Advertisement

ایران کا جوہری پروگرام سمیت یورینیم کی افزودگی ترک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، عباس عراقچی

فی الحال افزودگی رکی ہوئی ہے کیونکہ امریکی حملے میں جوہری تنصیبات کو شدید اور سنگین نقصان پہنچا ہے، ایرانی وزیر خارجہ

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Jul 22nd 2025, 9:18 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
ایران کا  جوہری پروگرام سمیت  یورینیم کی افزودگی ترک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، عباس عراقچی

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ایران کا اپنے جوہری پروگرام، بشمول یورینیم کی افزودگی ترک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال افزودگی رکی ہوئی ہے کیونکہ ہاں،جوہری تنصیبات کو شدید اور سنگین نقصان پہنچا ہے لیکن ہم افزودگی ترک نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ہمارے سائنسدانوں کی ایک اہم کامیابی ہے۔

انہوں نے یورینیم کی افزودگی کو ایرانی قوم کا فخر قرار دیا اور واضح کیا کہ مستقبل کے کسی بھی جوہری معاہدے میں یورینیم افزودگی کا حق شامل ہونا چاہیے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا امریکی حملوں سے پہلے محفوظ کیا گیا افزودہ یورینیم بچایا جا سکا ہے یا نہیں تو ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ میرے پاس تفصیلات موجود نہیں، تاہم انہوں نے بتایا کہ ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ جوہری مواد یا افزودہ مواد کو اصل میں کتنا نقصان پہنچا ہے۔

یاد رہے کہ تہران پر اسرائیلی حملے کے بعد امریکا نے 22 جون کو ایران کی 3 جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی ، ان اہداف میں تہران کے جنوب میں واقع فوردو کی زیر زمین یورینیم افزودگی کی تنصیب بھی شامل تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کو کامیاب قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اعتراف کیا ہاں، تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے لیکن یہ ٹیکنالوجی ہمارے پاس موجود ہے۔ ہمارا جوہری پروگرام، خاص طور پر افزودگی کا عمل، کوئی درآمد شدہ چیز نہیں ہے جسے بمباری سے ختم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں۔

Advertisement