Advertisement

اسرائیلی آباد کاروں کا بڑھتا ہوا تشدد، 2023 مغربی کنارے میں فلسطینیوں کےلئے بدترین سال

2023 میں مغربی کنارے میں 520 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، فلسطینی وزارت صحت

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jan 2nd 2024, 7:30 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
اسرائیلی آباد کاروں کا بڑھتا ہوا تشدد، 2023 مغربی کنارے میں  فلسطینیوں کےلئے بدترین سال

 فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق 2023 میں مغربی کنارے میں 520 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جس نے اسے آباد کاروں کے حملوں کے حوالے سے پرتشدد ترین سال بنا دیا۔

غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق انسانی حقوق کے ایک گروپ یش دین نے کہا کہ مغربی کنارے کے متعدد حملے اسرائیلی آباد کاروں کے ایک بڑے گروپ کی طرف سے کیے گئے جن میں 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کے بعد تشدد میں اضافہ ہوا۔ اسرائیلی آباد کاروں نے 2023 میں مقبوضہ مغربی کنارے میں درجنوں گھروں کو نذر آتش بھی  کر دیا۔

گذشتہ سال آباد کاروں کے ہاتھوں کم از کم 10 فلسطینی جاں بحق ہوئے اور درجنوں گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی، واقعات کی تعداد اور ان کی شدت دونوں میں مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے تشدد کے حوالے سے 2023 پرتشدد ترین سال تھا۔

مغربی کنارہ 1967 کی چھ روزہ جنگ کے بعد سے اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہے اور اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے حماس کے حکمرانوں کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ تقریباً 4 لاکھ 90 ہزار آباد کار مغربی کنارے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینیوں کے درمیان بستیوں میں رہتے ہیں جنہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

مغربی کنارے میں تشدد کی لہر کو روکنے کے لیے دباؤ بڑھاتے ہوئے گذشتہ ماہ امریکہ نے کہا تھا کہ وہ فلسطینیوں پر حملہ کرنے والے انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں کو ویزا نہیں دے گا۔

Advertisement
Advertisement