سپریم کورٹ:مخصوص نشستوں سے متعلق نظر ثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ ،کچھ دیر بعد سنایا جایا گا
کیس کے آغاز میں ہی جسٹس صلاح الدین پنوار نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا جس کے بعد مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں 11 رکنی بینچ ٹوٹ گیا۔


اسلام آباد:پاکستان سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا،آئینی بینچ کچھ دیر میں مختصر فیصلہ سنائے گا۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
؎آئینی بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس عقیل عباسی، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔
کیس کے آغاز میں ہی جسٹس صلاح الدین پنوار نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا جس کے بعد مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں 11 رکنی بینچ ٹوٹ گیا۔
اس سے قبل آئینی بینچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے وکیل حامد خان نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی روایت کے مطابق اس کیس کی سماعت نہیں ہونی چاہیے، اور ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں۔ جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ’’کہاں لکھا ہے کہ ہم یہ کیس نہیں سن سکتے؟ سپریم کورٹ کے رولز میں دکھائیں۔‘‘
جسٹس مندوخیل نے مزید کہا، ’’اگر آپ دلائل دینا چاہتے ہیں تو دیں، ورنہ اپنی نشست پر تشریف رکھیں۔ یہ سپریم کورٹ ہے، اسے مذاق نہیں بننے دیں گے۔ آپ ایک سینئر وکیل ہیں، لیکن آج آپ کا رویہ پیشہ ورانہ وقار کے مطابق نہیں۔‘‘
اس پر وکیل حامد خان نے اعتراض اٹھایا اور کہا کہ ’’آپ مجھ سے اس لہجے میں بات نہیں کر سکتے۔ میں عدالتِ عظمیٰ کا احترام کرتا ہوں لیکن مجھے بھی سنا جائے اور عزت سے گفتگو کی جائے۔‘‘
حامد خان نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مقدمے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نظرثانی کیس میں بینچ کی تشکیل سے متعلق اصول طے ہو چکے ہیں۔ تاہم جسٹس مندوخیل نے انہیں رولز پڑھنے کا مشورہ دیا اور کہا: ’’قاضی فائز عیسیٰ کا نام نہ لیں، سپریم کورٹ کے قواعد پڑھیں۔‘‘
مکالمہ مزید تلخ ہوا تو حامد خان نے کہا کہ ’’آپ غصے کی حالت میں ہیں، اس لیے آپ کو سماعت سے الگ ہو جانا چاہیے۔‘‘ جس پر جسٹس مندوخیل نے سختی سے جواب دیا: ’’مائنڈ یور لینگویج، میں اپنی حالت سے آگاہ ہوں۔ میں اس عدالت کے وقار کے لیے اپنی والدہ کی فاتحہ چھوڑ کر آیا ہوں اور آپ اسے مذاق سمجھ رہے ہیں۔‘‘
دورانِ سماعت وکیل حامد خان نے 13 رکنی بینچ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 10 ججز اس پر نظرثانی نہیں کر سکتے۔ جس پر جسٹس مندوخیل نے جواب دیا کہ ’’13 میں سے جو ججز علیحدہ ہوئے، ان کی رائے بھی شمار ہوتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہم آپ کا احترام کرتے ہیں لیکن 26ویں آئینی ترمیم ہم نے نہیں، پارلیمنٹ نے کی۔ آپ نے اس ترمیم کے خلاف ووٹ نہیں دیا بلکہ بائیکاٹ کیا۔ جب تک یہ آئین کا حصہ ہے، ہم اس کے پابند ہیں۔ اگر آپ اس نظام کو نہیں مانتے تو وکالت چھوڑ دیں۔‘‘
سماعت کے اختتام پر عدالت نے وکیل حامد خان کی طرف سے بینچ پر اعتراض کی درخواست مسترد کر دی۔
لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- 2 دن قبل

سینئرجج جبری ریٹائر، وجہ سامنے آگئی
- 2 دن قبل
براڈ پیک پربرفانی تودہ گرنے سے لاپتہ کوہ پیماؤں میں سے 8 کی لاشیں مل گئیں، 2 کی تلاش جاری
- 3 دن قبل
بڑی خوشخبری: اہم عرب ملک کی نئی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان
- 2 دن قبل

کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلہ
- 3 دن قبل
ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق
- 2 دن قبل
پاکستان علماء کونسل کا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ مہم شروع کرنے کا اعلان
- ایک دن قبل

خواجہ آصف عوام سے معافی مانگیں، شعیب صدیقی
- 3 دن قبل
رکن قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ انتقال کرگئے
- 2 دن قبل
طلبہ کی موجیں: 4 اگست کو تعلیمی ادارے بند رہیں گے
- 2 دن قبل
پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے: چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر
- 2 دن قبل

ایل پی جی مہنگی ہو گئی، فی کلو قیمت جانیے
- 3 دن قبل
