جی این این سوشل

کھیل

ٹی 20 ورلڈ کپ: جنوبی افریقہ نے نیپال کو سنسی خیر مقابلے میں شکست دے دی

نیپال کے آصف شیخ نے بہترین بلے بازی کی، ایک چھکے اور 4 چوکوں کی مدد سے 49 گیندوں پر 42 رنز بنا کر نمایاں رہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ٹی 20 ورلڈ کپ: جنوبی افریقہ نے نیپال کو سنسی خیر مقابلے میں شکست دے دی
ٹی 20 ورلڈ کپ: جنوبی افریقہ نے نیپال کو سنسی خیر مقابلے میں شکست دے دی

آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 کے میچ میں جنوبی افریقہ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد نیپال کو شکست دے دی۔

افریقہ نے نیپال کو 116 رنز کا ہدف دے دیا۔

آئی سی سی کے زیر اہتمام امریکہ اور ویسٹ انڈیز کی میزبانی میں ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے 31ویں میچ میں نیپال نے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جنوبی افریقہ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے نیپال کو مقررہ اوورز میں جیت کے لیے 116 رنز کا ہدف دیا۔

جنوبی افریقہ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد نیپال کو شکست دے دی۔ نیپال کے آصف شیخ نے بہترین بلے بازی کی۔ وہ ایک چھکے اور 4 چوکوں کی مدد سے 49 گیندوں پر 42 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ انیل کمار ساہ نے 27 اور کشال بھروٹل نے 13 رنز بنائے۔ ان کے علاوہ کوئی بھی کھلاڑی ڈبل فگر میں رنز نہ بنا سکا۔

جنوبی افریقہ نے مقررہ اوورز میں 7 کھلاڑیوں کے نقصان پر 115 رنز بنائے۔ اوپنر ریزا ہینڈرکس سب سے زیادہ رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ انہوں نے 5 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 49 گیندوں پر 43 رنز بنائے۔

ٹرسٹن اسٹبس نے 18 گیندوں پر27 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ ریزا ہینڈرکس اور ٹرسٹن اسٹبس کے علاوہ کوئی بھی کھلاڑی نمایاں کھیل پیش نہ کر سکا۔

نیپال کے کشل بھروٹل نے بہترین باؤلنگ کرائی۔ انہوں نے 19 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ دپندرا سنگھ ایری نے 21 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا۔

تجارت

 سونے کی قیمتوں میں عالمی اور مقامی سطح پر کمی

24 قیراط سونے کی قیمت فی تولہ 500 روپے کی کمی سے 250,500 روپے ہو گئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

 سونے کی قیمتوں میں عالمی اور مقامی سطح پر کمی

کراچی: سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کا سلسلہ جاری ہے، جس میں آج بین الاقوامی اور مقامی دونوں مارکیٹوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ 24 قیراط سونے کی قیمت فی تولہ 500 روپے کی کمی سے 250,500 روپے ہو گئی۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت فی اونس 11 ڈالر کی کمی سے 2,391 ڈالر ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق معاشی سست روی کا بدترین دور ختم ہو سکتا ہے، جس سے محفوظ اثاثوں جیسے سونے کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحانات کا اثر پاکستان کی مقامی سونے کی مارکیٹ پر بھی پڑا۔ 24 قیراط سونے کی قیمت فی تولہ 500 روپے کی کمی سے 250,500 روپے ہو گئی، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 429 روپے کی کمی سے 214,763 روپے ہو گئی۔

سونے کی مارکیٹ غیر مستحکم ہے اور قیمتوں میں قلیل مدتی اتار چڑھاؤ  جاری رہنے کا امکان ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پاکستان تحریک انصاف کا پارلیمنٹ کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ جاری

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ کے اندر کیمپ لگانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پاکستان تحریک انصاف کا پارلیمنٹ کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ جاری

پاکستان تحریک انصاف کا پارلیمنٹ کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ کے اندر کیمپ لگانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

اس سے قبل تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ نے گرفتاریوں، چھاپوں، قیادت اور کارکنوں کے خلاف مقدمات پر آج پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے علامتی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں پی ٹی آئی کا پارلیمنٹ کےباہربھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے، بھوک ہرتالی کیمپ میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر ، اسد قیصر، علی محمد خان، فلک ناز چترالی، شیخ وقاص اور سینیٹر ہمایوں مہمند شریک ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھوک ہڑتالی کیمپ آج پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دوپہر 3 بجے لگایا جائے گا، بھوک ہڑتالی کیمپ کی قیادت قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کریں گے، آج علامتی بھوک ہڑتال ہوگی جبکہ حکومتی انتقامی کارروائیوں کے خلاف ردعمل بھی دیا جائے گا۔ بیرسٹر گوہر، اسد قیصر سمیت تمام ارکان پارلیمنٹ بھوک ہڑتال کریں گے، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈ شبلی فراز بھی بھوک ہڑتالی کیمپ میں شریک ہوں گے، دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔

بھوک ہڑتالی کیمپ میں ارکان پارلیمان کو پارٹی وفاداریاں نہ بدلنے پر مقدمات کی دھمکیوں کا معاملہ بھی اٹھایا جائے گا، پی ٹی آئی کے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر بھوک ہڑتال کا دائرہ کار وسیع کردیا جائے گا۔ ارکان اسمبلی بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت گرفتار کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کریں گے۔

یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان خود بھی بھوک ہڑتال کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) وفد نے ملاقات کی ہے۔ ایاز صادق نے پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ کے اندر کیمپ لگانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ایف پی سی سی آئی کا آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

آئی پی پی معاہدوں کے تحت، پاکستان اربوں روپے ان کمپنیوں کو ادا کرتا ہے جو بجلی پیدا نہیں کرتیں، گوہر اعجاز

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ایف پی سی سی آئی کا آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف  سپریم کورٹ  جانے کا  فیصلہ

سابق نگران وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ ایف پی سی سی آئی نے آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ٹویٹ میں انہوں ںے کہا ہے کہ چیمبرز آف کامرس نے آئی پی پیز کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ ہے، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) پاکستان کی کاروباری برادری کی اعلیٰ نمائندہ ہے، ایف پی سی سی آئی معزز سپریم کورٹ میں باضاطہ طور پر پٹیشن دائر کرے گی کہ وہ اس ناقابل برداشت صورتحال میں مداخلت کرے جو ہر پاکستانی کے حق زندگی کو متاثر کرتی ہے۔

گوہر اعجاز نے کہا کہ آئی پی پی معاہدوں کے تحت، پاکستان اربوں روپے ان کمپنیوں کو ادا کرتا ہے جو بجلی پیدا نہیں کرتیں، مہنگی بجلی تمام پاکستانیوں کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہے, بجلی کی زیادہ قیمت شہریوں کو غربت میں دھکیل رہی ہے اور کاروباروں کو دیوالیہ کر رہی ہے.

ان کا کہنا تھا کہ 2020ء میں سابقہ عبوری توانائی کے وزیر محمد علی نے ایک تفصیلی رپورٹ لکھی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ حکومتی نااہلی اور آئی پی پی کی غلط بیانیوں کی وجہ سے سینکڑوں اربوں کا نقصان ہو رہا ہے، وہ رپورٹ آج تک مکمل طور پر نافذ نہیں کی گئی، کیوں؟ حکومت نے اس رپورٹ میں مطالبہ کردہ فرانزک آڈٹ کا حکم کیوں نہیں دیا؟،

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ 240 ملین پاکستانیوں کی بقا زیادہ اہم ہے یا 40 خاندانوں کے لیے یقینی منافع، ہمارا ملک تمام وسائل سے مالا مال ہے ہمیں خوشحالی کے لیے صرف بدانتظامی کا خاتمہ چاہیے، بجلی پاکستان کی صنعتوں کے لیے سب سے اہم مسئلہ ہے اور یہ براہ راست 240 ملین لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے۔

سابق وزیر تجارت کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان چند برس میں ایک ہی غلطیاں دوبارہ نہیں برداشت کر سکتا صرف اس لیے کہ نئے ’’سرمایہ کاروں‘‘ کا ایک گروپ کچھ نہ کرنے کے عوض پیسہ کمانا چاہتا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll