جیل میں سابق وزیر اعظم والی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی، بانی چیئرمین پی ٹی آئی
حکومت نے اپنی غلطیوں کو چھپانے کےلئے نیب قوانین میں ترامیم کیں، عمران خان


بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا ہے کہ جیل میں سابق وزیر اعظم والی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ہیں، جیل میں بیٹھ کر ٹویٹر اکاؤنٹ استعمال نہیں کر سکتا لیکن اپنی ٹویٹ کو تسلیم کرتا ہوں، جیل میں ہوں ٹوئٹ نہیں کرسکتا، وکلاء کو ٹوئٹ کی ہدایات کرتا ہوں۔
190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ متنازع ٹویٹ میں ایف آئی اے نے جس ویڈیو کا تذکرہ کیا اس کو دیکھ کر ہی بتا سکتا ہوں۔ حکومت نے اپنی غلطیوں کو چھپانے کےلئے نیب قوانین میں ترامیم کیں۔
بانی چیئرمین نے کہا کہ سائفر کیس میں ایف آئی اے کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیے، جیل میں ایک ڈیتھ سیل میں ٹھہرایا گیا ہے، ایک ایکسرسائز بائیک کے سوا کچھ نہیں دیا گیا۔ جیل کی تمام چکیوں میں کولرز موجود ہیں خاص طور پر میرے لئے نہیں لگائے گئے۔
عمران خان نے کہا کہ ہمارے دور حکومت میں ساڑھے تین سال میں نیب نے ساڑھے 4 سو ارب روپے جمع کیے، اب گیارہ سو ارب مزید جمع ہونے تھے لیکن نیب ترامیم کے باعث ایک دفعہ تین لاکھ دوسری دفعہ ڈیڑھ کروڑ روپے جمع ہوئے، نیب ترامیم کی وجہ سے ملک کا گیارہ سو ارب روپے کا نقصان ہوا، جو ملک گھٹنوں کے بل ہو وہ اتنے نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے لوگ ہمارے ہیروز ہیں، ایف آئی اے میرے خلاف جھوٹا سائفر کیس بنانے پر مجھ سے پہلے معافی مانگے، ملک میں سیاسی انتقام جاری ہے، ایف آئی اے کو صرف وکلاء کی موجودگی میں جواب دوں گا یہ سب محسن نقوی کرا رہا ہے۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں نے مشرف دور میں بھی شوکت عزیز سے مذاکرات نہیں کیے، مشرف کے نمائندے سے مذاکرت کیے تھے جہاں طاقت موجود تھی ان ہی سے بات کی،جسٹس بندیال کے کہنے پر ہم نے انتخابات پر سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کیے، قانون کے مطابق نوے دن میں الیکشن ہونے تھے لیکن جسٹس بندیال اپوزیشن کے ہتھکنڈوں کے دباؤ میں آگیا۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا میں جیل میں بیٹھ کر وڈیو کیسے پوسٹ کرسکتا ہوں؟ میں اس ٹویٹ کو اون کرتا ہوں لیکن جو وڈیو پوسٹ کی گئی وہ نہیں دیکھی اس پر بات نہیں کروں گا۔
عمران خان نے کہا کہ میں ٹویٹ کرنے کا صرف وکلاء کو بتاتا ہوں، میں شکایت نہیں کرتا اور چوں چوں کرنے والا نہیں ہوں، میرے پاس ایکسر سائز مشین کے سوا کوئی سہولت موجود نہیں، روم کولر ساری چکیوں میں لگے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور زرداری کے ساتھ ملاقاتوں کا تانتا بندھا ہوتا تھا، مجھے وکلاء اور فیملی کے ساتھ آدھا آدھا گھنٹہ ملاقات دی جاتی ہے، جس ملک میں استحکام نہیں ہوگا سرمایہ کاری نہیں آئے گی، موجودہ بجٹ میں مہنگائی کی شرح مزید بڑھے گی ملک کے قرضے بڑھتے جائیں گے، اسی وجہ سے پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں بنی۔
آئل ٹینکر پر حملہ، دو پاکستانیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
- 2 دن قبل
بالی وڈ اسٹارمادھوری ڈکشت 24 سال بعد ٹی وی اسکرین پر جلوہ گر ہوں گی
- 14 گھنٹے قبل

ورلڈکپ 2027، 10 ٹیموں کی براہِ راست انٹری
- ایک دن قبل
حج 2027کے لیے درخواست اور پاسپورٹ سے متعلق نئی ہدایات جاری کر دی گئیں
- 2 دن قبل
گوگل جیمنائی کے صارفین کی تعداد کتنی ہو گئی؟
- 14 گھنٹے قبل

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پہلی قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا اجرا کر دیا
- 8 گھنٹے قبل

پنجابی فلم ’’عشق بدمعاش‘‘ کا ٹریلر جاری
- ایک دن قبل

نادرانے مشین متعارف کر وا دی، عوام کو کیا فائدہ ہو گیا؟
- 13 گھنٹے قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں ایک اور اضافہ
- 2 دن قبل
ایک اور لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- 8 گھنٹے قبل

فیملی ڈرامہ ’’فرینڈز آف سیونٹیز‘‘ نے دھوم مچا دی
- ایک دن قبل
وزیراعظم کی کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کے 3 سالہ آڈٹ کرانے کی ہدایت
- ایک دن قبل


