جی این این سوشل

صحت

سندھ میں ایڈز کے ہر ماہ اوسطاً 260 نئے کیسز کا انکشاف

جنوری سے مئی تک ایچ ائی وی کے 1300 سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں

پر شائع ہوا

کی طرف سے

سندھ میں ایڈز کے ہر ماہ اوسطاً 260 نئے کیسز کا انکشاف
سندھ میں ایڈز کے ہر ماہ اوسطاً 260 نئے کیسز کا انکشاف

سندھ میں رواں سال ہر ماہ ایڈز کے اوسطاً 260 نئے کیس سامنے آنے کا انکشاف ہوا ہے۔ جنوری سے مئی تک ایچ ائی وی کے 1300 سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

حکام نے بتایا ہے کہ ایچ آئی وی (ایڈز) کے نئے کیسوں میں بچوں کا تناسب 10 سے 15 فیصد ہے۔

زیادہ کیس لاڑکانہ، ملحق اضلاع، حیدرآباد، میرپور خاص اور کراچی سےرپورٹ ہو رہے ہیں۔

جنوری میں 257، فروری 256، مارچ میں 258، اپریل میں 239 اور مئی میں 293 نئے کیس سامنے آئے۔

ذرائع کے مطابق رواں سال میرپور خاص میں 27 بچے ایچ آئی وی میں مبتلا پائے گئے ہیں۔

تجارت

 سونے کی قیمتوں میں عالمی اور مقامی سطح پر کمی

24 قیراط سونے کی قیمت فی تولہ 500 روپے کی کمی سے 250,500 روپے ہو گئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

 سونے کی قیمتوں میں عالمی اور مقامی سطح پر کمی

کراچی: سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کا سلسلہ جاری ہے، جس میں آج بین الاقوامی اور مقامی دونوں مارکیٹوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ 24 قیراط سونے کی قیمت فی تولہ 500 روپے کی کمی سے 250,500 روپے ہو گئی۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت فی اونس 11 ڈالر کی کمی سے 2,391 ڈالر ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق معاشی سست روی کا بدترین دور ختم ہو سکتا ہے، جس سے محفوظ اثاثوں جیسے سونے کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحانات کا اثر پاکستان کی مقامی سونے کی مارکیٹ پر بھی پڑا۔ 24 قیراط سونے کی قیمت فی تولہ 500 روپے کی کمی سے 250,500 روپے ہو گئی، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 429 روپے کی کمی سے 214,763 روپے ہو گئی۔

سونے کی مارکیٹ غیر مستحکم ہے اور قیمتوں میں قلیل مدتی اتار چڑھاؤ  جاری رہنے کا امکان ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پیپلز پارٹی کی مخصوص نشستوں کے فیصلے پر سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر

پیپلز پارٹی نے درخواست میں موقف اپنایا کہ تحریک انصاف کو مانگے بغیر ہی نشستیں دی گئیں ہیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پیپلز پارٹی کی مخصوص نشستوں کے فیصلے پر سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر

مخصوص نشستوں کے فیصلے پر پیپلز پارٹی نے بھی سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی۔

سپریم کورٹ میں پیپلز پارٹی کی جانب سے فاروق ایچ نائیک نے درخواست دائر کی۔

پیپلز پارٹی نے 12 جولائی کے سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کی، جس میں مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ واپس لینے کی استدعا کی گئی ہے۔

پیپلز پارٹی نے درخواست میں موقف اپنایا کہ تحریک انصاف کو مانگے بغیر ہی نشستیں دی گئیں ہیں۔

قبل ازیں مسلم لیگ (ن) مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر چکی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ایف پی سی سی آئی کا آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

آئی پی پی معاہدوں کے تحت، پاکستان اربوں روپے ان کمپنیوں کو ادا کرتا ہے جو بجلی پیدا نہیں کرتیں، گوہر اعجاز

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ایف پی سی سی آئی کا آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف  سپریم کورٹ  جانے کا  فیصلہ

سابق نگران وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ ایف پی سی سی آئی نے آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ٹویٹ میں انہوں ںے کہا ہے کہ چیمبرز آف کامرس نے آئی پی پیز کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ ہے، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) پاکستان کی کاروباری برادری کی اعلیٰ نمائندہ ہے، ایف پی سی سی آئی معزز سپریم کورٹ میں باضاطہ طور پر پٹیشن دائر کرے گی کہ وہ اس ناقابل برداشت صورتحال میں مداخلت کرے جو ہر پاکستانی کے حق زندگی کو متاثر کرتی ہے۔

گوہر اعجاز نے کہا کہ آئی پی پی معاہدوں کے تحت، پاکستان اربوں روپے ان کمپنیوں کو ادا کرتا ہے جو بجلی پیدا نہیں کرتیں، مہنگی بجلی تمام پاکستانیوں کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہے, بجلی کی زیادہ قیمت شہریوں کو غربت میں دھکیل رہی ہے اور کاروباروں کو دیوالیہ کر رہی ہے.

ان کا کہنا تھا کہ 2020ء میں سابقہ عبوری توانائی کے وزیر محمد علی نے ایک تفصیلی رپورٹ لکھی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ حکومتی نااہلی اور آئی پی پی کی غلط بیانیوں کی وجہ سے سینکڑوں اربوں کا نقصان ہو رہا ہے، وہ رپورٹ آج تک مکمل طور پر نافذ نہیں کی گئی، کیوں؟ حکومت نے اس رپورٹ میں مطالبہ کردہ فرانزک آڈٹ کا حکم کیوں نہیں دیا؟،

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ 240 ملین پاکستانیوں کی بقا زیادہ اہم ہے یا 40 خاندانوں کے لیے یقینی منافع، ہمارا ملک تمام وسائل سے مالا مال ہے ہمیں خوشحالی کے لیے صرف بدانتظامی کا خاتمہ چاہیے، بجلی پاکستان کی صنعتوں کے لیے سب سے اہم مسئلہ ہے اور یہ براہ راست 240 ملین لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے۔

سابق وزیر تجارت کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان چند برس میں ایک ہی غلطیاں دوبارہ نہیں برداشت کر سکتا صرف اس لیے کہ نئے ’’سرمایہ کاروں‘‘ کا ایک گروپ کچھ نہ کرنے کے عوض پیسہ کمانا چاہتا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll