جی این این سوشل

پاکستان

آئی ایم ایف کو گیس مہنگی اور پیٹرول پر عائد لیوی میں اضافہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی

اسلام آباد: پاکستان نے انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) کو ملک میں جلد ہی گیس مہنگی کرنے کے علاوہ پیٹرول پر عائد لیوی میں اضافہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ 

پر شائع ہوا

کی طرف سے

آئی ایم ایف کو  گیس مہنگی اور پیٹرول پر عائد لیوی میں اضافہ کرنے کی یقین دہانی کرائی  گئی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

تفصیلات کے مطابق وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل مذاکرات ہوئے جس میں سیکرٹری خزانہ حامد یعقوب شیخ کی سربراہی میں وفد نے پاکستان کی نمائندگی کی جبکہ آئی ایم ایف کی طرف سے مشن چیف ناتھن پورٹر مذاکرات میں شریک ہوئے۔

ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی وفد نے آئی ایم ایف وفد کو معاشی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دینے کے ساتھ ساتھ رواں سال کیلئے مقررہ کردہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی اور آئی ایم ایف کو سیلاب سے متعلقہ منصوبوں پر آنے والے اخراجات سے آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد نے گیس کی قیمتوں میں جلد اضافے کے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ یکم جولائی 2022 سے ہو گا اور جلد ہی کابینہ اس کی منظوری بھی دیدے گی، گیس کے شعبے کا گردشی قرض بھی ختم کیا جارہا ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی بھی مرحلہ وار بڑھائی جا رہی ہے۔

ذرائع کے کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے مطالبہ کیا کہ پاکستان روپے کی قدر میں کمی کو مصنوعی طریقے سے نہ روکے جبکہ بجلی پر سبسڈی بھی ختم کی جائے، ٹیکس کا جی ڈی پی تناسب بڑھانے کیلئے اقدامات کئے جائیں اور مختلف شعبوں کو دئیے گئے استثنیٰ بھی ختم کئے جائیں۔ 

پاکستان

سندھ پولیس کی درخواست مسترد، شیخ رشید کو اڈیالہ جیل بھجوا دیا گیا

کراچی : اسلام آباد کی عدالت نے سندھ پولیس کی شیخ رشید کی راہداری ضمانت کیلئے درخواست مسترد کرکے انہیں اڈیالہ جیل بھجوانے کا حکم دے دیا ہے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سندھ پولیس کی درخواست مسترد، شیخ رشید کو اڈیالہ جیل بھجوا دیا گیا

کراچی : اسلام آباد کی عدالت نے سندھ پولیس کی شیخ رشید کی راہداری ضمانت کیلئے درخواست مسترد کرکے انہیں اڈیالہ جیل بھجوانے کا حکم دے دیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا۔ 

کراچی  کےتھانہ موچکو میں درج مقدمہ میں راہداری ریمانڈ کیلئے سندھ پولیس نے عدالت سے رجوع کیا تھا ۔جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر نے شیخ رشید کے راہداری ریمانڈ کی درخواست خارج  کردی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ متعلقہ عدالت سے اجازت لیں اور پھر آرڈر عدالت میں جمع کروائیں ۔ 

دوسری طرف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں دائر شیخ رشید کی ضمانت کی درخواست پر نوٹس جاری کردیے گئے ہیں۔  فریقین کو سوموار کیلئے نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

امریکہ نے سپر پاور کا مقام کھو دیا؟

امریکہ نے سپر پاور کا مقام کھو دیا؟

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

امریکہ نے سپر پاور کا مقام کھو دیا؟
امریکہ نے سپر پاور کا مقام کھو دیا
قیافہ شناسی
فرحان ملک
نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) اتحاد امریکہ اور کینیڈا کے علاوہ دس یورپی ممالک کیطرف سے World War 2 کے نتیجے میں اپنی حفاظت کیلئے بنایا جانے والے اتحاد کا بنیادی مقصد اُس وقت کی سپر پاور سوویت یونین سے نمٹنا تھا۔جنگ کے ایک فاتح کے طور پر دنیا میں اپنی قوت دکھانے کے بعد سوویت یونین فورسز کی ایک بڑی تعداد مشرقی یورپ میں موجود رہی،اور ماسکو نے مشرقی جرمنی سمیت کئی ممالک پر کافی اثر و رسوخ قائم کئے رکھا۔جرمنی کے دارالحکومت برلن پر سویت یونین افواج نے قبضہ کر لیا 1948 کے وسط میں سوویت یونین کے لیڈر جوزف سٹالن نے مغربی برلن کی ناکہ بندی شروع کر دی، جو اُس وقت مشترکہ طور پر امریکی، برطانوی اور فرانسیسی کنٹرول میں تھا۔شہر میں محاذ آرائی سے کامیابی سے گریز کیا گیا لیکن اس بحران نے سوویت طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد کی تشکیل کی تکمیل کا سفر تیز کر دیا۔1949 میں امریکہ اور 11 دیگر ممالک (برطانیہ، فرانس، اٹلی، کینیڈا، ناروے، بیلجیئم، ڈنمارک، نیدرلینڈز، پرتگال، آئس لینڈ اور لکسمبرگ) نے ایک سیاسی اور فوجی اتحاد تشکیل دیا۔ 1952 میں اس تنظیم میں یونان اور ترکی کو شامل کیا۔1955 میں مغربی جرمنی بھی اس اتحاد میں شامل ہوا۔وارسا معاہدہ 1991ء میں بیشتر سوشلسٹ حکومتوں اور سوویت اتحاد کے ٹوٹنے کے بعد تحلیل ہو گیا۔1999ء کو وارسا معاہدے کی سابق رکن ریاستیں ہنگری، پولینڈ اور چیک جمہوریہ نے نیٹو میں شمولیت اختیار کر لی۔ بلغاریہ، اسٹونیا، لتھووینیا، رومانیہ اور سلوواکیہ مارچ 2004ء میں نیٹو کا حصہ بنے جبکہ البانیہ یکم اپریل 2009ء کو شامل ہوا۔اور اسطرح انکے ارکان کی کل تعداد 29 ہو گئی۔ مونٹنیگرو جون 2017 میں اس کا حصہ بننے والا آخری ملک تھا۔
 
نیٹو اپنی قوت کیساتھ جس ملک میں داخل ہوا وہاں سے اسکو مجبوراً انخلاء کرنا پڑا، امریکہ 1975 سے منہ کے بل گرتا آ رہا ہے۔ امریکہ اب صرف اکیلا سپر پاور نہیں رہا۔ نیٹو اتحاد کافی جارحیت کا شکار ہوچکا ہے۔ روس کیساتھ جنگ مول نہیں لے سکتا۔ نیٹو کی تیس ممالک کا معاہدہ اختتام پذیر ہی سمجھا جائے کیونکہ تیس ممالک کا مشترکہ اعلامیہ تھا کہ نیٹو کے ممبر ممالک پر اٹیک پوری نیٹو پر حملہ تصور کیا جائے گا تمام ممالک ایک ساتھ ملکر ایک ہی فیصلے پر لبیک کہیں گے۔ مگر یوکرین کے روسی حملے پر نیٹو سمیت امریکا پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ نیٹو ممبر شپ رکھنے والے ممالک کی رائے تبدیل ہوچکی ہے۔پولینڈ اپنے طیارے یوکرین نہیں بھیجنا چاہتا۔یوکرین نے مزید TB-2 خریدنے کے لئے ترکی سے رابطہ کیا مگر نیٹو کی بے حسی پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔نیٹو کے اس عمل سے پوری دنیا کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔نیٹو کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کو ’فرسودہ‘ کہا تھا کہ اگر وہ تنظیم ’ٹوٹ جائے‘ تو انھیں ’کوئی مسئلہ‘ نہیں ہو گا۔امریکہ اتحادی ممبروں پر حملے کی صورت میں ان کا دفاع کرنے کے عزم کی پابندی کرنے یہاں تک کہ تنظیم کو بھی چھوڑ سکتا ہے۔2018 میں پھر ٹویٹ کیا کہ ’امریکہ کسی دوسرے ملک کے مقابلے میں نیٹو پر بہت زیادہ خرچ کر رہا ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے اور نہ ہی یہ قابل قبول ہے امریکہ خود تین چار سال پہلے سے نیٹو سے تنگ آ چکا ہے۔فرانسیسی صدر ایمنیوئل میکخواں نے کہاکہ نیٹو ’دماغی طور پر مردہ‘ ہے امریکہ کی نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں میں سنجیدگی پر کہا،امریکہ نیٹو کو اطلاع دیے بغیر شام سے فوجیوں کے انخلا کا فیصلہ کر لیا۔ فرانسیسی صدر نے اشارہ دیا تھا کہ وہ اس بات کا یقین نہیں کر سکتے کہ حملے کی صورت میں نیٹو کے ارکان ایک دوسرے کے دفاع کے لیے آئیں گے۔نیٹو کی ساخت کب سے ڈوب چکی تھی۔ جس کا فزیکل روس یوکرین تنازعہ پر نتائج سامنے آ گئے ہیں۔
 
روس نے جنگ کا پہلا objective حاصل کر لیا۔ دونباس اور کرائمیا کے درمیان لینڈ bridge کامیابی سے establish کر لیا۔ نیٹو مشکلات کی زد میں آگیا ہے نیٹو اگر روس کا مقابلہ کرتا ہے تو یہ عالمی جنگ یعنی تیسری جنگ عظیمWorld War 3 شروع ہوجائے گی۔ امریکہ جنگ لڑنے کی حالت میں نہیں ہے۔وہ پہلے کئی سالوں سے پٹتا آ رہا ہے۔ سوویت یونین والا فارمولہ Put کر دیا گیا ہےسویت یونین کا خاتمہ ہوا۔روس پیچھے چلا گیا، امریکہ اکیلا سپر پاور کے طور پر متعارف ہوا،مگر اب نیٹو کی بےحسی اور امریکہ کی بزدلی نے امریکہ کو اکیلے سپر پاور رہنے کا Label اتارنے پر مجبور کردیا۔ نیٹو بھی بڑی فوج کا مقام رکھنے والی فورسز بھی نہیں رہی۔ جنگیں یورپ نے شروع کیں تھیں ایشیا سے واپس یورپ کے گلے پڑ گئی ہیں۔ روس پھر سوویت یونین والی طاقت بحال کرنے کے قریب پہنچ رہا ہے۔روس نے اگلے چند ماہ میں ایک اینٹی فاشسٹ کانفرنس بلانے لگا ہے جس کے لیئے چین، سعودی عرب، پاکستان، انڈیا، عرب امارات، ازبکستان، آذربائجان اور ایتھوپیا سمیت دوسرے ممالک کو دعوت دی جائے گی۔ چین روس کی مدد کر کے سپر پاور کا اعلان بھی کر سکتا ہے۔ مگر اب نیٹو اور امریکہ پر کوئی ملک اعتماد نہیں کرے گا۔
پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

سابق صدر پرویز مشرف انتقال کر گئے

سابق صدرجنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف انتقال کر گئے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سابق صدر پرویز مشرف انتقال کر گئے

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف 79 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ سابق صدر پرویز مشرف کافی عرصے سے علیل تھے اور دبئی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے ۔

سابق صدر پرویز مشرف 11 اگست 1943ء کو دہلی میں پیدا ہوئے، انہوں نے کراچی کے سینٹ پیٹرک ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ بعد میں ایف سی کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور 1961ء میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا۔

سابق صدر پرویز مشرف نے بعد میں اسپیشل سروسز گروپ میں شمولیت اختیار کی، انہوں نے 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں بھی حصہ لیا۔

پرویز مشرف 7 اکتوبر 1998ء کو چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر فائز ہوئے۔انہوں  نے 12 اکتوبر 1999ء کو نواز شریف حکومت ختم کر کے چیف ایگزیکٹیو کا عہدہ سنبھالا۔پرویز مشرف نے نائن الیون کے حملے کے بعد فرنٹ لائن اتحادی بننے کی امریکی پیشکش قبول کی۔

اپریل 2002ء میں ریفرنڈم کرا کے پرویز مشرف باقاعدہ صدرِ پاکستان منتخب ہوئے۔پرویز مشرف 2004ء میں آئین میں 17 ویں ترمیم کے ذریعے مزید 5 سال کے لیے باوردی صدر منتخب ہوئے۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے نومبر 2007ء میں آئین مخالف اقدامات کر کے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو معزول کیا۔ وہ 18 اگست2008ء کو صدارت سے مستعفی ہو کر ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll