غزہ میں نسل کشی مقامی فلسطینیوں کو مٹانے کے ایک دیرینہ آباد کار نوآبادیاتی عمل کا انتہائی انتہا پسند مرحلہ ہے


مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال بارے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانی نے کہا کہ اس بات پر یقین کرنے کی معقول وجوہات موجود ہیں کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ وہ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب کر رہی تھیں، جس میں انہوں نے رکن ممالک کے ساتھ انٹرایکٹو ڈائیلاگ کے دوران ’’نسل کشی کی تحقیقات‘‘ کے عنوان سے اپنی تازہ ترین رپورٹ پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں تقریباً6 ماہ سے جاری ہیں،یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں انسانیت کو درپیش بدترین صورتحال بارے رپورٹ پیش کروں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ یقین کرنے کی معقول وجوہات ہیں کہ کمیشن کے معیار کے مطابق فلسطینیوں کی نسل کشی جرم کی حد تک پہنچ گئی ہے ۔بین الاقوامی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے فرانسسکا البانی نے وضاحت کی کہ نسل کشی کی تعریف ایک مخصوص مجموعے کے طور پر کی جاتی ہے جو کسی قومی، نسلی یا مذہبی گروہ کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر تباہ کرنے کے ارادے سے کی جاتی ہے۔ خاص طور پر، اسرائیل نے جان بوجھ کر مطلوبہ ارادے کے ساتھ نسل کشی کی تین کارروائیوں کا ارتکاب کیا ہے، جس سے گروپ کے اراکین کو شدید جسمانی یا ذہنی نقصان پہنچا ہے۔
غزہ میں نسل کشی مقامی فلسطینیوں کو مٹانے کے ایک دیرینہ آباد کار نوآبادیاتی عمل کا انتہائی انتہا پسند مرحلہ ہے۔76 سال سے زیادہ عرصے سے اس عمل کے تحت فلسطینیوں کو ہر طرح سے جبر کا نشانہ بنایا گیا ہےان کے ناقابل تنسیخ حق حق خودارادیت کو آبادیاتی، اقتصادی، علاقائی، ثقافتی اور سیاسی طور پر کچل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کی نوآبادتی دور کی بھولنے کی بیماری نے اسرائیل کے نوآبادیاتی آبادکاری کے منصوبے کو بھی معافی دے دی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا اب اسرائیل کو دیئے جانے والے استثنا کے تلخ نتائج کو دیکھ رہی ہے۔
یہ ایک ایسا سانحہ ہےجس کی پیشن گوئی کر دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت سے انکار اور اسرائیل کو دیئے گئے استثنا اور اس کا تسلسل کا نتیجہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے پیر کومنظور کی گئی قرارداد بھی قابل عمل نہیں رہی جس میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ انہوں نے رکن ممالک سے درخواست کی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں جو اسرائیل پر ہتھیاروں کی پابندی اور پابندیاں عائد کرنے سے شروع ہوتی ہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مستقبل میں اس کو نہ دہرایا جائے۔انسان حقوق کونسل میں موجود اسرائیل کے مندوبین نے رپورٹ پر تبادلہ خیال میں حصہ نہیں لیا لیکن اسرائیل کی طرف سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں فرانسسکا البانی کی رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔
جنیوا میں اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کے مستقل مبصر کے سفیر ابراہیم خریشی نے کہا کہ یہ رپورٹ فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کا تاریخی منظر نامہ فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی وحشیانہ جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے اور نسل کشی کے جرم کو روکنے کے لیے عارضی اقدامات کرنے کے لیے جنوری میں جاری کیے گئے بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے فیصلے کو ماننے سے بھی انکار کرتا ہے۔
پھر ناقص کارکردگی: تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان انگلینڈ کیخلاف پہلی اننگزمیں133 رنز بناکر آؤٹ
- 21 گھنٹے قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان جاری
- 2 دن قبل
وفاقی تعلیمی بورڈ: انٹرمیڈیٹ پارٹ ون اور ٹوکے نتائج کا اعلان
- ایک دن قبل

پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت
- 2 دن قبل
وزیراعلیٰ پنجاب کی صاحبزادی ماہ نور صفدر کے نکاح کی تقریب کی تاریخ کا اعلان
- 16 گھنٹے قبل
بنگلادیش میں خسرہ وبا شدت سے پھیل گئی
- ایک دن قبل
پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ مسترد، سینیٹر ڈاکٹر زرقا کا اضافہ فوری واپسی کا مطالبہ
- 13 گھنٹے قبل
پنجاب کی جیلوں میں کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن، 16 افسران و اہلکار معطل
- 13 گھنٹے قبل

جنگ ستمبر1965 کے ہیروز کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے پاک بحریہ کا دن آج منایا گیا
- 2 دن قبل
اداکارہ ہنی خان نے خود پر ہونیوالی تنقید کا جواب دے دیا
- 13 گھنٹے قبل
جونیئر ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا
- 2 دن قبل

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ
- 16 گھنٹے قبل






