پہلگام واقعہ کی تحقیقات کیلئے تیار، کوئی مہم جوئی ہوئی تو 2019 کی طرح منہ توڑ جواب دیں گے، وزیراعظم
سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پانی روکا گیا تو پوری قوت سے جواب دیں گے، کسی کو بھی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے،شہبازشریف


کاکول: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ اور بین الاقوامی تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، بھارت نے پہلگام واقعے پر بغیر ثبوت کے الزام تراشی کی،تاہم ہم ایک ذمہ دار ریاست ہونے کے ناطے غیر جانبدارانہ عالمی تحقیقات کے لیے تیار ہیں۔
پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی ہماری لائف لائن ہے اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کا پانی روکا گیا تو پوری قوت سے جواب دیں گے، کسی کو بھی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔
وزیر شہباز شریف نے مزید کہا کہاگر کوئی مہم جوئی ہوئی تو فروری 2019 کی طرح منہ توڑ جواب دیں گے، پاکستان کا پانی روکنے کی ہر کوشش کا قومی طاقت سے جواب دیں گے۔
اپنے خطاب میں شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی کو ہمیشہ اور ہر شکل میں مسترد کیا ہے اور اس کی مذمت کی ہے، دنیا میں دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک پاکستان ہے، ہمارے 90 ہزار شہری دہشتگردی میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، پاکستان کی معیشت نے اربوں ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے۔
ان کا کہنا تھا ہمارے ہمسایہ ملک کی طرف سے بغیر ثبوت پاکستان پر الزام تراشی کی گئی، پہلگام واقعے پر بے بنیاد الزامات کا سلسلہ شروع کیا گیا، پاکستان پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہے،ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے دنیا بھر میں امن و سلامتی کا خواہاں ہے اور اس کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، یہ عالمی تنازع کئی دہائیوں سے حل ہونے کا منتظر ہے، کشمیریوں نے لاکھوں جانوں نچھاور کی ہیں تاکہ وہ آزاد فضا میں سانس لے سکیں، عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان غزہ میں اسرائیلی بربریت کی مذمت کرتا ہے اور اقوام عالم سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیلی مظالم رکوائیں۔
وزیراعظم نے کہا ہے کہ افغانستان ہمارا پڑوسی اور برادر اسلامی ملک ہے، ہماری خواہش ہے کہ ان کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کی بنیاد پر تعلقات ہوں لیکن بدقسمتی سے افغانستان کی سر زمین سے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں ہو رہی ہیں، حال ہی میں نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار نے کابل کا دورہ کیا اور باور کروایا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھے اور پر امن تعلقات چاہتا ہے، تاہم افغان سرزمین سے پاکستان میں حملے برداشت نہیں کیے جاسکتے۔
اس سے قبل انہوں نے پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک کا حصہ بن رہے ہیں جس کا نظم و ضبط دنیا میں اپنی مثال آپ ہے، مسلح افواج بانی پاکستان کے رہنما اصولوں کے مطابق کام کرتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا ہماری مسلح افواج تنظیم، اتحاد اور قومی مفاد کی تکمیل اور عزم کا نشان ہیں، پاکستان کی مسلح افواج اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے ایک نام رکھتی ہیں۔
وزیراعظم نے مزید کہا ہے کہ معاشی میدان میں بحالی کے بعد پاکستان اب بھرپور چیلنجز کے باوجود آگے بڑھنے کی راہ پر گامزن ہے، ہم کان کنی، معدنیات، دفاعی پیداوار اور کئی شعبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری حاصل کر رہے ہیں۔
صمد عارض کے نئے ڈرامہ 'جدائی' کی شوٹنگ مکمل
- a day ago
فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ
- 2 hours ago
عاطف اسلم نئی البم ’صبح آئے نا‘ ریلیز کریں گے, تاریخ سامنےآگئی
- an hour ago

امیتابھ بچن کے ایک پیغام نے مداحوں کو کیوں خوفزدہ کر دیا؟ حقیقت سامنے آ گئی
- a day ago

مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جج ہلاک
- 2 hours ago
دنیا کے مقبول ترین یوٹیوبر شادی کے بندھن میں بندھ گئے، خوش قسمت کون؟
- a day ago
پاکستان میں موبائل ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں ایک سال میں کتنا اضافہ کیا گیا؟
- 7 minutes ago
ڈی آئی جی آپریشنزلاہور نے غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا
- 2 hours ago

مصنوعی ذہانت نے ماہرین کو حیران کر دیا، آزمائش میں غیر معمولی قدم
- 42 minutes ago

پنجاب، خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 23 افراد جان سے گئے
- a day ago

جاوید شیخ کی جگہ فیصل رحمان کو کیوں چنا گیا؟ اداکار نے برسوں بعد دل توڑ دینے والی حقیقت بتا دی
- a day ago

بالی ووڈ اداکارہ کا احتجاج کے حوالے سے بیان، سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی
- an hour ago




