جی این این سوشل

صحت

ورزش مرد اور خاتون کے جسم پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتی ہے ، ریسرچ انکشافات

ریسرچ میں یہ انکشاف کیا گیا  کہ مرد اور خاتون کے سیلز کے اجزاء اور ان کے جینز کی بناوٹ کسی بھی سرگرمی کے اثر انداز ہونے کا تعین کرتی ہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ورزش مرد اور خاتون کے جسم پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتی ہے ، ریسرچ انکشافات
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

طب کے شعبے میں  جاری ایک ریسرچ میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ ورزش مرد اور خاتون کے جسم پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتی ہے۔ 
ریسرچ میں یہ انکشاف کیا گیا  کہ مرد اور خاتون کے سیلز کے اجزاء اور ان کے جینز کی بناوٹ کسی بھی سرگرمی کے اثر انداز ہونے کا تعین کرتی ہے۔ 
چوہوں پر کی جانے والی ایک ریسرچ میں سائنسدانوں نے ریسرچ میں استعمال ہونے والے چوہوں کے تین گروپ بنائے۔  ایک گروپ نر چوہوں، جبکہ دو گروپ مادہ چوہوں کے تھے۔ نر چوہوں اور مادہ چوہوں کے ایک گروپ کو 8 ہفتے مختلف سرگرمیوں میں الجھائے رکھا، جبکہ مادہ چوہوں کا دوسرا گروپ کسی بھی قابل ذکر سرگرمی میں مشغول نہیں کیا گیا۔ 
8 ہفتوں کے بعد، سرگرمی میں مشغول نر چوہوں نے اپنے جسم کی چربی کا تقریباً 5 فیصد کھو دیا، جبکہ سرگرمی میں مشغول مادہ چوہوں نے کوئی خاص مقدار نہیں کھوئی۔ مطالعہ کے دوران  انکشاف ہوا کہ سرگرمیوں میں مشغول مادہ چوہوں نے اپنی ابتدائی چربی کی فیصد کو برقرار رکھا، جب کہ بغیر سرگرمی کے رہنے والی مادہ چوہوں کے گروپ نے 4 فیصد اضافی جسمانی چربی حاصل کی۔ 
ریسرچ نے یہ بات واضح کر دی کہ مختص دورانیے میں ورزش نے نر کے جسم میں قابل ذکر تبدیلیاں پیدا کیں، مگر مادہ کا جسم ورزش کا کوئی قابل ذکر اثر نہ لے پایا۔ 
سائنسدانوں کے مطابق نر اور مادہ کے جسم پر ورزش کی وجہ سے پڑنے والے اثر میں فرق کی وجہ جسم میں توانائی کے توازن کو برقرار رکھنے والے سیلز اور اعضاء میں مائٹوکونڈریا کے جینیاتی اظہار میں تبدیلیوں کی وجہ سے ہیں۔
مائٹو کونڈریا جسم میں موجود سیلز کا ایک جزو ہے جو جسمانی سیلز کے اندر عمل تنفس(سانس لینے کے عمل) کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ سیلز کے اندر مائٹوکونڈریا کی مقدار اور اس کے کام کرنے کی صلاحیت کسی بھی جسمانی سیل کی زندگی کا تعین کرتے ہیں۔

دنیا

ملک کو متحد کرنے کے لیے 2024 کے انتخابات سے دستبردارہوا ہوں، جو بائیڈن

اب مشعل ’نوجوان آوازوں‘ تک پہنچانے کا وقت آگیا ہے، امریکی صدر

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ملک کو متحد کرنے کے لیے 2024 کے انتخابات سے دستبردارہوا ہوں، جو بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ روز اوول آفس میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ وہ ملک کو متحد کرنے کے لیے 2024 کے انتخابات سے دستبردار ہوئے، جب کہ اب مشعل ’نوجوان آوازوں‘ تک پہنچانے کا وقت آگیا ہے۔ میرے لیے جمہوریت کسی بھی عہدے سے زیادہ اہم ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق 81 سالہ امریکی صدر نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ مجھے اس دفتر کا بے حد احترام ہے لیکن میں اپنے ملک سے زیادہ پیار کرتا ہوں، انہوں نے عوام پر زور دیا کہ عوام جمہوریت کو اپنائیں اور نفرت سے بچیں۔ میرے لیے جمہوریت کسی بھی عہدے سے زیادہ اہم ہے جو اس وقت داؤ پر لگی ہوئی ہے، لہذا میں نے فیصلہ کیا کہ آگے بڑھنے کا یہی بہترین طریقہ ہے کہ مشعل کو نئی نسل کے حوالے کیا جائے اور یہی قوم کو متحد کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔

یاد رہے کہ ڈیموکریٹس رہنماؤں کی جانب سے شدید دباؤ کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے 21 جولائی کو ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں صدارتی انتخابات سے دستبردار ہوگئے تھے۔

 بائیڈن نے کہا ’وہ بطور امیدوار دستبردار ہورہے ہیں لیکن جنوری 2025 میں اپنی مدت ختم ہونے تک صدر اور کمانڈر ان چیف کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔

انتخاب سے دستبرداری کے اعلان کے بعد قوم سے اپنے پہلے ٹیلی ویژن خطاب میں امریکی صدر نے اپنی نائب 59 سالہ کاملا ہیریس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کاملا ہیرس تجربہ کار ہونے کے ساتھ قابل بھی ہیں۔

ایک سروے کے مطابق ڈیموکریٹک کی نئی صدارتی امیدوار اور نائب صدر کاملا ہیرس کو ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر 2 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔

خیال رہے کہ جوبائیڈن امریکی تاریخ کے کسی بھی دوسرے صدر کے مقابلے میں بعد میں انتخابی دوڑ سے تاخیر سے دستبردار ہوئے، ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مباحثے کے دوران بدترین کارکردگی کے بعد بائیڈن کو اپنی عمر کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور گزشتہ دو ہفتوں سے انہیں اپنے ہی پارٹی ارکان کی جانب سے دباؤ کا سامنا تھا۔

بعد ازاں، کورونا کا شکار ہونے کے بعد امریکی صدر کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ اب آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے، انہوں نے کہا ’نئی

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

چیف جسٹس قاضی فائز ہمارے مقدمات نہ سنیں، عمران خان نے ججز کمیٹی میں درخواست دائر کر دی

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بنچ میں موجودگی سے آئین و قانون کے مطابق انصاف ملنے کی امید نہیں، درخواست

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چیف جسٹس قاضی فائز ہمارے مقدمات نہ سنیں، عمران خان نے  ججز کمیٹی میں درخواست دائر کر دی

بانی چیئرمین اور تحریک انصاف کے سپریم کورٹ میں مقدمات کے معاملے میں عمران خان نے چیف جسٹس کے خلاف سپریم کورٹ کمیٹی میں درخواست دائر کردی۔

عمران خان نے درخواست میں موقف اپنایا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرا، تحریک انصاف، سنی اتحاد کونسل یا پی ٹی آئی اراکین کا مقدمہ نہ سنیں۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ 2019 میں قانونی ماہرین کے مشورے پر قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس بھیجنے کی سفارش کی، میری آئینی ذمہ داری کو معزز چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ذاتی حملہ تصور کیا، غلط تاثر کی بنیاد پر سرینا عیسیٰ نے میرے خلاف عوام میں زہر اگلا۔

دائر درخواست میں کہا گیا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی اہلیہ کے اقدامات سے اتفاق کیا، درخواست گزار سمجھتا تھا کہ چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد قاضی فائز عیسیٰ ماضی کو بھلا دیں گے تاہم چیف جسٹس کے کنڈکٹ سے بالکل واضح ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔

درخواست میں مزید موقف اپنایا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بنچ میں موجودگی سے آئین و قانون کے مطابق انصاف ملنے کی امید نہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی انٹراکورٹ اپیل سے متعلق تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا جبکہ سابق وزیراعظم نے تحریری جواب میں اپیلیں خارج کرنے سمیت چیف جسٹس پاکستان پر اعتراض اٹھاتے ہوے کیس سے الگ ہونے کی بھی استدعا کی۔

علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمان رؤف حسن نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کئی دفعہ چیف جسٹس کو بولا کہ وہ ہمارے کیسز سے خود کو الگ کر دیں، ہمیں یقین ہے نہ عامر فاروق سے اور نہ قاضی فائز عیسیٰ سے انصاف ملے گا، دونوں کا رویہ بھی ایک جیسا ہے۔

رؤف حسن کا کہنا تھا کہ عمران خان نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو پہلی دفعہ تحریری طور پر لکھا ہے، بانی چیئرمین کے خط میں جسٹس گلزار کے فیصلے کا ریفرنس بھی دیا ہے، چیف جسٹس پرعدم اعتماد کی بہت ساری وجوہات ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ پرعدم اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے انصاف نہ ملنے پر جیل میں بھوک ہڑتال کرنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

نہتے کشمیریوں کے خلاف وحشیانہ مظالم پر بھارت کا محاسہ کرے، حریت کانفرنس

مقبوضہ جموںوکشمیر کی روز بہ روز بگڑتی ہوئی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے بھارت پر دبائو ڈالے، ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس 

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

نہتے کشمیریوں کے خلاف وحشیانہ مظالم پر بھارت کا محاسہ کرے، حریت کانفرنس

بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے کی ابتر صورتحال کا نوٹس لے اور نہتے کشمیریوں کے خلاف وحشیانہ مظالم پر بھارت کا محاسہ کرے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر کی روز بہ روز بگڑتی ہوئی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے بھارت پر دبائو ڈالے۔

ترجمان نے کہا کہ بی جے پی کی فرقہ پرست بھارتی حکومت حق خوداردیت کے مطالبے پر کشمیریوں کے خلاف کالے قوانین کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز نے مقبوضہ علاقے میں محاصروں اور تلاشی کی پر تشدد کارروائی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ، کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر لیے گئے ہیں اور جو کوئی بھارتی جبر کےخلاف آواز آٹھانے کی کوشش کر تا ہے اسے کالے قوانین کے تحت گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کشمیری سرکاری ملامین کو نوکریوں سے برطرف اور معطل کر رہی ہے جس کا واحد مقصد ان کی جگہ بھارتی ہندو ملازمین کو رکھ کر ہندو توا ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے۔

انہوں نے جیلوں میں برسہابرس سے غیر قانونی طور پر نظر بند کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں اور کارکنوں کے عزم وہمت کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام نظربندوں کی عظیم قربانی ہرگز فراموش نہیں کریں گے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں مستقل امن و ترقی کا خواب ہرگز شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ، مسئلے کا اقوام متحدہ کی قراردادوں میں ایک بہترین حل موجود ہے لہذا عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ آگے آئیں اور اس تنازعے کو عالمی ادارے کی ان قراردادوں کے مطابق حل کرانے کےلئے کردار ادا کریں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll