جی این این سوشل

کھیل

گیری کرسٹن نے لیڈز میں قومی کرکٹ ٹیم کو جوائن کرلیا

ٹیم منیجمنٹ اور کپتان بابراعظم نے گیری کرسٹن کو خوش آمدید کہا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

گیری کرسٹن نے لیڈز میں قومی کرکٹ ٹیم کو جوائن کرلیا
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے لیڈز میں ٹیم کو جوائن کرلیا ہے، ٹیم منیجمنٹ اور کپتان بابراعظم نے گیری کرسٹن کو خوش آمدید کہا۔

ٹیم کو جوائن کرنے کے بعد قومی ٹیم کے سینیئر منیجر وہاب ریاض نے گیری کرسٹن کو ٹیم کی ٹریننگ شرٹ پیش کی، گیری کرسٹن پیر سے ٹیم کے پریکٹس سیشن کی نگرانی کریں گے۔

پاکستان ٹیم مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 9 بجے سے دوپہر ساڑھے 12 بجے تک پریکٹس کرے گی جبکہ منگل کو دوپہر ڈیڑھ بجے سے شام ساڑھے 4 بجے تک پریکٹس کرے گی۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 4 ٹی ٹوئنٹی میچوں پر مشتمل سیریز 22 سے 30 مئی کے درمیان کھیلی جائے گی، دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ 22 مئی کو ہیڈنگلے لیڈز میں کھیلا جائے گا۔

جرم

قرآن کی مبینہ بے حرمتی پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ایک شخص ہلاک

مشتعل ہجوم نے مشتبہ شخص کے ساتھ تھانے اور ایک موبائل گاڑی کو آگ لگا دی، ڈی پی او سوات

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

قرآن کی مبینہ بے حرمتی پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ایک شخص ہلاک

خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات کے علاقے مدین میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

سوات کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ڈاکٹر زاہد اللہ خان کے مطابق بدامنی کے واقعے میں آٹھ افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے مبینہ بے حرمتی کے واقعے کے مشتبہ شخص کو تھانے منتقل کیا تھا لیکن ایک مشتعل ہجوم نے پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا اور مشتبہ شخص کو لے گئے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈی پی او نے کہا کہ مشتعل ہجوم نے مشتبہ شخص کے ساتھ تھانے اور ایک موبائل گاڑی کو آگ لگا دی۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ مشتعل ہجوم نے سڑک کے درمیان ایک شخص آگ لگا دی اور ساتھ ہی ایک پولیس اسٹیشن کے باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہیں۔

ڈی پی او نے کہا کہ مدین میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور وہ کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ مدین ،کالام، بحرین اور دیگر مقامات کے علاوہ وادی سوات کے مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ صوبائی دارالحکومت پشاور سے تقریباً 245 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کے پی کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے واقعے کا نوٹس لیا اور اس معاملے پر صوبائی پولیس چیف رپورٹ طلب کر لی۔

وزیر اعلیٰ کے پی کے نے پولیس چیف کو صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کا حکم دیا اور واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پولیس نے سرگودھا میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزام میں مشتعل افراد سے ایک مسیحی شخص کو بچایا تھا، جو 9 دن بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

2022 میں ضلع خانیوال کے ایک دور افتادہ گاؤں میں مبینہ بے حرمتی پر ایک ادھیڑ عمر شخص کو ہجوم نے سنگسار کر کے ہلاک کر دیاتھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران حکومتی اتحادی بھی پھٹ پڑے

ظلم بند کریں، عوام پر حد سے زیادہ ٹیکس نہ لگائیں، فاروق ستار

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران حکومتی اتحادی بھی پھٹ پڑے

قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران حکومتی اتحادی بھی پھٹ پڑے، ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے بجٹ کو ملکی سلامتی اور بقا کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ظلم بند کریں، عوام پر حد سے زیادہ ٹیکس نہ لگائیں۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفی شاہ کی صدارت میں شروع ہوا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج پورے پنجاب میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے تمام اپوزیشن الائنس پارٹیوں نے آج احتجاج کی کال دے رکھی ہے، آئی جی پنجاب وزیر وزیراعلی پنجاب کا ٹاؤٹ ہے، ہم پنجاب میں دفعہ 144 نافذ کرنے کی مذمت کرتے ہیں، ہمارے اراکین احتجاج میں شرکت کریں گے ہمارے اراکین کا استحقاق مجروح ہو رہا ہے، ان کی گرفتاریوں کا خدشہ ہے۔

 ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفیٰ شاہ نے صوبائی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا امید ہے کہ وہ خود ہی معاملہ حل کر لیں گے جس پر جمشید دستی اپنی نشست پر کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ ہماری بات کو سنا جائے یہ سیدھی سیدھی بدمعاشی ہے۔ اجلاس کے دوران ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفیٰ شاہ اور جمشید دستی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

ڈپٹی اسپیکر نے جمشید دستی کو فلور دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی بدمعاشی نہیں چلنے دوں گا، اگر آپ شور شرابہ اور بدمعاشی کرنا چاہتے ہیں تو میں اجلاس ملتوی کردوں گا، آپ مجھے ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے کہ کیسے اجلاس چلانا ہے۔ بعد ازاں اسپیکر نے بجٹ 2024-25پر بحث کا آغاز کرواتے ہوئے مائیک ڈاکٹر فاروق ستار کے حوالے کردیا۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ ملک میں ایک بار پھر روایتی بجٹ دے دیا گیا، ملکی سلامتی کے خلاف ایسا بجٹ نقصان دہ ہے، اسٹیٹس کو کی کوک سے روایتی بجٹ جنم لیتا ہے، 77 سال سے ہر سال ایک جیسا بجٹ پیش کیا جارہا ہے۔ پی ٹی آئی کی 4 سال کی حکومت میں بھی روایتی بجٹ پیش کیا گیا، روایتی بجٹ دینا ملک کی سلامتی اور بقا کے لیے خطرہ ہے، عوام دوست، کاروبار دوست بجٹ نہیں بنایا گیا، زمینداروں اور سرمایہ کاروں کو کیا ٹیکسز میں چھوٹ دیتے رہیں؟ دنیا ٹیکس فری رجیم پر جارہی ہے۔

رہنما ایم کیوایم نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ہی بھاری ٹیکسز لگائے گئے ہیں، پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ جب اپوزیشن میں تھی تو پیٹرولیم لیوی کی مخالفت کی، ہمیں بجٹ میں تیل، گیس اور پانی کے بلوں میں کمی کرنا ہوگی۔ پاکستان سے سرمایہ باہر جارہا ہے، ملیں بند ہورہی ہیں، 12 لاکھ نوجوان پاکستان چھوڑ کر دوسرے ممالک میں جارہے ہیں، ظلم بند کریں، عام شہریوں پر حد سے زیادہ ٹیکس نہ لگائیں، بجٹ میں جاگیرداروں، وڈیروں کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ معیشت قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، آپ بجلی کی قیمتوں میں خوفناک اضافہ کرتے جارہے ہیں، مہنگائی، بےروزگاری پاکستانی عوام کے بنیادی مسائل ہیں، بے روزگاری کی شرح میں 15 فیصد ہے۔ کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا ہے، بچے شہید ہورہے ہیں، احساس محرومی اب احساس بغاوت میں بدل رہا ہے، ڈریں اس وقت سے جب مظفرآباد کی طرح باقی ملک میں عوام سڑکوں پر آجائے، صرف قومی مفاہمت اور ایجنڈے سے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے، سب سیاسی جماعتیں سرجوڑکر بیٹھیں یہ کسی ایک جماعت کے بس میں نہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

گھریلو اور کمرشل بجلی کے صارفین کیلئے فکسڈچارجز عائد

نیپرا نے بجلی کے نئے ٹیرف متعارف کرادیے جن کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

گھریلو اور کمرشل بجلی کے صارفین کیلئے فکسڈچارجز عائد

 گھریلو بجلی کے صارفین پر 200 سے 1000 روپے ماہانہ فکس چارجز عائد کر دیے گئے ہیں، کمرشل صارفین پر فکس چارجز میں 300 فیصد اور صنعتی استعمال پر 355 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کے نئے نرخ متعارف کرادیے ہیں جن کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔رہائشی صارفین کے بجلی کے بلوں میں 200-1000 روپے کے پانچ ماہانہ چارجز استعمال کیے جانے والے ماہانہ یونٹس کے حساب سے مقرر کیے گئے ہیں۔ اور اسے کمرشل کے لیے 300 فیصد اور صنعتی صارفین کے لیے 355 فیصد کر دیا گیا ہے۔

اس سے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں(ڈسکوز)کو مقررہ چارجز کے ذریعے اپنی آمدنی بڑھانے میں مدد ملے گی۔ ماہانہ 301-400 یونٹ استعمال کرنے والے گھریلو صارفین یکم جولائی 2024 سے ماہانہ 200 روپے مقررہ چارجز ادا کریں گے اور 401-500 یونٹ استعمال کرنے والے 400 روپے ادا کریں گے۔ 501-600 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو 600 روپے ادا کرنا ہوں گے۔

601-700 یونٹ استعمال کرنے والے گھریلو صارفین 800 روپے ماہانہ ادا کریں گے اور 700 سے زائد یونٹ استعمال کرنے والے ماہانہ 1000 روپے مقررہ چارجز ادا کریں گے۔

5 کلو واٹ سے کم لوڈ والے کمرشل صارفین بھی ماہانہ 1000 روپے مقررہ چارجز ادا کریں گے تاہم 5 کلو واٹ یا اس سے زیادہ لوڈ والے بجلی کے کمرشل صارفین اب موجودہ 500 روپے سے 2000 روپے ادا کریں گے جس میں 300 فیصد اضافہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ٹی او یو میٹرنگ کے تحت 25 کلو واٹ تک استعمال کرنے والے صنعتی صارفین جو بی ون کیٹیگری میں آتے ہیں وہ 1000 روپے ادا کریں گے تاہم بی ٹو کیٹیگری کے صارفین 500 کلو واٹ تک کے فکسڈ چارجز میں 300 فیصد اضافہ دیکھیں گے کیونکہ وہ اب 500 روپے ماہانہ مقررہ چارجز کے بجائے 2000 روپے ادا کریں گے۔

5 ہزار کلو واٹ استعمال کرنے والے بی 3 کیٹیگری کے صنعتی صارفین 460 روپے ماہانہ سے 335 فیصد اضافے کے ساتھ 2000 روپے مقررہ چارجز ادا کریں گے۔ تمام بوجھ استعمال کرنے والے بی 4 کیٹیگری کے صارفین بھی مقررہ چارجز میں 355 اضافے کا تجربہ کریں گے کیونکہ اب وہ موجودہ 440 روپے سے 2000 روپے ماہانہ ادا کریں گے۔

اس وقت بجلی کے یونٹ کی کل لاگت 72 فیصد فکسڈ چارجز اور 28 فیصد متغیر چارجز پر مشتمل ہے۔ اب بھی، ریونیو کی جانب ، فکسڈ چارجز صرف 2 فیصد ہیں اور متغیر چارجز 98 فیصد ہیں۔ حکام نے کہا کہ متعلقہ حکام نے بجلی کے ٹیرف میں لاگت اور محصول کے ڈھانچے کے درمیان غلط مماثلت پائی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll