Advertisement
پاکستان

انتخابی نشان، پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں درخواست منظور، نمبر الاٹ کر دیا گیا

پی ٹی آئی نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ سے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jan 4th 2024, 9:39 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
انتخابی نشان، پی ٹی آئی کی سپریم  کورٹ میں درخواست منظور، نمبر الاٹ کر دیا گیا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بلے کے انتخابی نشان کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا، اور رجسٹرار نے درخواست پر نمبر بھی لگادیا ہے، سپریم کورٹ رجسٹرارآفس نے درخواست کو C.P7/2024 نمبر لگادیا ہے۔ پی ٹی آئی نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ سے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پشاورہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا آرڈر معطل کر دیا تھا، اور حکم دیا تھا کہ ہمارا انتخابی نشان ہمیں واپس کیاجائے لیکن الیکشن کمیشن نے نظرثانی درخواست دی، اور استدعا کی عبوری ریلیف واپس لیا جائے۔

بیرسٹرگوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ میں تقریباً 4 گھنٹے کی سماعت ہوئی تھی، 2 تاریخ کو بیان عدالت میں جمع کرایا گیا، عدالت نےبیان کے بعد استدعا کو منظور کرلی، عدالت نے مناسب سمجھا الیکشن کمیشن کے آرڈرکو ری کال کیا، سپریم کورٹ آئے ہیں تاکہ مناسب آرڈر پاس ہو سکے، بلے کا نشان کسی کو الاٹ ہوچکا ہے تو کسی اور کو نہیں دیاجاسکتا۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ریزروسیٹ پر نامزدگی کی اسکروٹنی ابھی تک نہیں کی، سیاسی جماعت کے پاس انتخابی نشان نہ ہونا پارٹی کے ساتھ زیادتی ہے۔ آج سپریم کورٹ میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف پٹیشن فائل کردی جسے نمبرالاٹ ہوچکا ہے، عدالت سے استدعا کی ہے کہ اگر آج سماعت ممکن نہیں تو کل کرلی جائے، امید ہے عدالت ہماری پٹیشن کی شنوائی کرے گی۔

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا جب تک مضبوط ریاست نہ ملے، آزاد حیثیت میں الیکشن جیتنے والوں کی جیت ملے گی اور ہارسسٹم کی ہوگی، سب کو لیول پلیئنگ فیلڈ دیں سب کو نشان الاٹ کریں، پورے ملک میں سیاسی عدم استحکام کا سامناہے، جو بھی مضبوط حکومت آئے سب اس کے ساتھ تعاون کریں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس پر اپنا حکم امتناع واپس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا فیصلہ بحال کردیا تھا، جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس چھن گیا تھا۔

 

Advertisement