امریکا سے تعلقات کا مطلب یہ نہیں کہ ہر معاملے میں ساتھ دیں ، اسرائیلی جارحیت کی بھرپور مذمت کی: اسحٰق ڈار
نائب وزیراعظم نے کہا، "ہم نے ایران کے لیے باعزت جنگ بندی کی حمایت کی، ہمارا اسلامی و اخلاقی فرض تھا کہ ہم ایران کو نیچا نہ دکھانے دیں


اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے اسرائیل کی ایران پر جارحیت کی کھل کر مذمت کی اور تہران کو بحران سے باعزت انداز میں نکالنے کے لیے بھرپور سیاسی و سفارتی کوششیں کیں۔
انہوں نے بتایا کہ او آئی سی کے حالیہ وزرائے خارجہ اجلاس میں سب سے اہم موضوع ایران و اسرائیل تنازع تھا۔ پاکستان کی تجویز پر ایران سے متعلق ایک خصوصی سیشن بھی منعقد کیا گیا، جس میں رکن ممالک نے جارحیت کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کیا۔
اسحٰق ڈار کا کہنا تھا، "ہم نے ایران پر اسرائیلی حملے کی بھرپور مذمت کی، میں مسلسل ایرانی وزیر خارجہ سے رابطے میں رہا، اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ایرانی صدر سے کشیدگی کے دوران کئی بار براہ راست بات چیت کی۔"
ایران کو تنہا نہ چھوڑنے کا عزم
نائب وزیراعظم نے کہا، "ہم نے ایران کے لیے باعزت جنگ بندی کی حمایت کی، ہمارا اسلامی و اخلاقی فرض تھا کہ ہم ایران کو نیچا نہ دکھانے دیں۔ ایران نے سلامتی کونسل اور اپنی پارلیمنٹ میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔"
انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی صدر کی پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران پورے ایوان نے ’’تشکرِ پاکستان‘‘ کے نعرے لگائے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کو پاکستان کی پشت پناہی حاصل تھی۔
امریکا سے تعلقات، لیکن اصولی مؤقف برقرار
وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ امریکا سے اچھے تعلقات کے باوجود پاکستان نے اصولی مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا، "یہ ضروری نہیں کہ ہر صورت امریکا کا ساتھ دیا جائے، ہم نے ایران پر حملے کے بعد قیاس آرائیوں کا جواب دیتے ہوئے اپنی پوزیشن واضح کی کہ ہم غیرمنصفانہ اقدامات کی حمایت نہیں کریں گے۔"
استنبول میں اعلیٰ سطحی سفارت کاری
اسحٰق ڈار نے بتایا کہ ایران پر امریکی حملے کے بعد، آرمی چیف کی استنبول میں صدر رجب طیب اردوان سے اہم ملاقات ہوئی، جس میں ایران کے معاملے پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ اس ملاقات میں فیلڈ مارشل، پاکستانی سفیر، ترک وزیر خارجہ، انٹیلی جنس چیف اور دیگر سینئر حکام شریک تھے۔
ایرانی مؤقف اور ردعمل
انہوں نے بتایا کہ ایران نے پاکستان کو آگاہ کیا تھا کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے حامی نہیں، تاہم حملے کا جواب ضرور دیں گے۔ ایران نے قطر کو اعتماد میں لے کر وہاں قائم امریکی ایئر بیس کو نشانہ بنایا، اور واضح پیغام دیا کہ جوابی کارروائی صرف دشمن کے اڈوں تک محدود رہے گی۔
او آئی سی اعلامیہ اور فلسطین
اسحٰق ڈار نے کہا کہ استنبول اعلامیہ میں اسرائیل کی ایران، شام اور لبنان پر جارحیت کی کھل کر مذمت کی گئی، جبکہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو بھی مسترد کیا گیا۔ اعلامیے میں پاک بھارت مسائل کے حل کی حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا۔

ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا چکا ہے، ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے ،ٹرمپ
- 2 دن قبل

اپوزیشن کے شور شرابے میں پنجاب کا بجٹ پیش، ملازمین کی تنخواہوں میں 7، پنشن میں 3.5 فیصد اضافہ تجویز
- 20 گھنٹے قبل

امریکا نہ ہوتا تواسرائیل کا وجود ہی نہ ہوتا ، حزب اللہ سے نمٹنے کی ذمہ داری شام کو سونپنی چاہئے،ٹرمپ
- 21 گھنٹے قبل

لبنان پر اسرائیلی حملہ ایران امریکا معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا،عباس عراقچی کا انتباہ
- 21 گھنٹے قبل

امن مذاکرات کی کامیابی پاکستان کی سفارتی فتح ہے، ہیڈ لائن ڈپلومیسی پر یقین نہیں رکھتے، سیکیورٹی ذرائع
- 20 گھنٹے قبل

وفاقی حکومت گلگت بلتستان کیلئے 100 میگاواٹ شمسی بجلی منصوبے کے اخراجات برداشت کرے گی،وزیراعظم
- 21 گھنٹے قبل

عالمی شہرت یافتہ فیشن ڈیزائنر آمنہ انعام کی سالگرہ کی تقریب، فیملی سمیت شوبز شخصیات کی شرکت
- 2 دن قبل

اٹک میں سی ٹی ڈی کی کامیاب کارروائی، 5 خطرناک دہشت گرد ہلاک،اسلحہ و گولہ بارودو دیگر مواد برآمد
- 20 گھنٹے قبل
.webp&w=3840&q=75)
وزیراعظم سے مختلف اراکین قومی اسمبلی کی ملاقاتیں ،عالمی امن کے قیام کیلئے کامیاب کوششوں پر خراج تحسین
- 21 گھنٹے قبل

روس کا ٹی یو-22 بمبار طیارہ ٹریننگ پرواز کے دوران گر کر تباہ،وزارت دفاع کی تصدیق
- 2 دن قبل

پنجاب اسکلز ڈویلپمنٹ فنڈاور مائیگرنٹ ریسورس سینٹرپاکستان کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط
- 17 گھنٹے قبل
طالبان رجیم نے افغان شہریوں کیلئے قید خانہ اور امن دشمنوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنا دیا،عالمی جریدہ
- 20 گھنٹے قبل



.jpg&w=3840&q=75)
.jpg&w=3840&q=75)


.jpg&w=3840&q=75)



