جی این این سوشل

پاکستان

عالمی سفارتی محاذ پر پاکستان کی بڑی کامیابی

یورپی یونین نے پاکستان کا نام ہائی رسک ممالک کی فہرست سے خارج کردیا۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

عالمی سفارتی محاذ پر پاکستان کی بڑی کامیابی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

وزیرتجارت نویدقمر کا کہنا ہے کہ پاکستان کا نام ہائی رسک ممالک کی فہرست سے خارج ہونے کے بعد پاکستانی تاجروں کو یورپی قوانین کی اضافی نگرانی سے نہیں گزرنا پڑے گا۔

نویدقمر کا مزید کہنا تھا کہ فیصلے کے تحت اب یورپ کےلیگل اور اکنامک آپریٹرز پاکستانیوں کی اضافی چھان بین نہیں کریں گے۔

 

 

خیال رہے کہ 14 نومبر کو برطانیہ نے بھی پاکستان کو ہائی رسک تھرڈ ممالک کی فہرست سے نکال دیا تھا۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کے ایکشن پلانز پر جلد عمل کے نتیجے میں برطانیہ نے یہ اقدام کیا ہے۔

اس حوالے سے برطانوی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ برطانیہ منی لانڈرنگ، دہشتگردی کی فنانسنگ روکنےکی پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کرتا ہے۔

پاکستان

کم عمری میں بچے محنت مزدوری کیوں کرتے ہیں ؟

چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لیے دنیا بھر میں قانون سازی کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی چائلڈ لیبر سے نجات کے لیے قانون پاس کیا گیا ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

کم عمری میں بچے  محنت مزدوری کیوں کرتے ہیں ؟

ہر سال 12 جون کو عالمی سطح پر چائلڈ لیبر ڈے منایا جاتا ہے۔ رواں سال بھی عالمی سطح پر چائلڈ لیبر ڈے  25 سال گرہ منائی گئی، جس کے لیے تھیم ’’ لیٹس ایکٹ آن آور کمٹمنٹ، اینڈ چائلڈ لیبر‘‘ کا انتخاب کیا گیا۔ تاریخ میں پہلی بار 2002 میں چائلڈ لیبر کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزییشن (آئی ایل او) کی سفارشات پر12 جون کو بطور چائلڈ لیبر ڈے مختص کیا گیا۔ 
یونیسیف کے مطابق دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک بچہ چائلڈ لیبر کا شکار ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 160 ملین سے زائد بچے چائلڈ لیبر سے متاثر ہو رہے ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ تعداد برا عظم افریقہ سے تعلق رکھنے والے بچوں کی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف افریقہ میں 72 ملین سے زائد بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ دوسرے نمبر پر ایشائی ممالک کے 62 ملین بچے، امریکہ کے 11 ملین، یورپ اور مرکزی ایشیا کے 6 ملین، جبکہ متحدہ عرب امارات کے 1 ملین بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ 
ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ چائلڈ لیبرکیا ہے؟ 
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن(آئی ایل او) کے مطابق ایسا تفویض شدہ کام جو بچوں کو ان کی معصومیت، تخلیقی صلاحیتوں اور وقار سے محروم کر دے اور بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشونما پر براہ راست برااثر ڈالے، چائلڈ لیبر کے ضمرے میں آتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایسا کوئی بھی کام جس میں بچے کو کمانے کی عمر سے قبل مشغول کیا جائے، مگر اس کام کا بچے  کی صحت و تعلیم پر کوئی مضر اثر نہ ہو، چائلڈ لیبر کے ضمرے میں نہیں آتا۔ 
بد قسمتی سے دنیا بھر میں چائلڈ لیبرکی لعنت اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے۔ مختلف وجوہات کی بناء پر بچوں کو مجبورا اپنے کھیلنے کودنے کی عمر میں چائلڈ لیبر کا شکار ہوتے ہیں۔
یوں تو دنیا بھر مں چائلڈ لیبر کی وجوہات مختلف ہیں، مگرعالمی طور پرچائلڈ لیبر کی سب سے بڑی وجہ غربت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں چائلڈ لیبر کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ غریب لوگ اپنی آمدن کے ذرائع بڑھانے کے لیے اپنے گھر کے چھوٹے بچوں کو بھی کام میں جت دیتے ہیں، جس کے نتیجہ میں چھوٹے بچوں کا معصوم ذہن صحیح نشونما نہیں کر پاتا اور وہ معاشرے کے گرداب میں پھنس جاتے ہیں۔ 
کچھ جگہوں پر لوگوں نے چائلڈ لیبر کو بطور رواج سمجھ لیا ہے، جہاں بچے اپنے مالکان کا کام کرتے ہیں اور بدلے  میں مالکان سماجی خدمت سمجھتے ہوئے بچوں کو ان کی خدمت کے عوض چند اونے پونے دام پکڑا دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ بچوں سے کام لینا بجٹ کے لحاظ سے بہت موزوں رہتا ہے کیوں کہ بچوں کو کسی بالغ کی نسبت زیادہ معاوضہ ادا نہیں کرنا پڑتا۔ معاشرے میں موجود طبقاتی نظام اور جنس پرستی بھی چائلڈ لیبر کی ایک بڑی وجہ ہے۔
چائلڈ لیبر کے شکار بچے مختلف قسم کے کاموں میں مشغول کیے جاتے ہیں۔ جن میں زراعت، کان کنی، بھٹہ مزدوری، گھر کی نوکر چاکری، ہوٹلوں اور دکانوں پر کام کاج اور صنعتوں میں کام سر فہرست ہیں۔ مزید برآں، جنگی مہم جوئیوں کے دوران، بچوں کو جنگی حکمت عملی کے طور پر بطور جا سوس اور مددگار استعمال کیا جاتا ہے۔
چائلڈ لیبر بچوں پر بہت سنگین  اثرات مرتب کرتی ہے۔ ایسے بچے جو چائلڈ لیبر کا شکار ہوتے ہیں، وہ ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی طور پر مفلوج ہو جاتے ہیں۔ ایسے بچے نہ تو اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز رکھ پاتے اور نہ ہی ان کا کام ان کے ایک بہتر مستقبل کا ضامن ہوتا ہے۔
چائلڈ لیبر کی روک تھام کے لیے دنیا بھر میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن، یونیسیف سمیت متعدد ادارے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی اقوام متحدہ کا رکن ملک ہونے کے ناطے اقوام متحدہ کے چارٹر اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے ساتھ کام کرتا ہے۔ پاکستان میں یونیسیف کے مشنز بھی چائلڈ لیبر کے تدارک کے لیے کوشاں ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان میں سپارک( سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چلڈرن) کام کر رہا ہے۔ 
چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لیے دنیا بھر میں قانون سازی کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی چائلڈ لیبر سے نجات کے لیے قانون پاس کیا گیا ہے۔ بچوں کی ملازمت کا ایکٹ 1991 پاکستان کا وہ تازہ ترین قانون ہے جسے خاص طور پر چائلڈ لیبر کے خاتمے کے تناظر میں نافذ کیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت 14 سال سے کم عمر کے بچوں کو ذہنی و جسمانی خطرات والے شعبوں میں کام کرنے پر پابندی ہے۔

ملکی ترقی اور معاشرتی بہبود کے حصول میں بچوں کی مزدوری( چائلڈ لیبر) کا خاتمہ ایک اہم معاملہ ہے۔ چائلڈ لیبر نے غربت اور تعلیم کی کمی جیسے مسائل کو اور بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف حکومتی اقدامات پر مشتمل نہیں ہو سکتا، بلکہ معاشرتی اور سماجی سطح پر تبدیلی اور اقدامات بھی ضروری ہیں۔  
معاشرہ مجموعی طور پر چائلڈ لیبر کے خاتمے میں ایک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ معاملہ ہمارے معاشرتی اقداراور سماجی اعتقادات کے ساتھ بھی وابستہ ہے۔  
چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ ہر بچہ اس کا حق حاصل کر سکے۔ تعلیمی اداروں کی فراہمی اور ترقی سماج کے اہم مقاصد میں سے ایک ہونی چاہئے۔ اسن کے ساتھ ہی سماج کو چائلڈ لیبر کے نقصانات کی آگاہی دینا ضروری ہے۔ اس سے لوگوں کی سمجھ میں اضافہ ہوگا کہ چائلڈ لیبر کا خاتمہ کرنا ملک و قوم کے مستقبل کے لیے کیسے سود مند ہوسکتا ہے۔ حکومت کو ایسی موثر قانون سازی کرنی چاہئے جو چائلڈ لیبر کے خاتمے کی ضامن ہو۔  
سماج کو چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ معاشرے کے تعاون کے ساتھ امدادی ادارے بچوں کو مزدوری سے نکالنے میں معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔ اس وقت چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے سماجی تبدیلی اور مربوط اقدامات کی انتہائی اشد ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ معاشرہ بحیثیت مجموعی چائلڈ لیبر کو ناقابل قبول قرار دے۔ 
بچوں کی مزدوری کا خاتمہ ایک سماجی فرض ہے جس پر ہمیں مل کر عمل کرنا ہوگا۔ اگر ہم سماج کے مختلف اقسام میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے اپنا حصہ ادا کریں تو ہم ایک بہتر معاشرتی و معاشی مستقبل کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔

 

 

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

اقوام متحدہ مقبو ضہ کشمیر میں لا پتہ ہونے والے افراد کا مسئلہ حل کرے ، پاکستان

غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں لاپتہ افراد کے واقعات نے آدھی بیوائوں کے المناک واقعہ کو جنم دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اقوام متحدہ مقبو ضہ کشمیر میں لا پتہ ہونے  والے افراد کا مسئلہ حل کرے ، پاکستان

پاکستان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے  کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں لاپتہ افراد کے مخصوص معاملات کو حل کرے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں آریا فارمولا اجلاس سے خطاب میں اپنے شوہروں، بیٹوں اور بھائیوں کی قسمت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال سے دوچار خواتین کا حوالہ دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب ایمبسیڈر عثمان جدون نیک ہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں لاپتہ افراد کے واقعات نے آدھی بیوائوں کے المناک واقعہ کو جنم دیا۔

انہوں نے کہا پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مسلح تصادم میں لاپتہ افراد کے معاملے پر سب سے موثر جواب بین الاقوامی قوانین پر سختی کے ساتھ عملدرآمد اور احتساب کا عمل ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

تفریح

سنی دیول کا فلم بارڈر 2 کے سیکوئیل کا اعلان 

اداکار سنی دیول نے اپنے چاہنے والوں کو انڈیا کی ایک جنگی کہانی پر مبنی سپر ہٹ فلم بارڈر کے پارٹ 2 کے بننے کا پیغام دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سنی دیول کا فلم بارڈر 2 کے سیکوئیل کا اعلان 

معروف بھارتی اداکار سنی دیول کے انسٹا گرام اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو جاری ہوئی جس میں سنی دیول نے ایک سپاہی کی آواز میں اپنی ایک پرانی, مگر مشہور زمانہ فلم کے سیکوئیل کے بننے کا عندیہ دیا۔

اداکار سنی دیول نے اپنے چاہنے والوں کو انڈیا کی ایک جنگی کہانی پر مبنی سپر ہٹ فلم بارڈر کے پارٹ 2 کے بننے کا پیغام دیا۔  حالیہ جاری ویڈیو بظاہر ایک ٹیزر ہے جس میں کہا گیا کہ 27 برس کے بعد ایک فوجی اپنے کیے گئے وعدے کے تحت واپس آرہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فلم کی شوٹنگ کا باقاعدہ آغاز رواں سال اکتوبر میں ہوگا۔  اس فلم کے پروڈیوسرز میں جے پی دتاکے ساتھ ندھی دتا اور بھوشن کمار بھی شامل ہیں، جبکہ انوراگ سنگھ بطور ہدایت کار کام کریں گے۔

بالی ووڈ کی مشہور زمانہ فلم بارڈر 1997 میں جاری ہوئی۔ یہ فلم در اصل فوجیوں کی ایک کہانی تھی، جس میں 120 فوجی ساری رات اپنی پوسٹ کی حفاظت کے لیے اپنا تن من دھن ایک کر دیتے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll