غزہ : اسرائیل کی جانب سے دوسرے روز بھی فضائی حملے کیے گئے ہیں ،جس سے شہید ہونیوالوں کی تعداد 48 ہوگئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں کے نتیجے میں شہید ہونیوالوں کی تعداد 48ہوگئی، شہید ہونیوالوں میں 14بچے بھی شامل ،زخمیوں کی تعداد 3سو سے تجاوز کرگئی ہے، اسرائیلی فورسز نے پولیس ہیڈکوارٹر اور سکیورٹی عمارتوں کو بھی حملے کا نشانہ بنایا۔
دوسری جانب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے موجودہ کشیدگی پر خدشات کا اظہارکردیا ہے ۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ ہم کشیدگی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
اسرائیل نے بین الاقوامی مذمت کے باوجودغزہ پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے، اسرائیلی وزیردفاع کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی فورسز کے حملوں کے خاتمے کی کوئی تاریخ نہیں، اسرائیلی فوج حملے جاری رکھے گی اور لمبے عرصے کیلئے مکمل خاموشی لائے گی۔
ادھر ترک صدر رجب طیب اردوان کا روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، دونوں سربراہان نے غزہ پٹی پر کشیدگی کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔ترک صدر نے کہا ہے کہ انقرہ اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی کاروائی چاہتاہے۔
فلسطینی تحریک حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں اسرائیلی وزیر دفاع کی دھمکی کے ردعمل میں کہا ہے کہ اسرائیل کشیدگی میں اضافہ یا خاتمہ جو بھی چاہتا ہے فلسطینی دونوں کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ غزہ کا نہیں اسرائیل کا ہے۔ ہانیہ نے مزید کہا کہ یروشلم کو غزہ کی پٹی سے جوڑنا "شناخت کے ساتھ مزاحمت" کے مترادف ہے ، ہم سب قبضے کا مقابلہ کرنے کے لئے مربوط انداز میں ساتھ چل رہے ہیں۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نے حماس کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نیتن یاہو نے خبردار کیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ پر حملوں کی شدت اور تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور حماس کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ اس پر ایسے حملے کیے جائیں گے جن کی انھیں توقع بھی نہیں ہو گی۔اسرائیل کے وزیر دفاع نے دھمکی دی ہے کہ غزہ پر فضائی حملے محض آغاز ہے، مزید کئی اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔حماس نے برسوں بعد پہلی بار یروشلم پر راکٹ فائر کر کے ’اپنی حد پار کی ہے۔‘
واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے اب تک جاں بحق فلسطینیوں کی تعداد 35 ہوگئی ہے، 13 بچے اور مزاحمتی تنظیموں کے کئی رہنما بھی شہداء میں شامل ہیں، وحشیانہ بمباری میں بمباری میں فلسطینیوں کے گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے جبکہ عورتیں اور بچے پناہ کی تلاش میں غزہ کی گلیوں میں دوڑتے رہے۔
حماس کی جانب سے بھی جواب میں100 سے زائد راکٹ برسائے گئے جس کے نتیجے میں اشکیلون میں تیل کی پائپ لائن میں آگ لگ گئی، بس تباہ، تین اسرائیلی ہلاک جبکہ 70 زخمی ہوگئے تھے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیل کی جانب سے رہائشی علاقوں پر حملے پر اظہار تشویش کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیل سے غیر قانونی طاقت کا استعمال فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرب لیگ کے سربراہ نے غزہ پراسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔عرب لیگ نے اسرائیل کو غزہ میں "بلا اشتعال اور غیر ذمہ دارانہ" حملوں کاذمہ دارٹھہرایا۔
ایک اور لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- ایک دن قبل
وزیراعظم کی کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کے 3 سالہ آڈٹ کرانے کی ہدایت
- 2 دن قبل
امریکی فوجی ہیلی کاپٹر تباہ
- 9 گھنٹے قبل

شادی سے انکار یا بلیک میلنگ؟ نوجوان پر تیزاب پھینکنے کے بعد فائرنگ
- 6 گھنٹے قبل

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پہلی قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا اجرا کر دیا
- ایک دن قبل
بالی وڈ اسٹارمادھوری ڈکشت 24 سال بعد ٹی وی اسکرین پر جلوہ گر ہوں گی
- ایک دن قبل

قوم کل یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی
- 6 گھنٹے قبل

نادرانے مشین متعارف کر وا دی، عوام کو کیا فائدہ ہو گیا؟
- ایک دن قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی
- 8 گھنٹے قبل

انمول پنکی کو بڑا ریلیف، 3 مقدمات میں بری
- 6 گھنٹے قبل
ناروے کے وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعلقات پر تبادلہ خیال
- 7 گھنٹے قبل
گوگل جیمنائی کے صارفین کی تعداد کتنی ہو گئی؟
- ایک دن قبل



