میرٹ کانظام لاگو کئے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے، انوار الحق کاکڑ


نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ زندگی کو بامقصد بنانے اور روشن مستقبل کے لئے تعلیم ضروری ہے،پاکستان میں اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے، گورننس کو بہتر بناناہوگا،تمام پاکستانی برابر کے شہری ہیں ،اقلیتوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں،میرٹ کانظام لاگو کئے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔
آغا خان یونیورسٹی کے طلبا و طالبات سے خصوصی گفتگو میں نگران وزیراعظم نے کہا کہ تعلیم اورتعلیمی ادارے ہمیشہ میرے دل کےقریب رہے ہیں۔ مجھے ہمیشہ سے سیکھنے اور جاننے سے شغف رہا ہے۔نمایاں تعلیمی اداروں نے ہمیشہ اپنی جانب راغب کیاہے۔زندگی کو بامقصد بنانے کے لئے تعلیم ضروری ہے ۔
گلگت بلتستان کے ایک طالب علم کی طرف سےسوال پر وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان جغرافیائی لحاظ سے اہم حیثیت کاحامل ہے، یہ پاکستان کاحصہ ہے اور انشا اللہ ہمیشہ رہے گا۔ گلگت بلتستان کی حیثیت کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر کے حصے کے طور پر دیکھنا ہوگا ۔ پاکستان اور بھارت کشمیر پر تین جنگیں لڑ چکے ہیں ۔ پاکستان نے گلگت بلتستان کے حوالے سے جو اقدامات کئے ہیں وہ عوام کو حقوق دینے کے لئے ہیں۔
گلگت بلتستان کو پاکستان کا سنگا پور ہونا چاہیے کیونکہ یہ وسائل سے مالامال علاقہ ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے نگران وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں ہر شہری کو اظہار رائے کا حق حاصل ہے۔ ملکی سیاسی تاریخ کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی مخصوص واقعہ کو کسی مخصوص مدت یا کسی مخصوص حکومت سےنہیں جوڑا جا نا چاہیے۔
بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کے پیش نظر صحت کی سہولیات بڑھاناہوں گی۔ گورننس سسٹم کو بہتر بناناہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہاکہ اقلیتوں سمیت تمام پاکستانی برابر کے شہری ہیں ،کسی کام یا پیشے کو کسی مذہب کے ماننے والوں سے منسلک نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست میں شہریوں کوبرابر کے حقوق حاصل تھے اور میرٹ کا نظام تھا۔ میرٹ کانظام لاگو کئے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ایک سوال کے جوا ب میں وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں ہماری ترجیحات درست سمت میں نہیں رہیں۔
اصل مسائل پر بات نہیں ہوتی ، یہ کسی وی لا گ یاٹاک شو کاموضوع نہیں بنتے ۔انہوں نے ملک میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق اوراس ضمن میں زیادہ فنڈز مختص کرنے کی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئےکہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اصل ایشوز پر بات کرتے ہوئے لوگوں کو متوجہ کرنا چاہیے۔
باالخصوص اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے اپنی آواز کوپالیسی سازوں تک پہنچائیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ انسانی تاریخ میں مختلف وجوہات کی بنا پر نقل مکانی ہوتی رہی ہے۔ پاکستان ایک بہت بڑی آبادی والا ملک ہے، یہاں سے جو لوگ بہتر مواقع کی تلاش میں باہر جا رہے ہیں اس پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،یہ قدرتی عمل ہے،
پروفیشنلز کے بیرون ملک جانے کو منفی نہیں لیناچاہیے، اگر کوئی نرس یا ڈاکٹر بیرون ملک جا کر گلوبل سپلائی چین کا حصہ بن جاتا ہے اور ہمارے جی ڈی پی میں اضافے میں معاونت کرتا ہے تو اس میں کوئی ہرج والی بات نہیں کیونکہ جو لوگ باہر منتقل ہو جاتے ہیں وہ باہر جا کر بھی پاکستان کے ساتھ جڑے رہتےہیں اور قیمتی زرمبادلہ بھجواتے ہیں۔

تحریک انصاف کے مزید ارکان کا کمیٹیوں سے استعفیٰ، پارٹی نے پارلیمانی عمل سے مکمل لاتعلقی اختیار کرلی
- 5 گھنٹے قبل

وزیر آباد میں فلڈ ریلیف کیمپ عارضی نکلا، مریم نواز کے دورے کے بعد متاثرین واپس، کیمپ بند
- 5 گھنٹے قبل

دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا ہنگامی الرٹ جاری
- 5 گھنٹے قبل

ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 3.57 فیصد تک جا پہنچی، ٹماٹر، آٹا اور چکن مزید مہنگے
- 5 گھنٹے قبل

ایشیا ڈیولپمنٹ بینک کی پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے 3 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد
- 8 گھنٹے قبل

حکومت کا سیلاب متاثرین کو بجلی بلوں میں ریلیف دینے کا فیصلہ
- 5 گھنٹے قبل

امریکی ٹیرف کے بعد بھارتی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا
- 7 گھنٹے قبل

راولپنڈی: گاڑی میں دم گھٹنے کے باعث دو بچے جاں بحق ہوگئے
- 10 گھنٹے قبل

ایرانی صدر کا وزیراعظم سے ٹیلیفونک رابطہ، سیلابی صورتحال میں مدد کی پیشکش
- 9 گھنٹے قبل

تین ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آغاز: پاکستان کا افغانستان کے خلاف بیٹنگ کا فیصلہ
- 8 گھنٹے قبل

اسحاق ڈار اور آرمینیائی وزیر خارجہ کے مابین ٹیلیفونک رابطہ، سفارتی تعلقات کے قیام پرغور
- 10 گھنٹے قبل

ایرانی صدر کا سیلاب متاثرین سے اظہارِ یکجہتی، پاکستان کو ہر ممکن مدد کی پیشکش
- 5 گھنٹے قبل