اردو زبان کے مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی 70ویں برسی آج منائی جا رہی ہے
منٹو کے یوم وفات پرادبی حلقوں کی جانب سے لاہور سمیت ملک کے دیگر شہروں میں ادبی و سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا


لاہور: اردوزبان کے مشور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی70ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔
سعادت حسن منٹو نے 11 مئی 1912ء کو برطانوی پنجاب کے ضلع لدھیانہ کے قصبے سمرالہ میں پیدا ہوئے،انہوںنے ابتدائی تعلیم امرتسر سے حاصل کی اور بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں وقت گزارا، مگر تعلیم مکمل نہ کرسکے اور واپس امرتسر آگئے۔
منٹو کو بچپن سے ہی لکھنے لکھانے کا شوق تھا،انہوں نے ادب، فلم اور صحافت میں نام کمایا۔ ابتدا میں انھوں نے لاہور کے رسالوں میں کام کیا۔ پھر آل انڈیا ریڈیو دہلی سے وابستہ ہوگئے جہاں انہوں نے ڈرامے اور فیچر لکھے۔ بعدازاں بمبئی منتقل ہوگئے،قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گئے اور باقی زندگی یہی گزاری۔
منٹو کا نام ذہن میں آتے ہی ان کے کئی شاہکار افسانوں کے شاہکار کردار نگاہوں کے سامنے رقص کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔منٹو نے سماجی حقیقت نگاری کو جس جارحانہ اور سفاکانہ طریقے سے اپنے افسانوں میں آشکار کیا ہے، اس کی مثال اُردو کے افسانوی ادب میں ملنا مشکل ہے۔
انسان اور انسانی صورتحال منٹو کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔انہوں نے جس طرح منافقت اور دوغلے پن کی چادر میں لپٹے ہوئے معاشرے کو بغیر کوئی رعایت دیئے بے نقاب کیا ہے یہ صرف انہی کا خاصہ ہے، جو کہ شاید کوئی دوسرا افسانہ نگار اس طرح سے نہ کر پاتا۔
آج 18 جنور ی سعادت حسن منٹو کے یوم وفات پرادبی حلقوں کی جانب سے لاہور سمیت ملک کے دیگر شہروں میں ادبی و سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا جس میں سعادت حسن منٹو کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا ۔
سعادت حسن منٹو صاحب اسلوب نثر نگار تھے جن کے افسانے،مضامین اور خاکے اردو ادب کا ایک گرانقدر سرمایہ ہیں۔
ان کے مقبول ترین افسانوں،خاکوں اور ڈراموں میں ٹوبہ ٹیک سنگھ،آتش پارے،دھن،لذت سنگ،سیاہ حاشیے،برقعے،ٹھنڈا گوشت اور دھواںقابل ذکر ہیں۔
اردو زبان کے مشہور افسانہ نگارسعادت حسن منٹو 18جنوری1955 کو 42برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔
ھکومت پاکستان نےسعادت حسن منٹو کی 50 ویں برسی پر 5 روپے مالیت کا یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا تھا، منٹو نے منفرد موضوعات پر قلم اٹھا کر نہ صرف اپنے عہد میں ہلچل مچائی بلکہ اردو ادب کیلئے ایک انمول خزانہ بھی چھوڑ گئے۔

خلیج فارس میں نئے باب کا آغاز، آبی راستوں پر دشمن کی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا،سپریم لیڈر
- 12 گھنٹے قبل

روٹی تو مل ہی جاتی ہے، گلاب کب ملے گا؟
- 8 گھنٹے قبل

وزیر اعظم کاموٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ
- 8 گھنٹے قبل

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 11 پاکستانیوں کی رہائی کیلئے کوششیں جاری ہیں،دفتر خارجہ
- 15 گھنٹے قبل

آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے،ایرانی صدر
- 14 گھنٹے قبل

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
- 14 گھنٹے قبل

اسحاق ڈارکا یورپی یونین کی نائب صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، مکالمے اور باہمی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ
- 14 گھنٹے قبل

کراچی: تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے کام کرنا ہم سب کی ذمہ دار ی ہے،گورنر نہال ہاشمی
- 8 گھنٹے قبل

تھیٹر پروڈیوسرز کی پنجاب آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محبوب عالم چودھری سے ملاقات
- 15 گھنٹے قبل

افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابل تردید ثبوت منظرعام پر آگئے
- 13 گھنٹے قبل

وفاقی حکومت بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے،وزیر اعظم
- 8 گھنٹے قبل

پاکستان اور چین سدابہار شراکت دار ہیں، چین کے ساتھ دوستی ملکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،صدر مملکت
- 12 گھنٹے قبل














