانون سازی کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی چائلڈ لیبر سے نجات کے لیے قانون پاس کیا گیا ہے۔ بچوں کی ملازمت کا ایکٹ 1991 پاکستان کا وہ تازہ ترین قانون ہے جسے خاص طور پر چائلڈ لیبر کے خاتمے کے تناظر میں نافذ کیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت 14 سال سے کم عمر کے بچوں کو ذہنی و جسمانی خطرات والے شعبوں میں کام کرنے پر پابندی ہے۔

ملکی ترقی اور معاشرتی بہبود کے حصول میں بچوں کی مزدوری( چائلڈ لیبر) کا خاتمہ ایک اہم معاملہ ہے۔ چائلڈ لیبر نے غربت اور تعلیم کی کمی جیسے مسائل کو اور بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف حکومتی اقدامات پر مشتمل نہیں ہو سکتا، بلکہ معاشرتی اور سماجی سطح پر تبدیلی اور اقدامات بھی ضروری ہیں۔  
معاشرہ مجموعی طور پر چائلڈ لیبر کے خاتمے میں ایک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ معاملہ ہمارے معاشرتی اقداراور سماجی اعتقادات کے ساتھ بھی وابستہ ہے۔  
چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ ہر بچہ اس کا حق حاصل کر سکے۔ تعلیمی اداروں کی فراہمی اور ترقی سماج کے اہم مقاصد میں سے ایک ہونی چاہئے۔ اسن کے ساتھ ہی سماج کو چائلڈ لیبر کے نقصانات کی آگاہی دینا ضروری ہے۔ اس سے لوگوں کی سمجھ میں اضافہ ہوگا کہ چائلڈ لیبر کا خاتمہ کرنا ملک و قوم کے مستقبل کے لیے کیسے سود مند ہوسکتا ہے۔ حکومت کو ایسی موثر قانون سازی کرنی چاہئے جو چائلڈ لیبر کے خاتمے کی ضامن ہو۔  
سماج کو چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ معاشرے کے تعاون کے ساتھ امدادی ادارے بچوں کو مزدوری سے نکالنے میں معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔ اس وقت چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے سماجی تبدیلی اور مربوط اقدامات کی انتہائی اشد ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ معاشرہ بحیثیت مجموعی چائلڈ لیبر کو ناقابل قبول قرار دے۔ 
بچوں کی مزدوری کا خاتمہ ایک سماجی فرض ہے جس پر ہمیں مل کر عمل کرنا ہوگا۔ اگر ہم سماج کے مختلف اقسام میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے اپنا حصہ ادا کریں تو ہم ایک بہتر معاشرتی و معاشی مستقبل کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔

 

 

 

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

مناسک حج کا آغاز ، منٰی میں خیمہ بستی آباد

مغرب کے وقت تمام حجاجِ کرام کو ٹرین کے ذریعے میدان عرفات سے مزدلفہ لے جایا جائے گا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

مناسک حج کا آغاز ، منٰی میں خیمہ بستی آباد

مناسک حج کا آغاز 8 ذی الحجہ سے ہو گا، منیٰ کی خیمہ بستی آباد ہونے لگی۔ سعودی مکاتب نے عازمینِ حج کو سورج کی تمازت سے بچانے کیلئے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو بسوں کے ذریعے رہائش گاہوں سے منیٰ کی خیمہ بستی میں پہنچا نے کا آغاز کر دیاہے ۔ ترجمان مذہبی امور کے مطابق سعودی عرب میں جمعہ کے روز بیشتر عازمینِ حج وادی منیٰ میں خیمہ زن ہو جائیں گے جہاں وہ (فجر) ظہر، عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کریں گے۔ عازمین حج کو 9 ذی الحجہ کو علیٰ الصبح اور رات گئے منیٰ سے میدان عرفات مشاعر ٹرین کے ذریعے لے جایا جائے گا جہاں وہ خطبہ حج سننے کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کریں گے اور حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ کریں گے اور اپنے رب کے حضور مناجات اور دعائوں میں مشغول رہیں گے۔

مغرب کے وقت تمام حجاجِ کرام کو ٹرین کے ذریعے میدان عرفات سے مزدلفہ لے جایا جائے گا۔ یہاں پہنچ کر حجاجِ کرام مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کریں گے، 70 عدد کنکریاں اکٹھی کریں گے اور آرام کریں گے۔ اگلے روز 10 ذی الحجہ کو نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد روشنی پھیلنے تک وقوف مزدلفہ کریں گے اور مشاعر ٹرین کے ذریعے جمرات روانہ ہونگے۔ یہاں صرف بڑے شیطان کو 7 عدد کنکریاں ماریں گے اور قربانی کے اپنے مقام تک پہنچنے کے بعد حلق یا قصر کروا کر عام کپڑے زیب تب کریں گے۔

حجاجِ کرام 10 ذی الحجہ سے 12 ذی الحجہ کے دوران کسی بھی وقت طوافِ زیارت اور سعی کریں گے۔ 11 اور 12 ذی الحجہ کو جمرات پر تینوں شیطانوں کو 7، 7 کنکریاں مارنے کے بعد مکتب کی ہدایات کے مطابق یا تو بسوں کے ذریعے مکہ مکرمہ واپس آ جائیں گے یا 13 ذی الحجہ کی رمی کے بعد اپنی رہائش گاہوں پر واپس آ جائیں گے ۔ وطن واپسی سے قبل طواف وداع کریں گے۔ واضح رہے کہ پاکستانی حجاج کی وطن واپسی کیلئے پوسٹ حج پروازیں 20 جون سے شروع ہوں گی۔ ترجمان کے مطابق سعودی مکاتب نے سرکاری عازمینِ حج کی رہائش گاہوں پر منی میں داخلے کیلئے نسک کارڈ، ٹرین ٹکٹ کی تقسیم مکمل کر لی ہے ۔

نیز پاکستان حج مشن نے قربانی کے پیسے جمع کروانے والے عازمین کو رہائشوں پر نوٹس اور پاک حج موبائل ایپ پر نوٹیفکیشن کے ذریعے 10 ذی الحجہ کو ظہر اور عصر کے درمیان قربانی ہونے سے متعلق اطلاع دیتے ہوئے ہدایت دی کہ نماز عصر کے بعد احرام کی پابندیوں سے باہر آئیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll