کھیلوں کے لیے مشہور کراچی کا علاقہ" لیاری "جہاں گینگ وار کے خون آشام دور میں کھیل اور کھلاڑی پنپتے رہے ۔ گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور گولوں کی گھن گرج میں بھی میدان آباد رہے ۔ اس اُجڑی بستی کے مکینوں کی کھیلوں سے والہانہ محبت کو بے امنی تو شکست دے نہ سکی مگر کورونا وبانے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔

رپورٹ : احسان خان
آج لیاری میں باکسنگ کے رنگ سنسان ہیں ، فٹ بال کے میدان ویران پڑے ہیں ۔ سائیکلنگ ہورہی ہے ناں جمناسٹک ۔بلکہ گدھا گاڑی ریس کو ہوئے عرصہ بیت چکا ہے ۔۔
کھیلوں کے اس مرکز کی پہچان یہاں کے ایتھلیٹس ہیں ۔ جنھوں نے ناکافی سہولیات اور حکومتی عدم دلچسپی کے باوجود اپنی محنت اور لگن کے باعث نہ صرف دنیائے فٹ بال بلکہ باکسنگ کے کئی بین الاقوامی مقابلوں میں بھی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے۔یہاں ہر گلی، محلے چوراہے، گھروں کی چھتوں غرض ہرجگہ فٹبال کھیلنے ، اُسے دیکھنے ، سمجھنے اور اس سے محبت کرنے والا ملے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ لیاری منی برزایل کہلاتا ہے اور قومی فٹبال ٹیم میں ہردور میں یہاں کے فٹبالرز شامل رہے ہیں ۔ تاہم موجودہ صورتحال میں لیاری میں بھی فٹبال کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں ۔
قومی فٹبال ٹیم کے کپتان اورلیاری کی ایک اکیڈمی کی نمائندگی کرنے والے صدام حسین کہتے ہیں 'فیڈریشن کے معاملات کے بعد کورونا کی آمد نے لیاری کے فٹبالرز کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔لیاری کا صرف ایک ضلعے یا شہر سے نہیں بلکہ پورے ملک کی فٹبال میں ایک اہم کردار ہے ۔ کورونا کی تیسری لہرسے ملک بھر کی طرح لیاری میں بھی کھیلوں کی سرگرمیاں متاثرہوئی ہیں ، کئی ٹورنامنٹس کو ملتوی یا پھر منسوخ کرنا پڑا۔ بڑے پیمانے پر ایونٹس نہ ہونے اور ٹریننگ کی اجازت نہ ملنے کے باعث کھلاڑی "ڈپریشن" کا شکار ہو رہے ہیں'۔

پاکستان فٹبال میں واحد صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی حاصل کرنے والے سابق کپتان علی نواز بلوچ بھی صدام حسین کی بات سے متفق دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق 'لیاری میں اس وقت رجسڑڈ و نان رجسڑڈ کلبز کی تعداد 200 سے زائد ہے لیکن سہولیات کی مسلسل عدم فراہمی، کورونا وبا اور فیفا کی جانب سے پاکستان پر پابندی نے یہاں کے فٹبالرز کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ 2 سو زائد کلبز میں 6 ہزار سے زائد رجسڑڈ فٹبالرز بھی موجودہ حالات میں کسی معجزے کے منتظر ہیں۔ ککری گراونڈ، گبول گراونڈ، کے ایم سی فٹبال گراونڈ لیاری کی فٹبال سرگرمیوں کے گڑھ سمجھے جاتے ہیں تاہم حکومتی احکامات کے بعد تمام چھوٹے بڑے میدانوں میں فٹبال سمیت دیگر کھیلوں کی سرگرمیاں عملی طور پر معطل ہیں۔

لیجنڈری سابق کپتان نے بتایا کہ ' کورونا کے باعث کے کھلاڑی میدانوں میں نہ ہی پریکٹس کر سکتے ہیں اور نہ ہی بڑے پیمانے پر میچز کھیل سکتے ہیں ساتھ ہی فیفا کی پابندیوں نے غیر ملکی لیگز اور مقابلوں کے راستے بھی بند کردیئے ہیں'۔
فٹبال کے بعد اگر کسی دوسرے بڑے کھیل کی بات کی جائے وہ باکسنگ ہے۔ جس میں ہر دور میں لیاری سے تعلق رکھنے والے باکسرز نے دنیا بھر میں پاکستان اور اپنے علاقے کا نام روشن کیا ہے۔ تاہم کچھ گزشتہ عرصے سے یہاں کے کلبز اور اکیڈمیز میں چھائی ویرانی "کورونا وائرس" کی آمد کا پتہ دیتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تمام دس مقابلوں میں ناقابل شکست رہنے والے لیاری کے پروفیشنل باکسرنادر بلوچ کہتے ہیں 'کورونا کی موجودہ صورتحال میں حکومت نے یہاں کے کھلاڑیوں کو بے یارومددگار چھوڑا ہوا ہے۔ باکسرز کیلئ نہ تو صحت کی سہولیات ہیں اور نہ ہی ٹریننگ کیلئے کوئی مناسب انتظام اور تو اور ایس او پیز کے نام پر کلبز اور ٹریننگ سینٹرز کو بھی بند کردیا گیا ہے۔ موجودہ حالات میں تو جان کے بھی لالے پڑ گئے ہیں۔ جب جان سلامت نہیں رہے گی تو باکسنگ کیسے ہوگی۔

مڈل ایسٹ ٹائٹل کے چیمپئن نادر بلوچ نے قدرے جذباتی انداز میں ہمیں بتایا کہ 'کھلاڑیوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا کیرئیر بن جائے، مستقبل سنور جائے، خواہشوں کی تکمیل ہوجائے، دنیا میں نام کمائیں لیکن اس وبا نے خواب چکنا چور کر دیئے ہیں۔ کھلاڑی ایک جانب کورونا سے تو دوسری جانب عدم سرپرستی سے پریشان ہیں'۔

سندھ باکسنگ ایسوسی ایشن کے صدر اصغر بلوچ کے مطابق لیاری کا معتبر حوالہ باکسنگ ہے، پاکستان کیلیے واحد اولمپک میڈل بھی باکسنگ میں لیاری کے ہی رہائشی حسین شاہ نےجیتا تھا ۔باکسنگ کے انٹرنیشنل مقابلوں میں لیاری کے نوجوان کھلاڑیوں نے ایشین گیمز میں 2 گولڈ میڈل ، سیف گیمز میں 21 گولڈ ، 16 سلور اور9 برونز میڈل جیتے تو ساتھ ہی کامن ویلتھ گیمز میں 2 گولڈ میڈل بھی جیتنے میں کامیاب رہے۔ اس کے علاوہ کامن ویلتھ باکسنگ مقابلوں میں بھی لیاری کے باصلاحیت باکسر نے 5 گولڈ میڈل جیت رکھے ہیں.


اصغر بلوچ نے بتایا کہ لیاری میں رجسڑڈ باکسنگ کلبز کی تعداد 13 جبکہ کل 17 سے 18 کلبز موجود ہیں۔ جہاں مرد وخواتین باکسر اپنے مقابلوں کیلیے روزانہ کی بنیاد پر پریکٹس کرتے ہیں۔ ان کاکہناتھا کہ کورونا وبا کے باوجود سندھ باکسنگ فیڈریشن نے گزشتہ ایک برس کے دوران کئی مقامی مقابلوں کا انعقاد کروایا تاہم متعدد ایونٹس کو کورونا وبا کے باعث منسوخ بھی کرنا پڑے۔ وبا کے دوران کھلاڑیوں کو مناسب ٹریننگ کے ناکافی انتظامات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "کھلاڑیوں کو کہہ دیا ہے وہ حالات بہتر ہونے کا انتظار کریں" ۔


ملک میں پیٹرولیم مصنوعات ذخائر تسلی بخش قرار،وزیراعظم کی سپلائی چین مزید بہتر بنانے کی ہدایت
- ایک دن قبل

کفایت شعاری مہم:حکومت کا یوم پاکستان کی پریڈ اور تقریبات منسوخ کرنے کا فیصلہ
- ایک دن قبل

علی لاریجانی کا ہاتھ سے لکھا بیان ایرانی میڈیا پر آ گیا، امریکی حملوں میں شہید فوجیوں کو خراج عقیدت
- ایک دن قبل
سعودی عرب میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا، عید 20 مارچ جمعہ کو ہوگی
- 7 گھنٹے قبل

مسلسل کئی روز کی کمی کے سونا ایک دفعہ پھر مہنگا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 2 دن قبل
پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف کارروائی پر بھارت کے بے بنیاد بیان کو مسترد کر دیا
- 7 گھنٹے قبل

وزیراعظم شہباز شریف کی پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کو اعلیٰ تحقیقاتی ادارہ بنانے کی ہدایت
- ایک دن قبل
خلیجی ممالک کے شہری علاقوں کے قریب حملوں کی ذمے داری امریکا پر عائد ہوتی ہے، ایرانی وزیر خارجہ
- 12 گھنٹے قبل
ڈی جی فوڈ اتھارٹی خیبرپختونخوا فائرنگ سے زخمی
- 12 گھنٹے قبل

وزیراعظم شہبازشریف کا قازق صدرسے ٹیلیفونک رابطہ،قازقستان کے آئینی ریفرنڈم کی کامیابی پر مبارکباددی
- ایک دن قبل

پاکستان اور چین مختلف شعبوں میں اے آئی پر مبنی شراکت داری مضبوط بنانے پر متفق
- 13 گھنٹے قبل
کراچی :میں سی ٹی ڈی کی کامیاب کارروائی، بی ایل اے کا اہم کمانڈر سہیل بلوچ جہنم واصل
- 2 دن قبل














