Advertisement

ترکیے میں گستاخانہ خاکہ شائع کرنے پر کارٹونسٹ اور ایڈیٹرز گرفتار، صدر اردوان کا سخت مؤقف

ترک وزیر داخلہ علی یرلی قایا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں گستاخانہ کارٹون بنانے والے کارٹونسٹ کو حراست میں لیا جا رہا ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Jul 1st 2025, 11:09 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
ترکیے میں گستاخانہ خاکہ شائع کرنے پر کارٹونسٹ اور ایڈیٹرز گرفتار، صدر اردوان کا سخت مؤقف

 

ترکیے کے ایک ہفت روزہ میگزین میں خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے متعلق گستاخانہ خاکہ شائع ہونے پر سخت عوامی ردعمل سامنے آیا ہے، جس کے بعد کارٹونسٹ سمیت میگزین کے تین سینئر ذمہ داران کو گرفتار کر لیا گیا۔

ترک میڈیا کے مطابق یہ توہین آمیز خاکہ حضرت محمد ﷺ سے منسوب کیا گیا تھا، جس کی اشاعت پر مذہبی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 26 جون 2025 کے شمارے میں شائع ہونے والے اس خاکے کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جو کھلے عام مذہبی اقدار کی توہین پر مبنی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا چکے ہیں۔

واقعہ کی اطلاع عام ہوتے ہی استنبول کے مرکزی علاقے میں واقع ایک بار، جہاں میگزین کا عملہ اکثر موجود رہتا تھا، مشتعل مظاہرین نے حملہ کر دیا۔ اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔

ترک وزیر داخلہ علی یرلی قایا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں گستاخانہ کارٹون بنانے والے کارٹونسٹ کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ "گستاخانہ خاکہ بنانے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔"

میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار کیے جانے والوں میں کارٹونسٹ کے علاوہ میگزین کے دو ایڈیٹر ان چیف اور ایک منیجنگ ایڈیٹر بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "جو افراد حضرت محمد ﷺ اور دیگر انبیائے کرام کی شان میں گستاخی کریں گے، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔"

Advertisement
Advertisement