Advertisement
پاکستان

ہائیکورٹ کے اختیار میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے، چیف جسٹس

ہائی کورٹ کا فیصلہ پراسیکیوٹر جنرل اور اے ٹی سی جج کے کیریئر پر اثرانداز نہیں ہو گا،سپریم کورٹ

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Apr 7th 2025, 1:13 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
ہائیکورٹ کے اختیار میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے، چیف جسٹس

اسلام آباد:پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ ہائیکورٹ کے اختیار میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔
سپریم کورٹ نے 9 مئی سے متعلق کیس میں اے ٹی سی راولپنڈی کے جج سے مقدمات منتقلی کی اپیلیں نمٹا دیں۔
دوران سماعت عدالتِ عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو کیا گیا 22 لاکھ روپے کا جرمانہ برقرار رکھا ہے،سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ پراسیکیوٹر جنرل اور اے ٹی سی جج کے کیریئر پر اثرانداز نہیں ہو گا۔
 اس موقع پر پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ جج کا تبادلہ ہو چکا ہے، مسئلہ ہائی کورٹ کے ریمارکس اور جرمانے کا ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس ہائی کورٹ نے پورا صوبہ چلانا ہوتا ہے، انہوں نے جج کے خلاف ریفرنس پر حکومت کو پیغام دینا تھا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کو پیغام دے دیا جس سے ایڈمنسٹریٹو جج نے اتفاق کیا، ہائی کورٹ کے اختیار میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے، جرمانے ادا کر دیں یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔
واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے سابق اے ٹی سی جج راولپنڈی اعجاز آصف کیخلاف ریفرنس دائر کیا تھا، لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ریفرنس اور مقدمہ منتقلی کی درخواست خارج کر دی گئی تھی، جس پر پنجاب حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

Advertisement