جی این این سوشل

کھیل

پاکستانی ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2026 کوالیفائرزر رائونڈ 2 کھیلنے کیلئے تاجکستان روانہ

قومی ٹیم نے پرائیویٹ ائیر لائنز کی چارٹرڈ پرواز سے دوشنبے روانہ ہونا تھا لیکن چارٹرڈ فلائٹ کو تکنیکی خرابی کی وجہ سے روک دیا گیا تھا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پاکستانی ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2026 کوالیفائرزر رائونڈ 2 کھیلنے کیلئے تاجکستان روانہ
پاکستانی ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2026 کوالیفائرزر رائونڈ 2 کھیلنے کیلئے تاجکستان روانہ

پاکستان فٹبال ٹیم فیفا ورلڈکپ 2026 کوالیفائرز راؤنڈ 2 کا میچ کھیلنے کیلئے تاجکستان روانہ ہوگئی۔

قومی ٹیم نے پرائیویٹ ائیر لائنز کی چارٹرڈ پرواز سے دوشنبے روانہ ہونا تھا لیکن چارٹرڈ فلائٹ کو تکنیکی خرابی کی وجہ سے روک دیا گیا تھا۔

فٹبال ٹیم کی دوشنبے روانگی کیلئے پی ایف ایف کی جانب سے سرتوڑ کوشش کی گئیں جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی دلچسپی سے قومی فٹبال ٹیم تاجکستان روانہ ہوگئی۔

قومی فٹبال ٹیم پاک فضائیہ کے خصوصی طیارے سے نور خان ائیر بیس سے دوشنبہ روانہ ہوئی، جہاں قومی ٹیم کا میچ آج تاجکستان سے شیڈول ہے اور میچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 بجے کھیلا جائے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان ٹیم فیفاورلڈ کپ 2026 کوالیفائرز راؤنڈ کا یہ آخری میچ کھیلے گی۔

پاکستان

وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری

آپریشن عزم استحکام پر ابہام یا قیاس آرائیاں ہورہی ہیں لیکن واضح کردوں یہ آپریشن دیگر آپریشنز کی طرح نہیں ہے ، وزیراعظم شہباز شریف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری

وفاقی کابینہ نے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دےدی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں کابینہ نے نیشنل ایکشن پلان کے ایپکس کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کی۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ کابینہ نے ایپکس کمیٹی کی جانب سے اعلان کیے جانے والے آپریشن عزم استحکام کی بھی منظوری دے دی۔

وزیراعظم شہباز شریف کابینہ اجلاس میں کہا کہ آپریشن عزم استحکام پر ابہام یا قیاس آرائیاں ہورہی ہیں لیکن واضح کردوں یہ آپریشن دیگر آپریشنز کی طرح نہیں ہے یہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوگا جس میں کسی کو کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ یہ نیشنل ایکشن پلان کا تسلسل ہے اور اسی کو آگے لے کر چلنا ہے، عزم استحکام آپریشن میں عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، نہ ہی لوگوں کے گھروں میں کوئی اس طرح کی کارروائی کی جائے گی ، صرف شر پسند عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ چند دن قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں انسداد دہشتگردی کے لیے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دی گئی تھی تاہم جے یو آئی، پی ٹی آئی اور اے این پی کی جانب سے آپریشن پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

نیشنل اکنامک چارٹر بنانا ہے تو سب سے مشورہ کرنا ہو گا، بلاول بھٹو

حکومتی اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے دوستوں کو بھی بات کرنا پڑے گی، چیئرمین پیپلز پارٹی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

نیشنل اکنامک چارٹر بنانا ہے تو سب سے مشورہ کرنا ہو گا، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نیشنل اکنامک چارٹر بنانا ہے تو سب سے مشورہ کرنا ہو گا، حکومتی اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے دوستوں کو بھی بات کرنا پڑے گی۔

قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ میثاق معیشت کے بغیر ملک کے بنیادی معاشی مسائل حل نہیں ہوسکتے، عوام کو روٹی کپڑا اور مکان کی فکر ہے، ان کو روٹی کپڑا مکان، غربت اور مہنگائی میں دلچسپی ہے۔عوام چاہتے ہیں ان کے مسائل کا حل پیش کریں، شہبازشریف نے وزیراعظم بنتے ہی چارٹرآف اکانومی کی بات کی، چارٹرآف اکانومی کہیں سے ڈکٹیٹ نہیں ہو سکتا، ازخود فیصلہ نہیں ہوسکتا، چارٹرآف اکانومی پرسب سےمشورہ، اتفاق رائے کرنا پڑے گا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ اپوزیشن کو بھی دعوت دی جانی چاہیے تھی، ہم مشاورت کرتے تو ہماری سیاسی طور پر بھی جیت ہوتی اور معاشی طور پر بھی بہتر فیصلے لیتے، پاکستان کے معاشی حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ دعا ہے وزیراعظم کی ٹیم اور ہم مل کر ملک کو ان حالات سے نکالیں، الیکشن میں معاشی لحاظ سے سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی کا تھا، ہم جب الیکشن لڑرہے تھے تو کہا جاتا 5سال پہلے معاشی حالات کیا تھے اور اب کیا ہیں؟، وزیراعظم نے چارٹر آف اکانومی کی بات کی، چارٹر آف اکانومی کہیں سے ڈکٹیٹ نہیں ہوسکتا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت بننے پر پی پی، ن لیگ کے درمیان ایک معاہدہ طے ہوا، حکومت کوپی ایس ڈی پی بجٹ ہمارے ساتھ مل بیٹھ کربنانا چاہئے تھا۔ حکومت پالیسیوں کےنتیجےمیں مہنگائی میں کمی آرہی ہے، امید کرتے ہیں حکومت مہنگائی میں کمی کیلئے پالیسیاں جاری رکھےگی، بجٹ میں بی آئی ایس پی میں27 فیصد اضافے پر حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

بلاول نے کہا کہ ہم ٹیکس بیس میں اضافے،غریبوں پرٹیکس نہ ڈالنےکاکہتےہیں، بجٹ میں بڑے لوگوں کو پکڑنے،عام آدمی کوریلیف پہنچانےکا کہتے ہیں، ہم ابھی تک عوام کو ریلیف پہنچانےمیں ناکام رہے، ہربجٹ ان ڈائریکٹ ٹیکس پرزور دیتا ہےاورنقصان عام آدمی اٹھاتا ہے۔ ہم نے تجویز کیا تھا کمپنیوں سے لے کر کسانوں کو ڈائریکٹ سبسڈی دی جائے، فرٹیلائزڈ کمپنیوں کو حکومت اربوں کی سبسڈی دلواتی ہے، وزیراعظم کو مشورہ ہے آگے قدم بڑھائیں ان بڑی بڑی لابیز کا مقابلہ کرنےکیلئے ، پیپلز پارٹی لابیز کا مقابلہ کرنے کیلئے وزیراعظم شہبازشریف کے ساتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمسایہ ملک اپنے کسانوں کو اربوں روپے کی سپورٹ کرتا ہے، ہم اگر اپنے کسانوں کو آدھی سپورٹ بھی دیتے ہیں تو ہمسایوں سے مقابلہ کرسکتے ہیں، ہم کسانوں کی سپورٹ سے دنیا میں فوڈ سکیورٹی کے بحران کی بھی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ اس بجٹ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم کس طرح کسانوں پر مزید بوجھ ڈال سکتے ہیں، نگران حکومت کی وجہ سے کسانوں کو نقصان ہوا ہے، امکان ہے اب بھی کسانوں کو نقصان ہوگا، ہم زرعی شعبے کی مدد کرکے اچھے نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ آج اور آنے والے وقت کا اہم مسئلہ موسمی تبدیلی ہے، پاکستان کے عوام کو ہیٹ ویو اور سیلاب کی صورت میں نقصان اٹھانا پڑتا ہے، پوری دنیا موسمی تبدیلی سے پریشان ہے، نارتھ پول اور ساؤتھ پول کے بعد سب سے بڑی برف کی تعداد ہمارے ناردرن ایریاز میں موجود ہے،  پاکستان تھرڈ پول کے طور پرجانا جاتا ہے، دنیا کو بتانا ہوگا کہ ہمارا کیا ہوگا جب ہمارے پہاڑوں کی برف پگھلے گی۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کووفاق کیلئےسیلز ٹیکس آن گڈزاکٹھا کرنے کا اختیار دیاجائے، پیپلزپارٹی نےعوامی معاشی معاہدےکےاتحت الیکشن لڑا، وزیر اعظم کی ابتدائی تقریرمیں پیپلزپارٹی کےچندنکات شامل تھے، وزیراعظم سےاپیل ہےبڑےلابیزکامقابلہ کرنےکیلئےقدم بڑھائیں، وزیراعظم قدم بڑھائیں پیپلزپارٹی آپ کےساتھ ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

سپریم کورٹ کے 3 نئے ججز نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

گزشتہ روز جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس شہزاد احمد خان اور جسٹس شاہد بلال حسن کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سپریم کورٹ کے 3 نئے ججز نے عہدے کا حلف اٹھا لیا

جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس شہزاد احمد خان اور جسٹس شاہد بلال حسن نے بطور جج سپریم کورٹ حلف اٹھا لیا۔

حلف برداری کی تقریب سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقد ہوئی، جہاں چیف جسٹس  آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ان سے حلف لیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں 3 ججوں کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔ نوٹیفکیشن میں جسٹس عقیل احمد عباسی، جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس شاہد بلال حسن کی بطور جج سپریم کورٹ آف پاکستان میں تعیناتی کی منظوری دی گئی تھی۔

اسلام آباد سے وزارتِ قانون نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد ججز کی تعیناتیوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ صدرِ مملکت نے آئین کے آرٹیکل 177 کے تحت ان تعیناتیوں کی منظوری دی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 196 کے تحت جسٹس شجاعت علی خان قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مقررکردیے گئے۔

جسٹس شجاعت علی خان مستقل چیف جسٹس کی تقرری تک قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ رہیں گے۔جسٹس محمد شفیع صدیقی کو قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ مقرر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جسٹس ملک شہزاد خان چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، جسٹس عقیل احمد عباسی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور جسٹس شاہد بلال حسن لاہور ہائیکورٹ کے جج تھے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll