Advertisement
پاکستان

 سیلاب متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کی تکمیل تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،شہباز شریف

پاک آرمی نے شدید متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر لوگوں کو باہر نکالا، فیلڈ مارشل آرمی کی جانب سے ریسکیو آپریشن کو خود مانیٹر کر رہے ہیں،وزیر اعظم

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Aug 22nd 2025, 3:02 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
 سیلاب متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کی تکمیل تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،شہباز شریف

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کی تکمیل تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حالیہ سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی گئی۔

 اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا دو دن قبل ہم بونیر گئے وہاں سیلاب سے بے پناہ جانی نقصان ہوا، وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت سے بھرپور ہاتھ بٹایا ہے، چیئرمین این ڈی ایم اے نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان بھجوایا ہے۔

انہوں نےمزید کہا کہ حالیہ قدرتی آفت میں 700 سے زیادہ اموات ہوئیں،جن میں سے صرف خیبرپختونخوا میں 400 سے زائد اموات ہوئیں، 2022 کے سیلاب میں معاشی نقصان بہت ہوا، 100 اموات ہوئیں، 2022 کے سیلاب میں صوبہ سندھ بہت متاثر ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں وزارت موسمیاتی تبدیلی کی ذمہ داری بڑھ چکی ہے، سستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اداروں کو بھی اس میں حصہ ڈالنا ہے۔

ان کا کہنا تھا 3 دن قبل کراچی میں شدید بارش ہوئی، وزیراعلیٰ سندھ اور بلاول بھٹو سے میں نے اظہار افسوس کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ گلیات وہ علاقے تھے جہاں کوئی ایک درخت نہیں گراسکتا تھا، آج گلیات چلے جائیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے، گلیات میں درختوں کی بہت کٹائی ہوئی ہے، ایک میئٹنگ بلاکر بات کروں گا کہ قیامت خیز خوبصورتی چاہیے یا کہ جانوں کو بچانا ہے، یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے جس کو ہمیں نبھانا ہے۔

اجلاس سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ این ڈی ایم اے نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان بھجوایا، افواج پاکستان امدادی کاموں میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں، پاک آرمی نے شدید متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر لوگوں کو باہر نکالا، فیلڈ مارشل آرمی کی جانب سے ریسکیو آپریشن کو خود مانیٹر کر رہے ہیں۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ریسکیو آپریشن اور ری ہیبلی ٹیشن کا کام جاری ہے، جب تک بحالی کا کام مکمل نہیں ہو جاتا چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

Advertisement