Advertisement

میانمار میں فوجی بغاوت، ملک بھر کے ڈاکٹروں کا فوجی حکومت میں خدمت سے انکار

ینگون: میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد ملک بھر کے ڈاکٹروں نے فوجی حکومت میں خدمت سے انکار کردیا۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 6 years ago پر Feb 4th 2021, 10:14 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق میانمارمیں فوجی بغاوت کے بعد ملک بھر کے ڈاکٹروں نے  ہڑتال کی کال دے دی۔میانمار کے ڈاکٹروں نے  فوجی حکومت میں خدمات سے انکار کردیا۔

دوسری جانب  میانمار کی معزول رہنما آنگ سان سوچی پر امپورٹ ، ایکسپورٹ قوانین کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ آنگ سان سوچی کو دو ہفتے کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

پارٹی ترجمان کا کہنا ہے کہ آنگ سان سوچی کا 15 فروری تک پولیس ریمانڈ دیا گیا ہے،آنگ سان سوچی   کاملک کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ قوانین کے تحت بھی پولیس ریمانڈ دیا گیا ہے۔

 آنگ سان سوچی کے علاوہ  400  اہم رہنماؤں کو گرفتار کرکے دارالحکومت کے ایک گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا ہے، نئی فوجی حکومت نے 24 وزراء کو برطرف کر کے اپنی مرضی کے گیارہ وزرا نامزد کر دیئے ہیں ۔میانمار فوج کے سربراہ من آن ہلینگ نے اس سال ریٹائر ہونا تھا  اور من آن ہلینگ کو دی ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں مقدمات کا سامنا ہے۔

خیال  رہے کہ میانمار میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کر کے آنگ سان سوچی سمیت متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیاتھا۔ میانمار میں انتخابات کے بعد سویلین حکومت اور فوج کے مابین کشیدگی پیدا ہوگئی تھی جس کے بعد فوج نے بغاوت کرتے ہوئے ملک کا کنٹرول سنبھالا۔ فوج نے  جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں ایک سال کیلئے ایمرجنسی نافذ کردی ہے ۔

واضح رہے کہ آنگ سان سوچی نے گزشتہ سال ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔میانمار کی فوج نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔متنازع انتخابی نتائج کے بعد فوج اور سول حکومت میں سخت کشیدگی تھی۔ایک بیان میں فوج کی جانب سے تجویز دی گئی تھی کہ اگر گزشتہ سال ہونے والے الیکشن کے ووٹ فراڈ کا معاملہ حل نہیں کیا گیا تومیانمار کا کنٹرول فوج سنبھال لے گی۔

Advertisement