غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 18 مارچ سے جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اب تک 4,497 فلسطینی جان سے جا چکے ہیں


اسرائیلی فوج نے غزہ پر حملوں میں ایک بار پھر شدت پیدا کر دی ہے اور چند گھنٹوں کے دوران فضائی بمباری کے نئے سلسلے کے ساتھ کئی علاقوں سے انخلا کے احکامات بھی جاری کر دیے ہیں۔
غزہ کے علاقے صبرا میں ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم 37 فلسطینی شہید ہو گئے، سول ڈیفنس کے مطابق ملبے تلے اب بھی 85 سے زائد افراد دبے ہوئے ہیں اور غالب گمان ہے کہ ان سب کی موت واقع ہو چکی ہے۔
جبالیا میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے شہریوں کے ایک گروہ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 فلسطینی شہید جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔جنوبی غزہ میں ایک گھر اور موٹر سائیکل کو نشانہ بنایا گیا، جس میں 21 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔ مجموعی طور پر صرف ہفتے کی صبح سے اب تک 95 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 18 مارچ سے جاری اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اب تک 4,497 فلسطینی جان سے جا چکے ہیں۔دوسری طرف اسرائیلی فوج نے شمال مغربی غزہ کی کئی رہائشی آبادیوں کے لیے انخلاء کے نئے احکامات جاری کیے ہیں، یہ اب روزانہ کا معمول بن چکا ہے کہ فوج شہریوں کو اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کر رہی ہے، جس سے نہ صرف ان کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے بلکہ ان کے لیے محفوظ پناہ گاہیں بھی محدود ہوتی جا رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال کا کہنا ہے کہ موجودہ وقت غزہ میں خواتین اور بچوں کے لیے تاریخ کا بدترین دور ہے، شدید فضائی حملوں، بار بار نقل مکانی، خوراک کی کمی اور قحط نے ان کی زندگی کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ شمالی غزہ کے تمام ہسپتال بند ہو چکے ہیں، جبکہ خان یونس کے ناصر اور الأمل ہسپتال بھی بندش کے دہانے پر ہیں، جو زخمیوں اور مریضوں کے لیے انتہائی تباہ کن ہو سکتا ہے۔
ادارے نے طبی سامان اور ادویات کی فوری فراہمی اور بین الاقوامی تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مارچ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے کے بعد اسرائیلی فوج نے دوبارہ حملے شروع کر دیے تھے۔ 17 مئی کو زمینی کارروائیاں خاص طور پر جنوبی اور شمالی غزہ میں تیز کر دی گئیں۔اسرائیلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے تمام یرغمالیوں کی بازیابی، غزہ پر مکمل کنٹرول اور حماس کا مکمل خاتمہ کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا،سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ
- 21 گھنٹے قبل

بنوں کے نیم قبائلی علاقے میں یکے بعد دیگرے دو دھماکے، 7 افراد جاں بحق،متعدد زخمی
- ایک گھنٹہ قبل
.jpeg&w=3840&q=75)
بلوچستان ٹیویٹا کے وفد کا پنجاب کے ہنر مندی نظام سے سیکھنے کیلئے پی ایس ڈی ایف کا دورہ
- 18 گھنٹے قبل

مریم نواز کی ٹرانسپورٹ اور گڈز کرایوں میں کمی کیلئے متعلقہ محکموں کو فوری اقدامات کی ہدایت
- 19 گھنٹے قبل

حکومت اور پی ٹی آئی کے رابطے پھر بحال، وزیر خزانہ کی اپوزیشن وفد سے ملاقات
- 20 گھنٹے قبل

معاہدے کا کمزور فریق واشنگٹن نہیں بلکہ تہران ہے، ایران کو کوئی مالی رعایت نہیں دیں گے،ٹرمپ
- 20 گھنٹے قبل

کالعدم ایکشن کمیٹی عوامی حقوق کی آڑ میں کسی اور ایجنڈے پر عمل پیرا ہے،کشمیر ی قیادت
- ایک گھنٹہ قبل

اقوام متحدہ میں افغان مندوب نے طالبان رجیم کے حالیہ اقدامات پر سوالات اٹھا دیے
- ایک گھنٹہ قبل

معاہدے کی خلاف ورزی یا غیر ضروری مطالبات مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت جواب دیا جائے گا،قالیباف
- 21 گھنٹے قبل

ایک روز کی ریکارڈسستا ہونے کے بعد سونے کی قیمتوں میں معمولی کمی
- 41 منٹ قبل

لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا
- 21 گھنٹے قبل

امن مذاکرات پر مشاورت،وزیر داخلہ محسن نقوی ایران پہنچ گئے
- 29 منٹ قبل





