جی این این سوشل

پاکستان

دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال

منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ ہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

اسلام آباد: واپڈا کی جانب سے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد واخراج کے پیر کو جاری کر دہ اعدادوشمار کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلاکے مقام پر پانی کی آمد 14 ہزار500 کیوسک اور اخراج 30 ہزار کیوسک، دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد8 ہزار 700کیوسک اور اخراج 8 ہزار 700 کیوسک، خیرآباد پل پر پانی کی آمد 14 ہزار600 کیوسک اور اخراج 14 ہزار 600 کیوسک، دریائےجہلم میں منگلاکے مقام پر پانی کی آمد 12 ہزارکیوسک اور اخراج 40 ہزار کیوسک اور دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 7 ہزار800 کیوسک اور اخراج 2 ہزارکیوسک ہے۔

تربیلاڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ،ڈیم میں پانی کی موجودہ 1444.22 فٹ ، ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.932ملین ایکڑ فٹ ہے جبکہ منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ، ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1119.80 فٹ، ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.780 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈکیا گیا ہے۔

چشمہ بیراج کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ، بیراج میں پانی کی موجودہ سطح 641.50 فٹ، بیراج میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.049 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

پاکستان

حکومت کی بشکیک واقعہ میں کسی بھی پاکستانی طالبعلم کے جاں بحق ہونے کی تردید

سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلائی جارہی ہیں، وزیر خارجہ اسحاق ڈار

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت کی بشکیک واقعہ میں کسی بھی پاکستانی طالبعلم کے جاں بحق ہونے کی تردید

نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم خود معاملے کو دیکھ رہے ہیں، ہمارے بچے تعلیم حاصل کرنے گئے، آزاد تحقیقات کیلئے وفد کرغزستان بھیجیں گے۔ واقعہ میں کوئی بھی پاکستانی طالب علم جاں بحق نہیں ہوا۔

لاہور میں وفاقی وزیر عطا تارڑ اور امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ طالبعلموں کے درمیان تصادم کے بعد حالات کشیدہ ہوئے، ہوئے، تشدد تمام غیر ملکی طالبعلموں پر کیا گیا، واقعہ صرف پاکستانیوں سے متعلق نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ 4 سے 5 پاکستانی طالبعلم زخمی ہوئے ہیں، مجموطی طور پر 15 سے 16 طالبعلم زخمی ہوئے، گزشتہ روز 130 پاکستانی طالبعلم واپس وطن پہنچے، آج مزید 540 طالبعلم پاکستان پہنچیں گے، ایئرفورس ایئربس کے ذریعے طلبہ کو پاکستان لائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 50 طلبا نے سفارتخانے میں اندراج کروایا ہے، کرغز حکومت مسلسل معاملات کی مانیٹرنگ کر رہی ہے، جمعہ کے بعد کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا، معاملہ کسی غلط فہمی کی وجہ سے ہوا ہے، کرغزستان کے سکیورٹی ادارے مکمل طور پر فعال ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ وزارت خارجہ میں ایمرجنسی یونٹ کو فعال کیا گیا ہے، کرغزستان کے وزیر خارجہ سے تفصیلی بات ہوئی ہے اور رابطےمیں ہیں، کسی ایک بھی پاکستانی طالبعلم کی ہلاکت نہیں ہوئی، سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔2 دن سےامن ہے، کچھ طالبعلم وطن واپس آنا نہیں چاہتے۔

کرغزستان کا آج کا دورہ منسوخ ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ کرغز حکومت نے آج دورہ نہ کرنےکی درخواست کی، جس پر دورہ منسوخ ہوا۔

بعدازاں وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ واقعہ کی خبر ملتے ہی وزیراعظم اور وزارت خارجہ نے فوری طور پر ایکشن لیا، وزیراعظم اور وزیر خارجہ پچھلے دو دنوں سے مسلسل صورتحال کو دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام واقعات پاکستان کے خلاف کوئی ٹارگٹڈ چیز نہیں تھی، جب کوئی ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو کافی لوگ زد میں آتے ہیں، ہمارے کرغزستان سے بہت اچھے سفارتی تعلقات ہیں، کرغزستان میں حالات معمول کے مطابق چل رہے ہیں، ہلاکتوں کی جعلی تصاویر پھیلانے والے اللہ سے ڈریں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ میرا خود طلباء  سے رابطہ ہوا ہے، وہاں حالات بہتر ہیں، ایک مخصوص سیاسی جماعت والدین کے ذہنوں میں منفی باتیں ڈال رہی ہے، نائب وزیر اعظم مسلسل کرغز حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، یہ پروپیگنڈا پھیلایا گیا کہ ہلاکتیں ہوئی ہیں، ان معاملات میں نہ کوئی طالبعلم جاں بحق ہوا نہ کسی خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

عطاء تارڑ نے کہا کہ ہم کسی پاکستانی کو غیر محفوظ نہیں ہونے دیں گے، کچھ لوگ کمرشل فلائٹ سے آ رہے ہیں، جو ہماری سپیشل فلائٹ کیلئے رابطہ کرسکتے ہیں وہ ضرور کریں، خواتین طالبات کی ریپ والی خبریں بالکل جھوٹ کی بنیاد پر پھیلائی گئیں۔

اس موقع پر وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اس واقعے کے بعد سمجھا کہ اسحاق ڈار خود وہاں جائیں، ہمیں یہ بھی سوچنا ہے کہ جو وہاں پڑھ رہے ہیں ان کے کافی پیسے خرچ ہوئے ہیں۔

امیر مقام نے مزید کہا کہ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ ہمارے طلبا وہاں سے پڑھیں اور ڈگری لے کر آئیں، وزارت خارجہ کے دفتر میں ہیلپ لائن موجود ہے، جو طلبہ واپس آنا چاہتے ہیں وہ ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

حلقہ این اے 148 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری

غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے علی قاسم گیلانی 903 ووٹ لیکر آگے ہیں جبکہ سنی اتحاد کونسل کے بیرسٹر تیمور الطاف 550 ووٹوں سے دوسرے نمبر پرہیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حلقہ این اے 148 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری

ملتان سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 148 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا  اور  ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

ملتان کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 148 میں ضمنی انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے،ابتک موصول ہونے والے 5 پولنگ سٹیشنز کے غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے علی قاسم گیلانی 903 ووٹ لیکر آگے ہیں جبکہ سنی اتحاد کونسل کے بیرسٹر تیمور الطاف 550 ووٹوں سے دوسرے نمبر پرہیں۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 148 میں ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے، پولنگ بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہی، حلقے میں مجموعی طور پر 7 امیدوار میدان میں ہیں، پیپلز پارٹی کے علی قاسم گیلانی اور سنی اتحاد کونسل کے تیمور الطاف ملک میں کا ٹنے کا مقابلہ ہے۔حلقے میں کل ووٹر کی تعداد 4 لاکھ 44 ہزار 231 ہے جن میں 2 لاکھ 33 ہزار 624 مرد جبکہ 2 لاکھ 10 ہزار 607 خواتین ووٹر ہیں۔

ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بغیر وقفے کے جاری رہا۔ سخت گرمی کی وجہ سے ٹرن آؤٹ بہت کم رہا۔ این اے 148 ملتان میں پیپلز پارٹی کے امیدوار علی قاسم گیلانی کو مسلم لیگ ن کی حمایت بھی حاصل ہے اور ان کا مقابلہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار تیمور  الطاف سے ہے۔

واضح رہے عام انتخابات میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے تیمورالطاف ملک کو شکست دی تھی، بعد میں چیئرمین سینیٹ بننے کے لیے یوسف رضا گیلانی نے یہ سیٹ چھوڑ دی تھی

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

وزیراعظم کی کرغزستان سے پاکستانی طلباء کو واپس لانے کیلئے سفیر کوہدایت

شہباز شریف کا کرغزستان کے سفیر سے ٹیلی فونک رابطہ، خصوصی طیارے کے حوالے سے ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت کر دی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وزیراعظم کی  کرغزستان سے پاکستانی طلباء کو واپس لانے کیلئے سفیر کوہدایت

وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان میں پاکستان کے سفیر حسن علی ضیغم سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے کرغزستان سے پاکستانی طلباء کو واپس لانے والے خصوصی طیارے کے حوالے سے ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم کی ہدایت پر خصوصی طیارے کے تمام تر اخراجات حکومت پاکستان ادا کرے گی۔

وزیراعظم کی ہدایت پر یہ خصوصی طیارہ آج اتوار کی شام بشکیک کرغزستان کے لئے روانہ ہو گا اور رات کو 130 پاکستانی طلباء کو لے کر پاکستان پہنچے گا۔ وزیراعظم کی ہدایت پر خصوصی طیارے کے تمام تر اخراجات حکومت پاکستان ادا کرے گی۔

وزیراعظم نے پاکستانی سفیر کو ہدایت کی کہ کرغزستان میں موجو تمام پاکستانی طلباء اور ان کے خاندانوں کے ساتھ رابطے میں رہا جائے ، زخمی پاکستانی طلباء کو ترجیحی بنیادوں پر پاکستان لایا جائے، ایسے طلباء جن کے ساتھ ان کے خاندان کے افراد کرغزستان میں مقیم ہیں ان کی وطن واپسی کا انتظام بھی ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے۔

پاکستانی سفیر نے وزیراعظم کو کرغز نائب وزیر خارجہ امنگازیف المازسے ہوئی اپنی ملاقات بارے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کرغز حکومت نے بتایا ہے کہ حالات پر مکمل طور قابو پا لیا گیا ہے، کل رات اور آج تشدد کا کوئی نیا واقعہ نہیں ہوا ، سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے،

پاکستانی اور دیگر غیر ملکی طلباء بالکل محفوظ ہیں ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ حالات معمول پر آنے کے باوجود اگر کوئی پاکستانی طالب علم وطن واپس چاہتا ہے تو اسے ہر قسم کی سہولیات فراہم کی جائیں ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کچھ پاکستانی طلباء آج دو کمرشل پروازوں کے ذریعے بھی کرغزستان سے پاکستان پہنچیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll