Advertisement
پاکستان

فلسطین کی صورتحال پر دنیا کا ضمیر جاگنا چاہیے، شہباز شریف 

بجلی کو سستی کرنا ہمارا اپنا اور نواز شریف کا ایجنڈا ہے، یہ اتحادی حکومت کا ایجنڈا ہے، وزیراعظم

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Aug 2nd 2024, 6:11 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
فلسطین کی صورتحال پر دنیا کا ضمیر جاگنا چاہیے، شہباز شریف 

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ فلسطین میں دن رات بدترین تباہی ہورہی ہے، فلسطین کی صورتحال پر دنیا کا ضمیر جاگنا چاہیے۔

اسلام آباد میں کابینہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بد ترین سفاکیت کے واقعے میں اسمٰعیل ہنیہ کو تہران میں شہید کردیا گیا، دنیا کے کئی ممالک نے اس کی مذمت کی، پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی اس کی مذمت کی، ڈپٹی وزیراعظم نے باقاعدہ بیان جاری کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ آج جمعے کے بعد اسمٰعیل ہنیہ کی غائبانہ نماز جنازہ کی اپیل کی گئی ہے، میں نے بھی اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی کہا ہے، میں بھی اپنی کابینہ کے ہمراہ وزیراعظم ہاؤس کی مسجد میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کروں گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ حکومت منتخب ہونے کے بعد پہلے دن سے بجلی بحران کو حل کرنے کے لیے شبانہ روز ہماری کاوشیں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے دور میں بجلی کے منصوبے لگانے پر کام شروع ہوا، 20،20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوا، اس وقت کوئی اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں تھا، چین وہ واحد ملک تھا جس نے سی پیک کے تحت سرمایہ کاری کا عندیہ دیا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں میگا واٹ بجلی کے منصوبوں پر کام شروع ہوا اور تیز ترین اسپیڈ پر یہ منصوبے لگائے گئے۔

شہباز شریف نے کہا کہ 5 ہزار میگا واٹ کے 4 جدید ترین ایل این جی کے پلانٹ لگائے ، ان کی صلاحیت 62 سے 63 فیصد تھی، وہ تاریخ کے سستے ترین پلانٹ تھے، اس وقت نیپرا کا ٹیرف ساڑھے 8 لاکھ ڈالر تھا پر میگا واٹ اور پلانٹ ساڑھے 4 لاکھ ڈالر میں لگے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہی وجہ ہے کہ اس مد میں نجی شعبے کو سرمایہ کاری کی ہمت نہیں ہوئی، اس سے پہلے بھی معاہدے ہوئے، ہمیں کسی دور کے معاہدوں کو طعنے کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے کیونکہ ہم سیاست نہیں کر رہے، یہ سیاست نہیں ہے، یہ پاکستان کے سب سے بڑے مسئلے کو حل کرنے کی ایک کاوش ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بجلی کو سستی کرنا ہمارا اپنا اور نواز شریف کا ایجنڈا ہے، یہ اتحادی حکومت کا ایجنڈا ہے، ہمیں دو ٹوک فیصلہ کرنا چاہیے کہ اس معاملے پر سیاست عوامی توہین کے مترادف ہے، یہ کسی ایک جماعت کا نہیں، پوری قویم کا مطالبہ ہے کہ بجلی کو سستی کریں، اس معاملے کو حل کریں، یہ بہت پیچیدہ مسئلہ ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاور سیکٹر اور ایف بی آر یہ دو ایسے ادارے ہیں جس میں ہم سب سوار ہیں، اگر ہم ان دونوں اداروں کو فعال اور کرپشن سے پاک کرنے میں کامیاب ہوگئے تو کشتی منجھدار سے نکل کر کنارے پر لگے گی، اگر یہ ادارے صحیح نہیں ہوئے تو خوانخواستہ وہ ناؤ ڈوب سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں عوام کی مشکلات کا پورا ادراک ہے، اسی لیے یہ تمام کاوشیں جاری ہیں، میں ایک جماعت سے پوچھتا ہوں کہ ان کی خیبر پختونخوا میں 10 سال سے حکومت ہے، انہوں نے کیا کیا، بڑے بڑے نعرے لگائے گئے، دعوے کیے گئے کہ 300 ٹیم بنائے جائیں گے، کیا ایک ڈیم بھی بنا، پن بجلی کے لیے کتنی سرمایہ کی، باتیں کرنا بڑا آسان ہے، عمل کرنا ایک بڑا مشکل کام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے بلوچستان میں 70 ارب روپے کا منصوبہ شروع کیا گیا، اس کے لیے کسی نے آواز اٹھائی ہے جو آج دھرنے دے رہے ہیں، اگر ان کے لیے آواز نہیں اٹھائی تو پھر یہ سیاست برائے سیاست ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ نگران دور میں بجلی چوری روکنے کے لیے اقدامات کیے گئے، اس سلسلے میں سپہ سالار کا بھی غیر متزلزل عزم تھا، اس کا نوٹس لیا گیا، اس کے نتائج سامنے آئے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں اجتماعی طور پر کاوشیں کرنی ہوتی ہیں، تمام آئینی ادارے اپنی حدود میں رہ کر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں تو قومیں بنتی ہیں، بجلی چوری کے حوالے سے صوبہ سندھ اور پنجاب وزارت توانائی کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، اس سلسلے مٰں سپہ سالار کی جو کمٹمنٹ ہیں، پاکستان جیسے ملک میں جو ہماری تاریخ ہے، کوئی چیز آئسولیشن میں نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ لگائے گئے بعض ٹیکسز تو جائز ہیں کہ اگر ہم نے اپنا ٹیکس بیس نہیں بڑھایا تو پھر تو معاملہ بلکل ختم ہوجائے گا، لیکن جو ٹیکس دے رہیں، ان پر مزید بوجھ ڈالنا قابل تعریف بات نہیں ہے، تنخواہ دار طبقے پر لگے ٹیکس کا مجھے پوری طرح احساس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 200 یونٹ والے صارفین کو 50 ارب کا ریلیف دیا، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس سے بھی آگے بڑھنا چاہیے، اس کے لیے دن رات کام ہو رہا ہے، اس سلسلے میں قانونی پیچیدگیاں اور چیلنجز ہیں جنہیں ہمیں دیکھنا ہے۔

Advertisement
ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں کارروائیاں تیز کرنے اور ایرانی کشتیوں کو تباہ کرنے کا حکم

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں کارروائیاں تیز کرنے اور ایرانی کشتیوں کو تباہ کرنے کا حکم

  • 12 hours ago
پاکستان نے 2023 کے بعد پہلی بار ایل این جی کارگو کیلئے تین ٹینڈر جاری کر دیے

پاکستان نے 2023 کے بعد پہلی بار ایل این جی کارگو کیلئے تین ٹینڈر جاری کر دیے

  • 13 hours ago
افغان ہیکرز نے بھارتی میڈیا چینل ہیک کرکےخصوصی پیغام نشر کر دیا

افغان ہیکرز نے بھارتی میڈیا چینل ہیک کرکےخصوصی پیغام نشر کر دیا

  • 12 hours ago
جلا وطن ایرانی رہنما رضا پہلوی ایک شخص نے سرخ مائع پھینک دیا،حملہ آور گرفتار

جلا وطن ایرانی رہنما رضا پہلوی ایک شخص نے سرخ مائع پھینک دیا،حملہ آور گرفتار

  • 14 hours ago
حیدرآباد: شادی میں آئے 3 بچے کرنٹ لگنے سے جاں بحق

حیدرآباد: شادی میں آئے 3 بچے کرنٹ لگنے سے جاں بحق

  • 16 hours ago
لاہورمیں ہولناک واقعہ: گھر میں 3 معصوم بچوں کے گلے کاٹ کر قتل کر دیا گیا

لاہورمیں ہولناک واقعہ: گھر میں 3 معصوم بچوں کے گلے کاٹ کر قتل کر دیا گیا

  • 13 hours ago
طلباء کیلئے اچھی خبر : پنجاب حکومت نے نئی آئی ٹی انٹرنشپ پروگرام کا آغاز کر دیا

طلباء کیلئے اچھی خبر : پنجاب حکومت نے نئی آئی ٹی انٹرنشپ پروگرام کا آغاز کر دیا

  • 15 hours ago
 انرجی سیکیورٹی اب ملک کی مستقبل کی مجموعی منصوبہ بندی کا انتہائی اہم حصہ بن چکی ہے،شہباز شریف

 انرجی سیکیورٹی اب ملک کی مستقبل کی مجموعی منصوبہ بندی کا انتہائی اہم حصہ بن چکی ہے،شہباز شریف

  • 16 hours ago
وزیر اعظم سے چینی سفیر کی ملاقات،خطے میں قیامِ امن کیلئےپاکستان کی کاوشوں کی تعریف

وزیر اعظم سے چینی سفیر کی ملاقات،خطے میں قیامِ امن کیلئےپاکستان کی کاوشوں کی تعریف

  • 14 hours ago
ملک میں کل سے بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

ملک میں کل سے بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

  • 16 hours ago
پہلگام واقعہ سے متعلق بھارتی الزامات بے بنیاداور پروپیگنڈا ہیں،دفتر خارجہ

پہلگام واقعہ سے متعلق بھارتی الزامات بے بنیاداور پروپیگنڈا ہیں،دفتر خارجہ

  • 10 hours ago
سونے کی قیمتوں میں اچانک ہزاروں روپے کی کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

سونے کی قیمتوں میں اچانک ہزاروں روپے کی کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

  • 16 hours ago
Advertisement