ڈیوٹی مجسٹریٹ نوید خان نے کہا کہ بس پانچ دس منٹ میں فیصلہ سنا دیتا ہوں۔


اسلام آباد عدالت نے تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف الیکشن کمیشن کی جانب سے درج کرائے گئے مقدمے میں جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ سناتے ہوئے 2 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ، پولیس کی جانب سے 8 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی ۔ ڈیوٹی مجسٹریٹ نوید خان نے فیصلہ سنایا ۔ عدالت نے فواد چوہدری کو 27 تاریخ کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔ فواد چوہدری پر الیکشن کمیشن کو دھمکانے کا کیس درج کیاگیا ہے ۔
اس سے قبل اسلام آباد کی عدالت میں تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کیخلاف الیکشن کمیشن کی جانب سے درج کرائے گئے مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں پولیس کی جانب سے8روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر ڈیوٹی مجسٹریٹ نوید خان نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔
پولیس کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پرفیصلہ محفوظ ہونے پررہنماتحریک انصاف فواد چودھری کاعدالت سے کہنا تھا کہ جب تک فیصلہ نہیں آتا مجھے فیملی سے ملنے کی اجازت دی جائے۔
ڈیوٹی مجسٹریٹ نوید خان نے کہا کہ بس پانچ دس منٹ میں فیصلہ سنا دیتا ہوں۔ عدالت نے فیصلے تک فواد چوہدری کو فیملی سے ملاقات کی اجازت دیدی۔ فواد چوہدری کو کمرہ عدالت سے ہتھکڑی لگائے ہوئے بخشی خانہ منتقل کر دیا گیا۔
اہل خانہ سے ملاقات کے بعد فواد چودھری کو میڈیکل کے لیے پمز لایاگیا۔کارڈک سینٹر میں موجود ڈاکٹرز نے فواد چوہدری کا طبی معائنہ کیا۔ڈاکٹرز نے فواد چوہدری کو تندرست قرار دے دیا۔
دوسری جانب فواد چوہدری کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ تحریر کر لیا گیا ۔عملہ فیصلے کا پرنٹ نکال کر جج کے دستخط کرانے لے گیا۔
یہ بھی پڑھیں :-مجھ پر تشدد نہیں کیا گیا، لیکن رویہ افسوسناک تھا، فواد چوہدری
اسلام آباد میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے سے قبل کمرہ عدالت چھوٹا ہونے کی وجہ سے سماعت کی جگہ تبدیل کی گئی۔ اس دوران پی ٹی آئی کارکنان نے حکومت مخالف نعرے بازی کی اور ان کی پولیس اہلکاروں کے ساتھ دھکم پیل بھی ہوئی، پولیس افسر کی جانب سے احاطہ عدالت کو چیک کرنے کے بعد فواد چودھری کو منہ پر سفید چادر سے ڈھانپ کے کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔
سماعت کے دوران فواد چودھری کے بھائی فیصل چودھری نے وہاں موجود تحریک انصاف کے کارکنوں سے کمرہ عدالت سے باہر نکلنے کی اپیل بھی کی اور کہا کہ آپ کی فواد چودھری سے ملاقات بھی کروائیں گے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نوید خان کی عدالت میں سیکرٹری الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا تو پی ٹی آئی کے وکلاء نے فواد چودھری کی ہتھکڑی کھوکنے کی استدعا کی، فواد چودھری نے عدالت سے کہا اسلام آباد پولیس کو کہیں کہ اس طرح نہ کریں، باہر 1500 پولیس والے ہیں، مجھے ہتھکڑی لگائی ہوئی، میں سپریم کورٹ کا وکیل ہوں، پانچ منٹ فیملی سے بات کرنی ہے اور پانچ منٹ اپنے وکلاء سے۔
مزید پڑھیں :- حکومت عمران خان کی گرفتاری کے لئے میٹنگ کر رہی ہے، شیخ رشید
جس کے بعد الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے ایف آئی آر کا متن پڑھ کر سنایا، اپنے دلائل میں انکا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، الیکشن کمیشن کے پاس انتخابات کروانے کے تمام اختیارات ہیں، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت الیکشن کمیشن کو ٹارگٹ کیا جا رہا، ملزم نے شہریوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی، یہ عوام کیلئے رول ماڈل ہیں، ان کی تقریر کا مقصد گروپس کو اشتعال دلانا تھا۔
وکیل سعد حسن نے عدالت کو بتایا کہ فواد چودھری کی تقریر کرنے کا مقصد سب کو اکسانا تھا، فواد چودھری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے گھروں تک پہنچیں گے، ان کا مقصد الیکشن کمیشن کے خلاف نفرت کو فروغ دینا تھا، ایف آئی آر میں بغاوت کی دفعات بھی شامل ہیں، الیکشن کمیشن کے ممبران کو دھمکایا جا رہا ہے، پہلے ریمانڈ کیلئے ملزم کو پیش گیا ہے، مزید تفتیش کرنی ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ عدالت کے سامنے مواد رکھ سکتا ہوں کہ الیکشن کمیشن کو پرائیویٹ لوگوں کی جانب سے دھمکی آمیز خط لکھے جا رہے ہیں، میں وہ مواد عدالت کو چیمبر میں دکھا سکتا ہوں، پبلک میں نہیں، فواد چودھری کے خلاف کافی الیکٹرانک مواد موجود ہے، میں الزامات پڑھ رہا تھا تو فواد چودھری انشاللہ ماشاءاللہ کہہ رہےتھے۔
مزید پڑھیں :-اسلام آباد : فواد چوہدری کو چہرہ ڈھانپ کر ایف ایٹ کچہری پہنچا دیا گیا
وکیل سعد حسن نے مزید کہا کہ فواد چودھری نے جو تقریر میں کہا وہ انہوں نے مانا بھی ہے، کیا فواد چودھری کے حوالے سے فیصلہ کرنا درست نہیں، ان کی تقریر کے پیچھے لوگوں کا معلوم کرنا ہے، ان کی تقریر کے پیچھے ایک مہم چل رہی ہے، فواد چودھری کے بیان پر پولیس کو ابھی تفتیش کرنی ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ فواد چودھری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی حالت اس وقت منشی کی ہے، جس پر پی ٹی آئی رہنما نے جواب دیتے ہوئے کہا تو الیکشن کمیشن کی حالت منشی کی ہوئی ہوئی ہے، جس پر عدالت نے فواد چودھری کو کہا کہ آپ ایک جانب آ جائیں، دوسرے فریقین کو دوسری طرف آنے دیں۔
فواد چودھری نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میرے خلاف مقدمے میں بغاوت کی دفعات شامل کی ہیں، مجھے نیلسن منڈیلا، ابو الکلام آزاد جیسے بڑے رہنماؤں کی صف میں شامل کر دیا ہے، اس ایف آئی آر کو خارج کرنا چاہئے، یہ بنتی نہیں ہے، بغاوت کی دفعہ بھی مقدمہ میں لگا دی گئی ہے، آزادی کیلئے جدوجہد کرنے والوں کے خلاف بھی ایسی ہی باتیں ہوتی تھیں۔
مزید پڑھیں :-صدرعارف علوی کی عمران خان سے ہنگامی ملاقات ،انتہائی قدم سے روک دیا
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ میرے خلاف تو مقدمہ بنتا ہی نہیں ہے، ایسے تو جمہوریت ختم ہو جائے گی، کوئی تنقید نہیں کر پائے گا، میں تحریک انصاف کا ترجمان ہوں، جو میں بات کروں وہ میری پارٹی کی پالیسی ہوتی ہے، ضروری نہیں کہ جو میں بات کروں وہ میرا ذاتی خیال ہو، الیکشن کمیشن نہ ملک کی اسٹیٹ ہے نہ حکومت ہے۔
انہوں نے کہا اس ایف آئی آر کو قانونی ڈاکیومنٹ مان لیا گیا تو یہ عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی، ان کے دلائل کو مان لیں تو اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی پالیسی یا ادارے پر تنقید ہو تو بغاوت کا مقدمہ درج کر دیا جائے گا، میں کسی اجتماع سے خطاب نہیں کر رہا تھا، میڈیا ٹاک کر رہا تھا، میں دھمکی نہیں دے رہا تھا ، سمجھا رہا تھا، مجھے اسلام آباد پولیس نے گرفتار نہیں کیا، لاہور پولیس نے گرفتار کیا۔

لاہور میں بسنت کی تاریخوں کا اعلان
- 11 hours ago

پاکستان، ترکیے،قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی صنعتی تعاون کے معاہدے پر دستخط کردیے
- 2 days ago

بالی وڈ سپر اسٹار امیتابھ بچن نے سوشل میڈیا سے دور ہونے کی وجہ بتادی
- a day ago

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اچانک بڑی کمی
- 10 hours ago

پاکستان اوریورپی یونین کا دہشت گردی کے خلاف تعاون جاری رکھنے پر اتفاق
- a day ago

پاکستان میں مہنگائی: آئی ایم ایف کے بعد ورلڈ بینک نے بھی مہنگائی بڑھنے سے خبردار کردیا
- a day ago

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فلسطینیوں کے حملہ، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 زخمی
- 8 hours ago

لاہور:موٹر سائیکل سوار شہری کا اسکوٹی سوار لڑکی پر تشدد، ملزم گرفتار
- 10 hours ago

بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کیخلاف کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی: فیلڈ مارشل عاصم منیر
- 11 hours ago

سہ ملکی سیریز: سری لنکا نے انگلینڈ کوتاریخی شکست دے دی
- a day ago

نئے صوبوں کا قیام اور گورننس اصلkاحات ناگزیر ہیں، ابراہیم حسن مراد
- an hour ago
اوپن اے آئی نے اے آئی ماڈلز کی جانب سے اپنی مانیٹرنگ خود ڈس ایبل کرنیکا انکشاف کیا ہے
- 2 days ago







