این ٹی ڈی سی نے مقامی صنعت کے فروغ کےلیے 781 ملین روپے کے ایجوکیشنل آرڈر جاری کر دیئے
آرڈر کی تکمیل سے پہلی بار پاکستانی اداروں کو 0.2 ایس کلاس ایکوریسی کے انرجی میٹرز بنانے کی مناسب صلاحیت حاصل ہو جائے گی


لاہور:نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی)، جو پاور سیکٹر کی ریڑھ کی ہڈی ہے، نے ملکی صنعت اور ملک میں تیار شدہ آلات کے استعمال کو فروغ دینے کےلئے ایک اقدام کا آغاز کیا ہے۔ اسی سلسلے میں این ٹی ڈی سی کے چیف انجینئر (مےٹریل پروکیورمنٹ اینڈ مینجمنٹ) نے مقامی کمپنیوں کو تقریباً 781 ملین روپے کے ایجوکیشنل آرڈرز جاری کیے ہیں جس کے تحت ٹاورز، انتہائی درست انرجی میٹرز، ہائی پاور ٹرانسفارمرز اور کنڈکٹرز کیلئے مانیٹرنگ ڈیوائسز خریدی جائیں گی۔
اس اقدام کے تحت جنرل منیجر (ڈیزائن اور انجینئرنگ) انجینئر ڈاکٹر خواجہ رفعت حسن کی قیادت میں این ٹی ڈی سی کی 5 رکنی خصوصی کمیٹی نے میسرز صدیق سنز کا دورہ کیا جن میں جنرل منیجر (ایسیٹ مینجمنٹ) نارتھ، انجینئر محمد مصطفی، چیف انجینئر (ٹرانسمیشن لائن ڈیزائن) انجینئر شاہد شفیع سیال اور چیف انجینئر (مےٹریل پروکیورمنٹ اینڈ مینجمنٹ) انجینئر زاہد اقبال شامل ہیں۔ کمیٹی نے میسرز صدیق سنز کی جانب سے تیار کیے جانے والے آلات و سازوسامان کے معیار کا جائزہ لیا۔
واضح رہے کہ چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز این ٹی ڈی سی ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری نے 2017 میں بطور منیجنگ ڈائریکٹر ذمہ داریاں سرانجام دینے کے دور میں اس سلسلے میں اپنی کوششیں شروع کی تھیں۔ اس کے بعد آنے والے منیجنگ ڈائریکٹرز اور بورڈ آف ڈائریکٹرز نے مقامی آلات کے استعمال کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس مقصد کیلئے کوششیں جاری رکھیں۔ منیجنگ ڈائریکٹر این ٹی ڈی سی انجینئر محمد وسیم یونس نے انرجی میٹرز کے مقامی مینوفیکچررز کو ایجوکیشنل آرڈر دینے کی منظوری دی۔ اس آرڈر کی تکمیل سے پہلی بار پاکستانی اداروں کو 0.2 ایس کلاس ایکوریسی کے انرجی میٹرز بنانے کی مناسب صلاحیت حاصل ہو جائے گی۔
وزارت کامرس کی جانب سے جاری ایس آر او نمبر 827 کے تحت ایجوکیشنل آرڈرز ایسے نئے اداروں کی حوصلہ افزائی کے لیے جاری کیے جاتے ہیں جو بصورت دیگر آلات کی فراہمی کیلئے کنٹریکٹ حاصل کرنے کی اہلیت کے باقاعدہ معیار پر پورا نہیں اترتے۔ بولی کی دستاویزات میں اہلیت کے معیار میں نرمی بھی مقامی صنعتوں کو اربوں روپے کے ٹھیکے دینے کا باعث بنی ہے۔ اس سے نہ صرف زرمبادلہ کی بچت کرنے میں مدد ملی بلکہ اس نے اہم منصوبوں کیلئے میٹریل کی بروقت فراہمی کو بھی یقینی بنایا۔
اس اقدام کے تحت، ٹرانسفارمرز اور 500 کے وی اور 220کے وی ٹاورز کا میٹریل بنانے والی کمپنیوں سمیت متعدد فرمیں رجسٹرڈ ہو چکی ہیں اور کچھ کے نام زیر غور ہیں۔
اوپن اے آئی نے اے آئی ماڈلز کی جانب سے اپنی مانیٹرنگ خود ڈس ایبل کرنیکا انکشاف کیا ہے
- 3 گھنٹے قبل

ملتان میں یتیم بچےکو کار سے کچلنے والا مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
- 7 گھنٹے قبل

فیلڈ مارشل، سعودی سفیر کی علاقائی سلامتی کی صورتحال پر گفتگو
- 2 دن قبل

پاکستان، ترکیے،قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی صنعتی تعاون کے معاہدے پر دستخط کردیے
- ایک گھنٹہ قبل
.jpeg&w=3840&q=75)
فنکار برادری نے کھیلوں کے فروغ کا بیڑہ اٹھا لیا
- ایک دن قبل

سہ ملکی ون ڈے سیریز: پاکستان نے انگلینڈکو 87 رنز سے شکست دیدی
- ایک دن قبل

پاکستان کسٹمز نے سکھر بیراج پر اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی
- 21 گھنٹے قبل

آیوڈین کی کمی کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے
- 7 گھنٹے قبل

مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے
- 21 گھنٹے قبل
فیلڈ مارشل عاصم منیر اہم دورے پر ایران پہنچ گئے
- ایک دن قبل

پاکستان اورمالدیپ کا دوطرفہ تجارت کا حجم ایک کروڑ تیس لاکھ ڈالر سے بڑھا کر بیس کروڑ ڈالرتک لے جانے پراتفاق
- 8 گھنٹے قبل

معروف اداکاروپروڈیوسر صمد عارض پاکستان پہنچ گئے، شان شاہد اور امر خان سے ملاقات
- ایک دن قبل










