Advertisement
علاقائی

سندھ ساگر ریلوے، عہد رفتہ سے موجودہ خستہ حالی تک۔۔

ضلع جہلم میں واقع چلیسہ پاکستان کا ایک خوبصورت جنکشن ہے جو اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ یہ رقبے میں ملک کا سب سے چھوٹا جنکشن ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Apr 28th 2025, 1:19 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سندھ ساگر ریلوے، عہد رفتہ سے موجودہ خستہ حالی تک۔۔

سندھ ساگرریلوے یہ تین سے چار ٹریکس کا مجموعہ ہے جو سندھ ساگر دوآب کے شہروں کو چج دوآب کے جنکشن ملکوال سے ملاتا ہے۔
شروع میں یہ ٹریک لالہ موسیٰ سے ملکوال تک میٹر گیج کے طور پہ تعمیر کیا گیا تھا۔ سندھ ساگر ریلوے کو دیگر ریلویز کے ساتھ ملا کے جب نارتھ ویسٹرن ریلوے بنایا گیا تو اس ٹریک کو براڈ گیج میں تبدیل کر دیا گیا۔ 
ضلع شاہ پور (موجودہ سرگودھا) میں دریائے جہلم پر وکٹوریہ پُل کی تعمیر کے بعد اس ٹریک کو دریائے جہلم کے پار موجود شہروں سے جوڑ دیا گیا۔ کچھ نئی برانچ لائنیں بچھائی گئیں اور یوں ہرن پور، پنڈ دادن خان، ڈنڈوت، بھیرہ اور کھیوڑہ جیسے علاقے ملکوال کے ذریعے ملک بھر سے جڑ گئے۔ 
سندھ ساگر ریلوے میں مندرجہ ذیک برانچ لاٸنیں شامل تھیں جو اب پاکستان ریلویز کے زیر انتظام ہیں۔

ملکوال - خوشاب برانچ لائن:
دریائے جہلم کے کنارے تین اضلاع میں واقع، لگ بھگ 95 کلومیٹر طویل یہ ٹریک ضلع منڈی بہاؤ الدین کے ملکوال جنکشن سے شروع ہو کر خوشاب تک جاتا تھا جس میں چودہ اسٹیشن شامل تھے۔ 
ملک وال سے خوشاب تک اس برانچ لائن کی تعمیر 1884ء سے 1939ء کے درمیان ”سندھ ساگر ریلوے“ کے ایک حصے کے طور پر گئی تھی۔ یاد رہے کے دریائے جہلم اور دریائے سندھ کے درمیان کے علاقے کو سندھ ساگر دوآب کہا جاتا ہے۔ 


1880 کی دہائی میں وکٹوریہ پل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد ملکوال سے خوشاب تک جو ریل کی پٹڑی بچھائی گئی اس کا مقصد معدنیات سے مالا مال اس خِطے کو ریل کے ذریعے بقیہ ملک سے جوڑنا اور مال برداری کے لیئے سہولت پیدا کرنا تھا۔

1939 میں جب یہ پل ریلوے ٹریفک کو سنبھالنے جوگا نہ رہا تو اسے پرانے گھاٹوں پر مکمل طور پر دوبارہ گرڈ کرنا پڑا۔ 
اس ٹریک پہ آنے والے اسٹیشنوں میں ملکوال جنکشن، چک نظام (ختم شد)، ہرن پور جنکشن، چلیسہ جنکشن، پنڈ دادن خان، گولپور، ٹوبہ، سروبہ، لِلہ، کنڈوال ہالٹ، ڈھاک جنجوعہ، رکھ راجڑ، سندرال اور خوشاب جنکشن شامل تھے۔


 آج کل ملکوال سے پنڈ دادن خان تک یہ ٹریک آپریشنل حالت میں ہے جس پہ دن میں صرف ایک بار شٹل ٹرین چلتی ہے جبکہ آگے کے تمام اسٹیشن ویران پڑے ہیں۔ 

غریبوال سیمنٹ ورکس ریلوے:
اس ریلوے کا دوسرا ٹریک ہرن پور جنکشن سے غریبوال تک بچھایا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد غریبوال فیکٹری سے سیمنٹ کی ترسیل تھا۔ لگ بھگ 25 کلومیٹر لمبے اس ٹریک پر یہ دو ہی اسٹیشن تھے۔ یہ ٹریک آج کل بند پڑا ہے۔  

ڈنڈوٹ لائٹ ریلوے:
دس کلومیٹر لمبی ''ڈنڈوٹ لائٹ ریلوے''، 610 ملی میٹر (دو فیٹ) کی تنگ گیج کی پٹڑی پر مشتمل تھی جو 1905 میں ڈنڈوٹ ریلوے اسٹیشن سے چلیسا جنکشن ریلوے اسٹیشن تک چالو کی گئی۔ کچھ عرصے بعد اسے براڈ گیج میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ 
اسے خاص کھیوڑہ کی کانوں سے نمک کی ترسیل کے لیئے بچھایا گیا تھا۔ محض دس کلومیٹر لمبا یہ ٹریک 1996 میں بند کر دیا گیا تھا لیکن پھر مرمت کے بعد چلیسہ سے کھیوڑہ تک صرف مال گاڑیوں کے لیئے کھول دیا گیا۔


 یہ ٹریک چلیسہ جنکشن سے ہوتا ہوا سوڈیاں گجر، کھیوڑہ اور ڈنڈوٹ تک جاتا ہے۔ 
ضلع جہلم میں واقع چلیسہ پاکستان کا ایک خوبصورت جنکشن ہے جو اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ یہ رقبے میں ملک کا سب سے چھوٹا جنکشن ہے۔
یہاں سے اب کوئی مسافر ٹرین میں سوار نہیں ہوتا کیونکہ یہاں سے گزرنے والی پنڈ دادن خان شٹل ٹرین بھی اب یہاں نہیں رکتی۔  
اسی لائن کی بدولت مشہور معدنیاتی ذخائر کے حامل شہر جیسے ڈنڈوٹ، کھیوڑہ اور غریبوال بھی ریلوے کے نظام سے منسلک ہوئے جس سے نمک، جپسم اور سیمنٹ کی ترسیل آسان ہو گئی۔ اب یہاں صرف کوئلے سے بھری ٹرین چلتی ہے جو آئی سی آئی فیکٹری تک جاتی ہے۔

ملکوال – بھیرہ برانچ لائن:
یہ لائن ضلع منڈی بہاؤ الدین کے ملکوال جنکشن سے ضلع سرگودھا کی تحصیل بھیرہ تک جاتی تھی جس کے راستے میں ملکوال سمیت چک سیداں، میانی، حضور پور اور بھیرہ، کل پانچ اسٹیشن آتے تھے۔سندھ ساگر ریلوے کا یہ ٹریک دریائے جہلم کے قریب چج دوآب میں واقع تھا۔ 

میانی اور بھیرہ کے اسٹیشن آج بھی قدرے بہتر حالت میں ٹرین کے منتظر ہیں۔

تحریر و تحقیق
محمد عظیم شاہ بخاری

Advertisement
امن کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں ، حکومت دیرپا امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے، سہیل آفریدی

امن کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں ، حکومت دیرپا امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے، سہیل آفریدی

  • 12 hours ago
پاکستان سمیت دنیا بھر کی مسیحی برادری آج ایسٹر کا تہوار مذہبی جوش و خروش سے منا رہی ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر کی مسیحی برادری آج ایسٹر کا تہوار مذہبی جوش و خروش سے منا رہی ہے

  • 19 hours ago
وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بحرینی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، مشرق وسطیٰ اور خطے کی صورتحال پر گفتگو

وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بحرینی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، مشرق وسطیٰ اور خطے کی صورتحال پر گفتگو

  • a day ago
 مسافر بسوں کو 1 لاکھ اور منی بس و ویگنوں کو 40 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جارہی ہے،شہباز شریف

 مسافر بسوں کو 1 لاکھ اور منی بس و ویگنوں کو 40 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جارہی ہے،شہباز شریف

  • 17 hours ago
خیبرپختونخوا: حالیہ بارشوں سے45 افراد جاںبحق اور 442 گھروںکو نقصان پہنچا، پی ڈی ایم اے

خیبرپختونخوا: حالیہ بارشوں سے45 افراد جاںبحق اور 442 گھروںکو نقصان پہنچا، پی ڈی ایم اے

  • 15 hours ago
 10 دن کا دیاگیا وقت ختم ہو رہا ہے، معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی،ٹرمپ کی دھمکی

 10 دن کا دیاگیا وقت ختم ہو رہا ہے، معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی،ٹرمپ کی دھمکی

  • a day ago
اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ،خطے کی صورتحال پر تبادلۂ خیال

اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ،خطے کی صورتحال پر تبادلۂ خیال

  • 19 hours ago
منگل کو ایران میں بجلی گھروں اور پلوں پر حملوں کا دن ہوگا،ٹرمپ کی دھمکی

منگل کو ایران میں بجلی گھروں اور پلوں پر حملوں کا دن ہوگا،ٹرمپ کی دھمکی

  • 12 hours ago
صدر مملکت اور وزیر اعظم کی پاکستان سمیت دنیا بھر کی مسیحی برادری کو ایسٹر کی مبارکباد

صدر مملکت اور وزیر اعظم کی پاکستان سمیت دنیا بھر کی مسیحی برادری کو ایسٹر کی مبارکباد

  • 18 hours ago
 آپریشن غضب للحق کے دوران 796 شدت پسند ہلاک جبکہ 1043 سے زائد زخمی ہوئے، عطاء تارڑ 

 آپریشن غضب للحق کے دوران 796 شدت پسند ہلاک جبکہ 1043 سے زائد زخمی ہوئے، عطاء تارڑ 

  • 13 hours ago
ایران میں گرنے والے جہاز کے دوسرے پائلٹ کو بھی ریسکیو کر لیا گیا ہے،ٹرمپ کا دعویٰ

ایران میں گرنے والے جہاز کے دوسرے پائلٹ کو بھی ریسکیو کر لیا گیا ہے،ٹرمپ کا دعویٰ

  • 18 hours ago
وزیر داخلہ محسن نقوی کی رائیونڈ عالمی تبلیغی مرکز آمد، بھارت اور بنگلہ دیش سےآئے اکابرین سے ملاقات

وزیر داخلہ محسن نقوی کی رائیونڈ عالمی تبلیغی مرکز آمد، بھارت اور بنگلہ دیش سےآئے اکابرین سے ملاقات

  • 15 hours ago
Advertisement