پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک ایسے نقصانات کا متحمل نہیں ہو سکتا،وزیر اعظم پاکستان


وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے بچنے کیلئے اہم فیصلے کرنا ہوں گے، حالیہ سیلاب سے پاکستان میں فصلوں، مال مویشی اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا، پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک ایسے نقصانات کا متحمل نہیں ہو سکتا، مشکل وقت میں دوست ممالک نے بھرپور مدد کی۔
پاکستان کے ماحولیاتی سفر پر پیشرفت اور جائزہ سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گذشتہ سال موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان میں شدید سیلاب آیا جس سے بڑے پیمانے پر پاکستان کی زرخیز زمین بنجر ہو گئی، کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا، لاکھوں گھروں کو نقصان پہنچا۔ وادی سوات میں دریا کے کنارے قائم ہوٹل مکمل طور پر بہہ گیا، سندھ میں بارشوں نے تباہی مچائی، اپنی زندگی میں اس سے زیادہ تباہ کن سیلاب نہیں دیکھا، غیر ملکی ڈونرز اور دوستوں نے اس مشکل گھڑی میں بھرپور مدد کی، حکومت نے متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر ٹیم ورک سے کام کیا، ہم نے سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے اربوں روپے خرچ کئے تاہم ابھی تک ان کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک جن کا کاربن کے اخراج میں حصہ بہت کم ہے ان کا کیا قصور ہے، ان کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کئی سال اس کے اثرات بھگتنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے قرضے لینا پڑتے ہیں، یہ شیطانی چکر ہے جس سے نکلنے کی ضرورت ہے، اس امید پر کہ ایسا دوبارہ نہیں ہو گا ہمیں اپنا کام نہیں روکنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بڑی کوششوں کے بعد آئی ایم ایف سے قرضہ ملا جس میں دوست ممالک نے بھرپور مدد کی۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے، یہ موت کا پھندہ ہے اور اس سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری درآمدات برآمدات میں بڑا فرق ہے، اس چیلنج سے نمٹنا آسان نہیں، ہمیں ایسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اضافی مالیات کی ضرورت ہے، ہمیں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں موسمیاتی تبدیلی کے معاملہ سے نمٹنے کیلئے ٹھوس تجاویز دینا ہوں گی اور پھر ان پر من و عن عمل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب کے دوران ڈونر اور دوست ممالک کی بھرپور اور بروقت مدد پر ان کا شکرگزار ہوں، شرم الشیخ کانفرنس، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت دیگر فورم پر شاندار ماحولیاتی سفارتکاری پر شیری رحمن مبارکباد کی مستحق ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کی ضرورت ہے، پاکستان کے مفاد میں منصوبے بنانے اور سخت محنت کی ضرورت ہے، ایسی قدرتی آفات دوسرے ممالک میں بھی آتی ہیں، پاکستان موسمیاتی صورتحال سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، ہماری طرح ان ممالک میں اپنی غلطیوں سے نقصان نہیں ہوتا، ہمیں چیلنج کو قبول اور وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے، اپنی قوم اور نوجوان نسل کو ایسی قدرتی آفات کے نقصانات سے بچانا چاہئے

لاہور چیمبر میں برآمدات کے فروغ سمیت ایکسپورٹرز کے مسائل کے حل کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد
- ایک دن قبل

امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کی اہم شقیں سامنے آ گئیں
- 2 گھنٹے قبل

ایران،امریکا امن معاہدہ 24 گھنٹوں میں حتمی شکل اختیار کرلے گا،وزیراعظم
- ایک دن قبل

اسحا ق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ،خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال
- ایک دن قبل

اسحاق ڈارکا سعودی وزیر خارجہ سے ا ٹیلیفونک رابطہ،امریکہ،ایران مذاکرات کا خیرمقدم
- ایک دن قبل

چیئرمین یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد کی پنجاب یونیورسٹی کے فلم اینڈ براڈکاسٹنگ ڈیپارٹمنٹ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی
- ایک دن قبل

سونا مسلسل دوسرے روز ہزاروں روپے مہنگا، نئی قیمت کیا ہو گئی؟
- ایک دن قبل

شہباز شریف سے قطر کے وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ،پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا
- ایک دن قبل

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کا اعلان ہو گیا،تقریبات 6 روز تک جاری رہیں گی
- ایک دن قبل
.jpg&w=3840&q=75)
اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ کا رابطہ، ایران امریکا پیشرفت پر اطمینان کا اظہار
- 2 گھنٹے قبل

برصغیر کےعظیم گلوکار، شہنشاہ غزل استاد مہدی حسن کو مداحوں سے بچھڑے14 برس بیت گئے
- ایک دن قبل

افغانستان میں موجود دہشت گرد پورے خطے کیلئے بڑا خطرہ ہے،دی ڈپلومیٹ
- 2 گھنٹے قبل




.webp&w=3840&q=75)





