جی این این سوشل

صحت

یو ایچ ایس نے میڈیکل کالجوں کو طلبہ پر جرمانے عائد کرنے سے روک دیا

کوئی بھی میڈیکل کالج اب یو ایچ ایس کی منظوری کے بغیر کسی بھی طالب علم کو جرمانہ نہیں کرسکے گا، اعلامیہ

پر شائع ہوا

کی طرف سے

یو ایچ ایس نے میڈیکل کالجوں کو طلبہ پر جرمانے عائد کرنے سے روک دیا
یو ایچ ایس نے میڈیکل کالجوں کو طلبہ پر جرمانے عائد کرنے سے روک دیا

لاہور: یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے میڈیکل کالجوں کو طلبہ پر ہر قسم کے جرمانے عائد کرنے سے روک دیا۔ کوئی بھی میڈیکل کالج اب یو ایچ ایس کی منظوری کے بغیر کسی بھی طالب علم کو جرمانہ نہیں کرسکے گا۔ تمام سرکاری اور نجی تمام میڈیکل کالجز یو ایچ ایس پالیسی کی پیروی کے پابند ہوں گے۔

جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ غیر حاضری پر طلبہ کو بھاری جرمانے نہیں کیے جاسکیں گے۔ ڈسپلن کو یقینی بنانے کیلئے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں سہ ماہی پیرنٹ-ٹیچر میٹنگ لازمی قرار دے دی گئی۔

یہ فیصلے یو ایچ ایس کی اکیڈمک کونسل کے 37ویں اجلاس میں کیے گئے جس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر احسن وحید راٹھور نے کی۔ اجلاس میں الحاق شدہ میڈیکل کالجز اور دیگر اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔

اپنے خطاب میں پروفیسر احسن وحید راٹھور نے کہا کہ کالجز سٹوڈنٹ کلرک پر انحصار ختم کریں۔ طلبہ کو عزت دیں اور ان کے مسائل کے حل کیلئے فیکلٹی کو استعمال کیا جائے۔ اکیڈمک کونسل میں فیصلہ کیا گیا کہ میڈیکل کالجز کے طلبہ کو سال میں 18 چھٹیوں کی اجازت ہوگی۔ زیادہ چھٹیوں کی صورت میں طلبہ کو اضافی کلاسز پڑھنا ہوں گی۔

اجلاس میں طلبہ کے نظم و ضبط، حاضریوں کے حوالے سے واضح پالیسیاں کالجز کے پراسپیکٹس کا حصہ بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ وی سی یو ایچ ایس کا کہنا تھا کہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض کالجز چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنے طلبہ کو بھاری جرمانے کررہے ہیں۔یہ جرمانے طلبہ پر نہیں بلکہ ان کے والدین پر بوجھ ہیں۔

انھوں نے ہدایت کی کہ یونیورسٹی کو مطلع کیے بغیر کسی بھی طالب علم کو سزا نہ دی جائے۔ ممبران نے فیصلہ کیا کہ یونیورسٹی کی منظوری کے بغیر کوئی بھی کالج کسی طالب علم کو معطل یا خارج نہیں کرسکتا۔ اس بات کی بھی منظوری دی گئی کہ پروگرام منجمد کروانے پر اس کا اطلاق امتحانات ہر نہیں ہوگا۔

سمسٹر فریز کروانے پر امتحانات منجمد نہیں ہوں گے اور امیدوار کے چانسز شمار کیے جائیں گے۔ اکیڈمک کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز نادار طلبہ کیلئے سکالرشپ پالیسی لیکرآئیں۔ سلیکشن میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے کالجز کی سکالرشپ کمیٹی میں یو ایچ ایس کا ایک ممبر بھی شامل ہوگا۔

وی سی یو ایچ ایس نے مزید کہا کہ پی ایم ڈی سی کی پالیسی کے مطابق تمام پرائیویٹ کالجز اپنے ہسپتالوں میں فری بیڈز مختص کرنے کے پابند ہیں۔ اس حوالے سے پرائیویٹ ٹیچنگ ہسپتال اپنے قریبی سرکاری ہسپتال کے ساتھ معاہدہ کریں گے۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا رش بڑھنے پر انھیں متعلقہ پرائیویٹ ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔

 پروفیسر احسن وحید راٹھور نے بتایا کہ اس حوالے سے پنجاب حکومت پالیسی اور طریق کار وضع کررہی ہے۔ ممبران کو بتایا گیا کہ میڈیکل کے طلبہ کو مختلف تکنیکوں کی تربیت دینے کیلئے یو ایچ ایس سمر سکول شروع کیا جارہا ہے۔ یو ایچ ایس سمر سکول اسی سال موسم گرما کی چھٹیوں میں شروع کیا جارہا ہے۔

اجلاس میں فزیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر ہما سعید خان کو ایڈوانسڈ سٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ کا نیا ممبر نامزد کرنے، ایم ایس ویٹرو ریٹینل آپتھلمالوجی کے نئے نصاب اور ایم ایس نیورو سرجری کے ترمیم شدہ نصاب اور ڈگری پروگراموں کی طرز پر سرٹیفکیٹ اور ڈپلومہ پروگرامز میں کم از کم 85 فیصد حاضری کی شرط لانے کی منظوری بھی دی گئی۔

پاکستان

قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران حکومتی اتحادی بھی پھٹ پڑے

ظلم بند کریں، عوام پر حد سے زیادہ ٹیکس نہ لگائیں، فاروق ستار

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران حکومتی اتحادی بھی پھٹ پڑے

قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران حکومتی اتحادی بھی پھٹ پڑے، ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے بجٹ کو ملکی سلامتی اور بقا کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ظلم بند کریں، عوام پر حد سے زیادہ ٹیکس نہ لگائیں۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفی شاہ کی صدارت میں شروع ہوا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج پورے پنجاب میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے تمام اپوزیشن الائنس پارٹیوں نے آج احتجاج کی کال دے رکھی ہے، آئی جی پنجاب وزیر وزیراعلی پنجاب کا ٹاؤٹ ہے، ہم پنجاب میں دفعہ 144 نافذ کرنے کی مذمت کرتے ہیں، ہمارے اراکین احتجاج میں شرکت کریں گے ہمارے اراکین کا استحقاق مجروح ہو رہا ہے، ان کی گرفتاریوں کا خدشہ ہے۔

 ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفیٰ شاہ نے صوبائی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا امید ہے کہ وہ خود ہی معاملہ حل کر لیں گے جس پر جمشید دستی اپنی نشست پر کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ ہماری بات کو سنا جائے یہ سیدھی سیدھی بدمعاشی ہے۔ اجلاس کے دوران ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفیٰ شاہ اور جمشید دستی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

ڈپٹی اسپیکر نے جمشید دستی کو فلور دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی بدمعاشی نہیں چلنے دوں گا، اگر آپ شور شرابہ اور بدمعاشی کرنا چاہتے ہیں تو میں اجلاس ملتوی کردوں گا، آپ مجھے ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے کہ کیسے اجلاس چلانا ہے۔ بعد ازاں اسپیکر نے بجٹ 2024-25پر بحث کا آغاز کرواتے ہوئے مائیک ڈاکٹر فاروق ستار کے حوالے کردیا۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ ملک میں ایک بار پھر روایتی بجٹ دے دیا گیا، ملکی سلامتی کے خلاف ایسا بجٹ نقصان دہ ہے، اسٹیٹس کو کی کوک سے روایتی بجٹ جنم لیتا ہے، 77 سال سے ہر سال ایک جیسا بجٹ پیش کیا جارہا ہے۔ پی ٹی آئی کی 4 سال کی حکومت میں بھی روایتی بجٹ پیش کیا گیا، روایتی بجٹ دینا ملک کی سلامتی اور بقا کے لیے خطرہ ہے، عوام دوست، کاروبار دوست بجٹ نہیں بنایا گیا، زمینداروں اور سرمایہ کاروں کو کیا ٹیکسز میں چھوٹ دیتے رہیں؟ دنیا ٹیکس فری رجیم پر جارہی ہے۔

رہنما ایم کیوایم نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ہی بھاری ٹیکسز لگائے گئے ہیں، پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ جب اپوزیشن میں تھی تو پیٹرولیم لیوی کی مخالفت کی، ہمیں بجٹ میں تیل، گیس اور پانی کے بلوں میں کمی کرنا ہوگی۔ پاکستان سے سرمایہ باہر جارہا ہے، ملیں بند ہورہی ہیں، 12 لاکھ نوجوان پاکستان چھوڑ کر دوسرے ممالک میں جارہے ہیں، ظلم بند کریں، عام شہریوں پر حد سے زیادہ ٹیکس نہ لگائیں، بجٹ میں جاگیرداروں، وڈیروں کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ معیشت قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، آپ بجلی کی قیمتوں میں خوفناک اضافہ کرتے جارہے ہیں، مہنگائی، بےروزگاری پاکستانی عوام کے بنیادی مسائل ہیں، بے روزگاری کی شرح میں 15 فیصد ہے۔ کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا ہے، بچے شہید ہورہے ہیں، احساس محرومی اب احساس بغاوت میں بدل رہا ہے، ڈریں اس وقت سے جب مظفرآباد کی طرح باقی ملک میں عوام سڑکوں پر آجائے، صرف قومی مفاہمت اور ایجنڈے سے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے، سب سیاسی جماعتیں سرجوڑکر بیٹھیں یہ کسی ایک جماعت کے بس میں نہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات

ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور صوبے کے مسائل بارے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران وزیر اعظم میاں شہبازشریف اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ملکی سیاسی صورتحال اور صوبے کے مسائل بارے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے صوبہ خیبر پختونخوا سے متعلق امور پر بات چیت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے وفاقی حکومت ہر ممکن مدد اور وسائل فراہم کرے گی۔

واضح رہے گزشتہ ماہ 30مئی کو بھی وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا کی ملاقات ہوئی تھی اور فیصل کریم کنڈی نے حکومت کی کاروبار و سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی بدولت ملک میں بڑھتی ہوئی بیرونی سرمایہ کاری پر وزیر اعظم کو خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

لوڈ شیڈنگ پر عوامی در عمل کہیں قابو سے باہر نہ ہو جائے، علی امین گنڈا پور

وفاقی حکومت اپنے کئے ہوئے وعدے پورے نہیں کر رہی، وزیر اعلیٰ کے پی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

لوڈ شیڈنگ پر عوامی در عمل کہیں قابو سے باہر نہ ہو جائے، علی امین گنڈا پور

وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور نے لوڈشیڈنگ سے متعلق اجلاس کے دوران کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کسی ایک سیاسی جماعت یا صوبائی حکومت کا نہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ عوامی رد عمل قابو سے باہر ہو جائے، وفاقی حکومت کو اس سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

علی امین گنڈا پور کے زیر صدارت اجلاس میں چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریزاوردیگر نے شرکت کی اور اجلاس میں بجلی لوڈشیڈنگ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ کے پی کو بتایا گیا کہ گزشتہ مہینےلاسزوالےعلاقوں سے1ارب روپےکی ریکوری ہوئی، صوبے میں پیسکوکی تنصیبات اور عملے کو سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ عیدالاضحیٰ میں زیرولوڈشیڈنگ وعدے پر عملدرآمد نہ ہوسکا، یکم مئی 2024 سےاب تک لوڈ شیڈنگ کےخلاف 81 مظاہرے ہوئے، اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی توسنگین مسائل جنم لینے کا خدشہ ہے۔

اس موقع پر علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنے کئے ہوئے وعدے پورے نہیں کر رہی، ناروا لوڈشیڈنگ کی وجہ سے صوبے میں لوگوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہےغیراعلانیہ لوڈشیڈنگ سےعوامی رد عمل سخت سے سخت ہوتا جارہا ہے، صوبے میں لاسز کو ختم کرنے کے لئے بھر پور تعاون کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں 12 گھنٹوں سے زیادہ لوڈشیڈنگ کسی صورت قبول نہیں ہوگی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll