جی این این سوشل

علاقائی

عیدالاضحی پر لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی، لیسکو نے فیصلہ کر لیا

لیسکو نے عید کی چھٹیوں کے دوران بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے کنٹرول روم قائم کردیا گیا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

عیدالاضحی پر لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی، لیسکو نے فیصلہ کر لیا
عیدالاضحی پر لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی، لیسکو نے فیصلہ کر لیا

لیسکو نے عیدالاضحی پر لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے عید کی چھٹیوں کے دوران بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے کنٹرول روم قائم کردیا گیا، چھٹیوں کے دوران لیسکو کے اعلیٰ افسران کنٹرول روم میں فرائض سرانجام دیں گے۔

عیدالاضحی کی چھٹیوں کے دوران تمام شکایت سنٹرز بھی فعال رہیں گے جبکہ لیسکو کی تمام سب ڈویژنز میں بھی لائن سٹاف موجود رہے گا، چھٹیوں کے دوران ڈیوٹی پر موجود تمام فیلڈ سٹاف کو موبائل فون آن رکھنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

حکام کی جانب سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری سامان تیار رکھنے کی ہدایت کی گئی جبکہ تمام سب ڈویژنز میں اضافی ٹرانسفارمرز اور دیگر ضروری سامان موجود رہے گا۔

چیف ایگزیکٹو لیسکو نے ہدایت کی ہے کہ عید کے لیے اضافی ٹرانسفارمر، ٹرالی اور گاڑیوں کا بندوبست کیا جائے۔

پاکستان

بجٹ اجلاس، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے بجٹ پیش کیا جا رہا ہے

حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں 101 فیصد کا اضافے کا اعلان

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بجٹ اجلاس، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے  بجٹ پیش کیا جا رہا ہے

قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوگیا اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بجٹ پیش کررہے ہیں۔

بجٹ دستاویز کے مطابق حکومت کی جانب سے برآمد کرنے اور مقامی ضروریات پوری کرنے کے لیے سولر پینلز تیار کرنے کی غرض سے پلانٹ ، مشینری اور اس کے ساتھ منسلک آلات اور سولر پینلز، انورٹرز (Inverters) اور بیٹریوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال اور پرزہ جات کی درآمد پر رعایتیں دی جارہی ہیں تاکہ درآمد شدہ سولر پینلز پر انحصار کم کیا جاسکے اور قیمتی زرمبادلہ بچایا جاسکے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں 101 فیصد کا اضافہ کیا ہے، جاری سکیموں کیلئے 81 فیصد اور نئی سکیموں کیلئے 19 فیصد بجٹ دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر، انضمام شدہ اضلاع کیلئے ترقیاتی کام کیے جائیں گے، جاری ترقیاتی منصوبوں کو آئندہ مالی سال ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا، 5 ایز کے تحت ایکسپورٹ، ایکویٹی، امپاورمنٹ، انوائرمنٹ اور انرجی پر توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت کے اسٹینڈ بائی معاہدہ کرنے پر اس کی تعریف کرنا ہوگی، اسٹیڈ بائی معاہدے سے معاشی استحکام کی راہ ہموار ہوئی، اسٹینڈ بائی معاہدے سے غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوا، مہنگائی مئی میں کم ہوکر 12فیصد تک آگئی اور اشیائے خورد و نوش عوام کی پہنچ میں ہیں۔ آنے والے دنوں میں منہگائی میں مزید کمی کا امکان ہے، ہماری مالیاتی استحکام کی کوششیں ثمر آور ہورہی ہیں، سرمایہ کار متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کررہے ہیں۔

وفاقی حکومت نے بجٹ 25-2024  میں کم سے کم ماہانہ تنخواہ کو 32 ہزار روپے سے بڑھا کر 36  ہزار  روپے کردیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق گریڈ ایک سے 16 کے سرکاری ملازمین کی قوت خرید بہتر بنانے کے لیے تنخواہوں میں پچیس  فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے جب کہ 17 سے 22 گریڈ تک افسران کی تنخواہوں بائیس اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بائیس  فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے۔ حکومت کی جانب سے  مالی سال 25-2024 کے بجٹ میں سولر پینل انڈسٹری کے فروغ کیلئے درآمد پر رعایت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیرخزانہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن اراکین کا ایوان میں شور شرابہ جاری ہے اورسنی اتحاد کونسل کے ارکان کا اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج اور نعرے لگا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ  قومی اسمبلی میں مالی سال 25-2024 کا بجٹ پیش کیا جارہا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

صحت

وزیر اعلیٰ پنجاب کا صوبے کو جعلی اور غیر معیاری دواؤں سے پاک کرنے کا حکم 

وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت محکمہ صحت کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں غیر معیاری اور جعلی ادویات کی سپلائی اوران کے تدارک کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وزیر اعلیٰ پنجاب کا صوبے  کو جعلی اور غیر معیاری دواؤں سے پاک کرنے کا حکم 

وزیر اعلیٰ کا پنجاب کو جعلی اور غیر معیاری دواؤں سے پاک کرنے کا حکم 

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب  نے صوبہ بھر کو جعلی اور غیر معیاری دواؤں سے صاف کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت محکمہ صحت کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں غیر معیاری اور جعلی ادویات کی سپلائی اوران کے تدارک کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ 
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے  اعلان  کیا کہ اگر کوئی دوائی جعلی یا غیر معیاری نکلی  تو محکمہ صحت کی  ذمہ داری ہوگی۔ مزید یہ کہ جعلی اور ناقص دوائی بیچنے والوں کو جرمانہ اور  قید کی سزا ہو گی۔ 
 وزیراعلی پنجاب مریم نواز  نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کے افسران کے ضمیر کو جگاناپڑے گا۔  ڈاکٹر ز اور عملہ محنت اور نیک نیتی سے کام کر کے پنجاب میں صحت کا نظام ٹھیک کرے۔ ہمیں اپنے  پاکستانی اور  ہم وطنوں کی خدمت کرنی ہے۔ خدا خوفی اور مخلوق خدا کی خدمت ایک بڑی عبادت ہے۔
مریم نواز نے ہدایات دیتے ہوئے مزید کہا کہ عوام اور مریضوں کو پتہ چلنا چاہیے کہ صحت اور علاج کے نظام میں تبدیلی آئی ہے ۔ انہوں نے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں، نرسوں اور باقی عملے کی حاضری کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ ایمرجنسی میں علاج کی تمام سہولیات اور ادویات، جان بچانے کے آلات کی فراہمی یقینی بنائی جانے کا حکم دیا۔  
 وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے ادویات کی میڈیکل اسٹورز کی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کی ہدایت کی۔ انہوں نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ صفائی اور دوائی کے معاملے میں کوتاہی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ہسپتالوں میں سہولیات کی عدم فراہمی پر محکمہ صحت کے افسران  اورہسپتال کی ایڈمینسٹریشن ذمہ دار ہو گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

بجٹ 2024-25، تانبے، کوئلے، کاغذ اور پلاسٹک کے اسکریپ پر سیلز ٹیکس نافذ

جائیداد کی خریدوفروخت پر فائلر پر15 فیصد ٹیکس لگے گا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بجٹ 2024-25، تانبے، کوئلے، کاغذ اور پلاسٹک کے اسکریپ پر سیلز ٹیکس نافذ

وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 25-2024 کے لیے 18 ہزار 887 ارب روپے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر رہی ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں کہا ہے کہ وفاقی بجٹ میں ملازمین کی کم سے کم تنخواہ 32 ہزار سے بڑھا کر 37 ہزار کرنے کی تجویز ہے۔

وفاقی بجٹ میں سیلز ٹیکس پندرہ سے بڑھا کر اٹھارہ فیصد کر دیا گیا۔ تانبے، کوئلے، کاغذ اور پلاسٹک کے اسکریپ پر سیلز ٹیکس نافذ کردیا گیا،نان کسٹم پیڈ سگریٹ بیچنے پر دکان سیل ہو گی،فاٹا اور پاٹا کیلئے دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،رہائشیوں کو مزید ایک سال انکم ٹیکس چھوٹ ملے گی۔گاڑیوں کی خریداری پر ٹیکس انجن کپیسٹی کے بجائے گاڑی کی قیمت کے تناسب پر لگے گا۔

محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ توانائی کا شعبہ گردشی قرضوں کے چیلنج سے دوچار ہے،یہ قرض اب ناقابل برداشت ہوچکا ہے،پاور سیکٹر کی پیچیدگیوں کا حل بلا شبہ مشکل ہے ،پاور سیکٹر میں نقصانات کم کرنے کیلئے ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹریبوشن کو بہتر بنائیں گے۔9بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا منصوبہ ہے،توانائی کے شعبے میں ڈسٹری بیوشن اورپرفارمنس منیجمنٹ سسٹم کےلئے65ارب روپےجامشورو کول پاور پلانٹ کے لئے 21ارب اور این ٹی ڈی سی کی بہتری کےلئے 11ارب روپےمختص کئے گئے ہیں۔آبی وسائل کے لئے206ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں،مہمند ڈیم ہائیڈروپاور پراجیکٹ کےلئے 45ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،دیامر بھاشا ڈیم کے لئے 40ارب روپے،چشمہ رائٹ بینک کینال کے لئے 18ارب روپے بلوچستان میں پٹ فیڈر کینال کےلئے 10ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔بجلی چوری کےخلاف مہم میں 50ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔توانائی بچت کو ممکن بنانے والے پنکھوں کیلئے 2ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ زراعت ہماری معیشت کا اہم ستون ہے،زراعت ملکی جی ڈی پی کا 24فیصد ہے،زراعت کے ذریعے 37.4فیصد لوگوں کو روزگارملتا ہے،ملک کی فوڈ سیکیورٹی اورصنعتی شعبے کی پیداواری صلاحیت اس شعبے پر منحصر ہے،زراعت،لائیواسٹاک اورماہی پروری بھی قیمتی زرمبادلہ کے بڑے ذرائع ہیں،وزیراعظم نے 2022میں کسان پیکج کے تحت اسکیم کااعلان کیا،اگلے سال اس تجویز کے تحت 5ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بھیجے جانے والے ترسیل زر کا معیشت میں اہم کردار ہے،حکومت بیرون ملک مقیم اہل وطن کیلئے متعدد سہولیات متعارف کروا رہی ہے،ترسیل زر کے فروغ کیلئے 86.9ارب روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،یہ رقم سوہنی دھرتی اسکیم اور دیگر اسکیموں کیلئے استعمال کی جائے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریرمیں اعلان کیا کہ آئی ٹی سیکٹر کےلئے 79ارب روپے،کراچی میں آئی ٹی پارک کے قیام کےلئے 8ارب روپے،ٹیکنالوجی پارک اسلام آباد منصوبے کے لئے 11ارب روپے ،ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کے لئے 20ارب روپے مختص ہونگے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ مالی سال 25-2024 کیلئے اقتصادی ترقی کی شرح3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے،افراط زر کی اوسط شرح 12 فیصد متوقع ہے،بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6.9 فیصد جبکہ پرائمری سر پلیس جی ڈی پی کا ایک فیصد ہوگا،ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ 12 ہزار 970 ارب روپے ہے،ایف بی آر کی اصلاحات کےلئے 7ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18،877 ارب روپے ہے،صوبوں کا حصہ 7ہزار438 ارب روپے ہو گا،وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 3ہزار587 ارب روپے ہو گا،وفاقی حکومت کی خالص آمدنی9ہزار119 ارب روپے ہو گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll