ایرانی عوام جیت گئی، دو ماہ سے جاری احتجاج کے بعد ایرانی حکومت نے اخلاقی پولیس کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔


ایرانی میڈیا نے اٹارنی جنرل محمد جعفر منتظری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اخلاقی پولیس کا محمکہ ختم کر دیا جائے گا، اخلاقی پولیس کا عدلیہ سے کوئی تعلق نہیں اور اس لیے اسے ختم کر دیا گیا ہے۔
تاہم “اخلاقی” جرائم کے لیے سزائے موت اور قانونی کارروائی کا عمل جاری رہے گی، منتظری نے کہا کہ عدلیہ طرز عمل کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایران میں اخلاقی پولیس کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایرانی خواتین روایتی اسلامی لباس پہنیں، اور سر کو اچھے سے ڈھک کر رکھیں۔
واضح رہے کہ کردستان سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ مہسا امینی کو تہران میں اخلاقی پولیس نے 13 ستمبر کو ٹھیک سے اسکارف نہ پہننے پر گرفتار کیا تھا جو دوران حراست دم توڑ گئی تھیں، جس کے بعد سے ایران میں سخت احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، جس میں کئی شہری اپنی جان بھی کھو چکے ہیں۔

نادرانے مشین متعارف کر وا دی، عوام کو کیا فائدہ ہو گیا؟
- 6 گھنٹے قبل
گوگل جیمنائی کے صارفین کی تعداد کتنی ہو گئی؟
- 7 گھنٹے قبل

فیملی ڈرامہ ’’فرینڈز آف سیونٹیز‘‘ نے دھوم مچا دی
- ایک دن قبل
ایک اور لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- 40 منٹ قبل
بالی وڈ اسٹارمادھوری ڈکشت 24 سال بعد ٹی وی اسکرین پر جلوہ گر ہوں گی
- 7 گھنٹے قبل
وزیراعظم کی کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کے 3 سالہ آڈٹ کرانے کی ہدایت
- ایک دن قبل

پنجابی فلم ’’عشق بدمعاش‘‘ کا ٹریلر جاری
- ایک دن قبل
آئل ٹینکر پر حملہ، دو پاکستانیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
- ایک دن قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں ایک اور اضافہ
- ایک دن قبل

ورلڈکپ 2027، 10 ٹیموں کی براہِ راست انٹری
- ایک دن قبل
حج 2027کے لیے درخواست اور پاسپورٹ سے متعلق نئی ہدایات جاری کر دی گئیں
- ایک دن قبل

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پہلی قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا اجرا کر دیا
- ایک گھنٹہ قبل

