جی این این سوشل

تفریح

تاریخی ڈرامہ صلاح الدین ایوبی پاکستان میں ریلیز

حال ہی میں اسے پاکستان میں اردو ڈبنگ کے ساتھ نجی ٹی وی چینل پر نشر کردیا گیا اور اسے ہر ہفتے پیر سے جمعرات کو نشر کیا جا رہا ہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

تاریخی ڈرامہ   صلاح الدین ایوبی   پاکستان میں ریلیز
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

پاکستان اور ترکیہ کے نجی پروڈکشن ہاؤسز کے اشتراک سے بنائے جانے والا تاریخی ڈراما ’صلاح الدین ایوبی‘ کو پاکستان میں ریلیز کردیا گیا ہے۔

صلاح الدین ایوبی کو پاکستان میں اردو زبان میں ریلیز کیے جانے سے قبل گزشتہ برس اسے ترک زبان میں وہاں کے ٹی وی چینل ٹی آر ٹی پر ریلیز کیا گیا تھا۔

حال ہی میں اسے پاکستان میں اردو ڈبنگ کے ساتھ نجی ٹی وی چینل پر نشر کردیا گیا اور اسے ہر ہفتے پیر سے جمعرات کو نشر کیا جا رہا ہے۔

ڈرامے میں صلاح الدین ایوبی کا مرکزی کردار اغور غنيش (Uğur Güneş) نے ادا کیا ہے جبکہ اس کے تمام مرکزی کردار ترک اداکاروں نے ادا کیے ہیں۔

صلاح الدین ایوبی کو اردو زبان میں نشر کیے جانے پر پاکستانی شائقین نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان

پنجاب حکومت کا تجاوزات مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن

 وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹریفک کی رہنمائی کے لیے نصب سکرینوں کو بحال کرنے کا بھی حکم جاری کر دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پنجاب حکومت کا تجاوزات مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن

پنجاب حکومت کا ٹریفک میں حائل ریڑھیوں اور تجاوزات کو ختم کرنے کا فیصلہ 

لاہور:وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ٹریفک مینیجمنٹ پر خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔  
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ٹریفک نظام کو درپیش مسائل اور ان کی درستی کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا۔ 
دوران اجلاس یہ بات زیر بحث لائی گئی کہ روڈ کے اطراف میں موجود ریڑھیاں سڑک کے بند ہونے کی ایک بڑی وجہ ہیں، جس کی بدولت ٹریفک کی روانی بہت متاثر ہوتی ہے۔ اس بناء پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایسی تمام ریڑھیاں ہٹا دی جائیں جو مصروف شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی میں حائل ہوتی ہیں ۔ 
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ہٹائے جانے والے ریڑھی بانوں کو اپنا کام جاری رکھنے کے لیے کوئی متبادل جگہ دینے کی ہدایات جاری کر دیں۔ 
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹریفک کے نظام کو بہتر کرنے کے لیے لین اور لائن کے قواعد و ضوابط پر عملداری ممکن بنانے کی سخت ہدایات دیں۔ عوام کی آگاہی کے لیے مہم شروع کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔  
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے سڑکوں پر موجود تجاوزات کو ہٹا کر سڑکوں کو کشادہ کرنے کے لیے موثر حکمت عملی اپنانے کی ہدایات جاری کر دیں۔ 
 وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹریفک کی رہنمائی کے لیے نصب سکرینوں کو بحال کرنے کا بھی حکم جاری کر دیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

حکومتی اخراجات میں کمی کی سفارشات وز یر اعظم کو پیش

کمیٹی نے یہ سفارشات اسلام آباد میں وزیرا عظم محمد شہبا ز شریف کی زیر صدارت ہونیو الے اجلاس میں پیش کیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومتی اخراجات   میں کمی کی سفارشات وز یر اعظم کو پیش

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی حکومتی اخراجات اور حجم میں کمی کے لئے سفارشات مرتب کرنے کی غرض سے قائم کمیٹی نے بعض حکومتی ادارے بند کرنے، ضم کرنے یا صوبوں کے حوالے کرنے کی سفارش کی ہے۔

کمیٹی نے یہ سفارشات اسلام آباد میں وزیرا عظم محمد شہبا ز شریف کی زیر صدارت ہونیو الے اجلاس میں پیش کیں۔

کمیٹی نے نئے تعینات ہونے والے ملازمین کے لئے پنشن کا طریقہ کار متعارف کرانے اور ایک سال سے زائد عرصے سے خالی آسامیاں ختم کرنے کی قلیل اور درمیانی مدت کی سفارشات بھی پیش کیں۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ دنیا بھر میں رائج بہترین طریقہ کار کا تجزیہ کرنے کے بعد ٹھوس تجاویز پیش کرے۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

بجٹ 2024-25، تانبے، کوئلے، کاغذ اور پلاسٹک کے اسکریپ پر سیلز ٹیکس نافذ

جائیداد کی خریدوفروخت پر فائلر پر15 فیصد ٹیکس لگے گا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بجٹ 2024-25، تانبے، کوئلے، کاغذ اور پلاسٹک کے اسکریپ پر سیلز ٹیکس نافذ

وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 25-2024 کے لیے 18 ہزار 887 ارب روپے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر رہی ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں کہا ہے کہ وفاقی بجٹ میں ملازمین کی کم سے کم تنخواہ 32 ہزار سے بڑھا کر 37 ہزار کرنے کی تجویز ہے۔

وفاقی بجٹ میں سیلز ٹیکس پندرہ سے بڑھا کر اٹھارہ فیصد کر دیا گیا۔ تانبے، کوئلے، کاغذ اور پلاسٹک کے اسکریپ پر سیلز ٹیکس نافذ کردیا گیا،نان کسٹم پیڈ سگریٹ بیچنے پر دکان سیل ہو گی،فاٹا اور پاٹا کیلئے دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،رہائشیوں کو مزید ایک سال انکم ٹیکس چھوٹ ملے گی۔گاڑیوں کی خریداری پر ٹیکس انجن کپیسٹی کے بجائے گاڑی کی قیمت کے تناسب پر لگے گا۔

محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ توانائی کا شعبہ گردشی قرضوں کے چیلنج سے دوچار ہے،یہ قرض اب ناقابل برداشت ہوچکا ہے،پاور سیکٹر کی پیچیدگیوں کا حل بلا شبہ مشکل ہے ،پاور سیکٹر میں نقصانات کم کرنے کیلئے ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹریبوشن کو بہتر بنائیں گے۔9بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا منصوبہ ہے،توانائی کے شعبے میں ڈسٹری بیوشن اورپرفارمنس منیجمنٹ سسٹم کےلئے65ارب روپےجامشورو کول پاور پلانٹ کے لئے 21ارب اور این ٹی ڈی سی کی بہتری کےلئے 11ارب روپےمختص کئے گئے ہیں۔آبی وسائل کے لئے206ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں،مہمند ڈیم ہائیڈروپاور پراجیکٹ کےلئے 45ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،دیامر بھاشا ڈیم کے لئے 40ارب روپے،چشمہ رائٹ بینک کینال کے لئے 18ارب روپے بلوچستان میں پٹ فیڈر کینال کےلئے 10ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔بجلی چوری کےخلاف مہم میں 50ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔توانائی بچت کو ممکن بنانے والے پنکھوں کیلئے 2ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ زراعت ہماری معیشت کا اہم ستون ہے،زراعت ملکی جی ڈی پی کا 24فیصد ہے،زراعت کے ذریعے 37.4فیصد لوگوں کو روزگارملتا ہے،ملک کی فوڈ سیکیورٹی اورصنعتی شعبے کی پیداواری صلاحیت اس شعبے پر منحصر ہے،زراعت،لائیواسٹاک اورماہی پروری بھی قیمتی زرمبادلہ کے بڑے ذرائع ہیں،وزیراعظم نے 2022میں کسان پیکج کے تحت اسکیم کااعلان کیا،اگلے سال اس تجویز کے تحت 5ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجے جانے والے ترسیل زر کا معیشت میں اہم کردار ہے،حکومت بیرون ملک مقیم اہل وطن کیلئے متعدد سہولیات متعارف کروا رہی ہے،ترسیل زر کے فروغ کیلئے 86.9ارب روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،یہ رقم سوہنی دھرتی اسکیم اور دیگر اسکیموں کیلئے استعمال کی جائے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریرمیں اعلان کیا کہ آئی ٹی سیکٹر کےلئے 79ارب روپے،کراچی میں آئی ٹی پارک کے قیام کےلئے 8ارب روپے،ٹیکنالوجی پارک اسلام آباد منصوبے کے لئے 11ارب روپے ،ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کے لئے 20ارب روپے مختص ہونگے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ مالی سال 25-2024 کیلئے اقتصادی ترقی کی شرح3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے،افراط زر کی اوسط شرح 12 فیصد متوقع ہے،بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6.9 فیصد جبکہ پرائمری سر پلیس جی ڈی پی کا ایک فیصد ہوگا،ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ 12 ہزار 970 ارب روپے ہے،ایف بی آر کی اصلاحات کےلئے 7ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18،877 ارب روپے ہے،صوبوں کا حصہ 7ہزار438 ارب روپے ہو گا،وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 3ہزار587 ارب روپے ہو گا،وفاقی حکومت کی خالص آمدنی9ہزار119 ارب روپے ہو گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll