برازیل، چین اور بھارت کو روس کے ساتھ تجارت جاری رکھنے پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،نیٹو چیف
برازیلیا، بیجنگ اور نئی دہلی میں بیٹھے رہنماؤں سے اپیل ہے کہ وہ اس صورتحال کو سنجیدگی سے لیں،مارک روٹے


نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے خبردار کیا ہے کہ اگر برازیل، چین اور بھارت نے روس کے ساتھ تجارت جاری رکھی تو انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو ان ممالک کی معیشت پر شدید منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔
مارک روٹے نے یہ بات امریکی کانگریس میں سینیٹرز سے ملاقات کے دوران کہی۔ یہ ملاقات اُس روز ہوئی جب امریکی صدر نے یوکرین کے لیے نئے ہتھیاروں کی فراہمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر روس اور یوکرین میں آئندہ 50 دنوں میں امن معاہدہ طے نہیں پایا تو روسی برآمدات خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک ثانوی محصولات عائد کر دیں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روٹے کا کہنا تھا کہ میری برازیلیا، بیجنگ اور نئی دہلی میں بیٹھے رہنماؤں سے اپیل ہے کہ وہ اس صورتحال کو سنجیدگی سے لیں، کیونکہ اگر روس کے ساتھ تجارتی تعلقات جاری رکھے گئے تو ان ممالک کو اس کا بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوئی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو فون کریں اور انہیں کہیں کہ وہ امن مذاکرات کو سنجیدگی سے لیں ورنہ اس کے نتائج برازیل، بھارت اور چین پر بڑے پیمانے پر واپس آئیں گے۔
ریپبلکن سینیٹر تھام ٹلس نے امریکی صدر کی جانب سے اعلان کردہ اقدامات کو سراہا، تاہم انہوں نے 50 دن کی تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مدت پیوٹن کو جنگ میں مزید پیش قدمی کا موقع دے سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آج یوکرین کی موجودہ حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح پیغام دینا ہوگا کہ آئندہ 50 دنوں میں روس کی کسی بھی پیش رفت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
نیٹو چیف مارک روٹے نے مزید کہا کہ یورپ یوکرین کو امن مذاکرات میں بہترین پوزیشن پر لانے کے لیے درکار مالی وسائل فراہم کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے طے پانے والے معاہدے کے تحت اب امریکہ یوکرین کو بڑے پیمانے پر اسلحہ فراہم کرے گا، جس میں فضائی دفاعی نظام، میزائل اور گولہ بارود شامل ہیں، جن کی ادائیگی یورپی ممالک کریں گے۔
جب ان سے یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی فراہمی کے حوالے سے پوچھا گیا تو روٹے نے کہا کہ اس میں دفاعی اور جارحانہ دونوں اقسام کے ہتھیار شامل ہوں گے، تاہم اس کی تفصیلات پر بات فی الحال امریکی محکمہ دفاع، یورپی سپریم کمانڈرز اور یوکرینی حکام کے درمیان جاری ہے۔

لاہور:فنکار برادری بھی شہدائے کربلا کے سوگ میں ڈوب گئی
- an hour ago
ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل، بعد ازاں دہلی واپس روانہ
- 20 hours ago
ایف آئی اے نےاسلام آباد میں انسانی اعضاکی خرید و فروخت کے الزام میں غیر ملکی باشندوں سمیت 5 افرادگرفتار کر لئے
- 2 hours ago

نئے تعینات ہونے والے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب سالک جلال کا اصلاحاتی مشن، جیلوں کے اچانک دوروں کا آغاز
- a day ago
امیرِ قطر کی پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں پر وزیراعظم کو مبارکباد
- a day ago
پاکستانی قیادت کی امن کوششوں سے عالمی جنگ بندی ممکن ہوئی، طاہر اشرفی
- 20 hours ago
امریکہ نے ایرانی فٹ بال ٹیم پر لگائی گئی سفری پابندیاں نرم کر دیں
- a day ago

پرواز کارڈ کے تحت 135 ہنر مند نوجوان سعودی عرب روانہ، وزیراعلیٰ پنجاب نے پرواز کارڈ اور بلاسود قرضے تقسیم کیے
- a day ago
پی آئی بی ایف کی جانب سے پاکستان۔ایران تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے چھ نکاتی ایجنڈا ایرانی سفیر کو پیش
- a day ago
وینزویلا میں دو زلزلے، 164 سے زائد افراد ہلاک، عمارتیں زمین بوس ہو گئیں
- 4 hours ago

نو محرم الحرام مذہبی عقیدت واحترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے، یوم عاشور کل عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جائے گا
- 4 hours ago
وزیرِ دفاع کی پاکستان تحریک انصاف کو میثاقِ جمہوریت پر دستخط کرنے کی دعوت
- a day ago










