Advertisement
پاکستان

رنگ روڈ اسکینڈل میں کسی وزیر یا مشیر کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا : فواد چوہدری

اسلام آباد :اطلاعات ونشریات کے وزیرچوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ رنگ روڈ اسکینڈل میں کسی وزیر یا مشیر کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے ۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 سال قبل پر مئی 18 2021، 10:27 شام
ویب ڈیسک کے ذریعے

تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرمختلف  ٹویٹس میں وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری  نے کہا کہ رنگ روڈ منصوبے کے مقدمے میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ہاوسنگ سوسائٹیوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے اس منصوبے کی 23 کلو میٹر تک توسیع کی گئی،  اس فیصلے سے حکومت کو اضافی زمین کی خریداری کیلئے بیس ارب روپے ادا کرنے پڑے۔

وزیراطلاعات نے کہا کہ کمشنر راولپنڈی کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق سابق کمشنر اوران کے ساتھ  دوسرے افسران سکینڈل میں ملوث پائے گئے ۔  اس معاملے میں کسی وزیر یا مشیر کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت  نہیں ملا  ۔  وزیر اعظم کی احتساب سے متعلق پالیسی واضح ہے، جس پر بھی الزامات لگیں گے تو تحقیقات ہوں گی ، جوابدہی کا اصول لاگو ہو گا۔ اگر حزب اختلاف کے رہنمائوں ، کابینہ کے ارکان ، بیورو کریٹ یا کسی محکمے کے کسی بھی افسر کیخلاف الزامات ہیں تو تحقیقات کی جائیں گی ، یہی نظام کی تبدیلی ہے جس کا وعدہ کیا تھا ۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ ایسا صرف عمران خان کی حکومت میں ہے کہ جو بھی الزامات سامنے آرہے ہیں ان کی تحقیقات کی گئیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں ذرائع ابلاغ کے گلے بیٹھ جاتے تھے لیکن مجال ہے کہ ان کے کانوں پر جوں بھی رینگے۔ وعدے کے مطابق نظام میں تبدیلی آئی ہے طاقتور لوگ  بھی قانون سے مبرا نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل میں الزامات کی وجہ سے وزیراعظم کے معاون خصوصی ذوالفقار بخاری نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ  میرا رنگ روڈ منصوبے اور رئیل اسٹیٹ پراجیکٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ شفاف تحقیقات کے لئے اپنے عہدے سے الگ ہورہا ہوں، رنگ روڈ منصوبے پرالزامات کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔

اس سے قبل چئیرمین نیب جاویداقبال نے رنگ روڈ راولپنڈی منصوبہ میں مبینہ طور پر اربوں روپے کی بد عنوانی،بےضابطگیوں اور غیر قانونی لینڈ ایکوزیشن کا نوٹس لیتے ہوئے نیب راولپنڈی کو تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔چیئر مین نیب نے ہدایت کی ہے کہ  رنگ روڈ منصوبہ کی تحقیقات بلا امتیاز اور شفافانداز میں کی جا ئیں اور منصوبہ کے تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے ذمہداران کا تعین کا جائے ۔

یاد رہے کہ حکومتی تحقیقات میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ راولپنڈی میں رنگ روڈ منصوبے کی ترتیب (لے آؤٹ) کو تبدیل کرکے کچھ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو فائدہ ہوا ہے۔فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق ، راولپنڈی کے سابق کمشنر کیپٹن (ر) محمد محمود اور لینڈ ایکوزیشن کے معطل کمشنر وسیم تابش نے اراضی کے حصول کے لئے 2.3 ارب روپے ادا کیے اور اس علاقے کے ایک معروف خاندان  کو فائدہ پہنچایا۔

Advertisement
Advertisement