شہباز شریف کا اتحادی جماعتوں کے رہنمائوں کے اجلاس سے خطاب


اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ذاتی اقتدار کے حصول کیلئے پی ٹی آئی نے ہر حربہ استعمال کیا، افواج پاکستان اور اس کی قیادت کو بیرونی ایجنٹوں کے ذریعے بدنام کیا گیا، معاشرے میں انتشار اور تقسیم در تقسیم پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔
اس سب کچھ کے باوجود اتحادی حکومت گفتگو کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہتی، پارلیمانی کمیٹی پارلیمان کے ذریعے گنجائش پیدا کر سکتی ہے، ایک دن الیکشن کی تاریخ پر سب کو اکٹھا کرنے کیلئے ہم نے اپنی آخری کوشش کر لی، پارلیمان جو فیصلے کرے گی ان کا احترام کریں گے، سپریم کورٹ کا کام پنچائیت یا ثالثی کرنا نہیں۔
وہ بدھ کو اتحادی جماعتوں کے رہنمائوں کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اجلاس میں شریک اتحادی جماعتوں کے رہنمائوں کو اجلاس میں خوش آمدید کہتے ہوئے گذشتہ عید کی مبارکباد دی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج ایک بار پھر اتحادی جماعتوں کے رہنما مشاورت کیلئے جمع ہوئے ہیں، ماضی قریب میں اتحادی رہنمائوں کی جو نشستیں ہوئیں ان میں ملک کو درپیش صورتحال، حالات اور چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس کے نتیجہ میں اقدامات کئے گئے۔
قومی اسمبلی اور پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں بھی ان چیلنجز پر بات چیت ہوئی اور عدالت عظمیٰ کے حوالہ سے معاملات پر آئینی و قانونی اقدامات اٹھائے گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ صورتحال ابھی بھی بڑی چیلنجنگ ہے، کل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ، جس کو پارلیمان نے قبول نہیں کیا اور یہ ایک متفقہ رائے اور فیصلہ تھا کہ ہم چار تین کا فیصلہ مانتے ہیں، پانچ دو یا تین دو کا نہیں، اس پر پوری پختگی سے ہم نے اپنا مؤقف قائم کیا اور آج بھی ہم سب یہ سمجھتے اور مانتے ہیں کہ فیصلہ چار تین کا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مگر سپریم کورٹ اس حوالہ سے اپنے تین رکنی بنچ کے ساتھ معاملات کو آگے لے کر جانا چاہتی ہے تو اس بارے میں ہم آج پھر اکٹھے ہوئے ہیں تاکہ اپنے پہلے فیصلے کا اعادہ کریں۔
وزیراعظم نے کہا کہ کل اسی بنچ نے الیکشن کیلئے فنڈز کی فراہمی کے حوالہ سے جواب مانگا ہے، اس سے پہلے سپریم کورٹ نے جو فیصلے دیئے تھے ان کو پارلیمان نے ڈیل کیا اور آج بھی میں سمجھتا ہوں کہ پارلیمان نے جو فیصلے دیئے ہیں اور قراردادیں منظور کی ہیں یہ معاملہ بھی پارلیمان چاہے گی کہ اس کے سامنے لایا جائے اور وہ قوم کے سامنے اپنی رائے کو سامنے لائے، ہمارا یہ اخلاقی اور سیاسی فرض بنتا ہے کہ پارلیمان نے جو فیصلے دیئے ہیں ہم ان کا احترام کریں۔

آپریشن غضب للحق کے ثمرات، ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں 59 فیصد کمی
- 6 hours ago

لاہورکے نیشنل ہسپتال میں ریزوم تھراپی کا کامیاب آپریشن
- 12 hours ago

برطانیہ کسی بھی صورت ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کا حصہ نہیں بنے گا،کئیر اسٹارمر
- 11 hours ago

امریکی سفارت کاری محض ایک ڈھونگ ہے،جارحیت کا مقابلہ کرنے ہر صورتحال کے لیے تیار ہیں،ایران
- 12 hours ago

مہنگا سونا اچانک ہزاروں روپے سستا ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 12 hours ago

ٹرمپ کی باتیں مضحکہ خیز، ایرانی قوم اور افواج ملک پر حملہ کرنے والوں کے پاؤں کاٹ دیں گے،ترجمان
- 11 hours ago

معاشی بچت، جنگ بندی کی کوششیں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے،شہباز شریف
- 10 hours ago

خیبر پختونخوا کی مختلف جامعات کے طلباء کیلئے آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام جاری
- 11 hours ago

اسحا ق ڈار کا مصری و ازبک وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، دو طرفہ اور علاقائی صورتحال پر گفتگو
- 6 hours ago

ایران جنگ:اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رحجان ، 100 انڈیکس 3500 پوائنٹس گرگیا
- 8 hours ago

پی ایس ایل: اسلام آباد یونائیٹڈ نےکوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی
- 8 hours ago

اگردشمن کوئی زمینی آپریشن کی کوشش کرے تو دشمن کے کسی بھی فوجی کو زندہ نہیں بچنا چاہیے،ایرانی آرمی چیف
- 10 hours ago











