Advertisement

سیلاب کے بعد مختلف بیماریاں پھیلنے کے خدشہ، ہنگامی ہیلتھ ایڈوائزری جاری

ہیلتھ ایڈوائزری کے مطابق سیلاب کے بعد ہیضہ، ٹائیفائیڈ، اسہال کی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Sep 4th 2025, 12:51 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سیلاب کے بعد مختلف بیماریاں پھیلنے کے خدشہ، ہنگامی ہیلتھ ایڈوائزری جاری

وزارت صحت نے سیلاب کے بعد مختلف بیماریاں پھیلنے کے خدشے کی ہنگامی ہیلتھ ایڈوائزری جاری کر دی۔

ہیلتھ ایڈوائزری کے مطابق سیلاب کے بعد ہیضہ، ٹائیفائیڈ، اسہال کی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔

وزارت صحت کی ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ٹھہرا ہوا پانی ڈینگی، چکن گونیا اور ملیریا کے  پھیلاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایڈوائزری میں شہریوں کوبیماریوں سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

دوسری طرف سیلابی صورتحال کے باعث پشاور میں بھی آشوب چشم کی وبا پھوٹ پڑی، ہسپتالوں کی او پی ڈیز میں روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 60 سے 70 فیصد مریض آشوب چشم کے رپورٹ ہورہے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق سیلابی پانی میں موجود آلودگی اور کیچڑ آشوبِ چشم کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے جو آنکھوں کی شدید سرخی، خارش اور آنکھوں سے پانی بہنے کا سبب بنتی ہے اور اگر فوری علاج نہ کیا جائے تو یہ وبا دیگر افراد میں بھی تیزی سے منتقل ہوسکتی ہے۔

طبی ماہرین شہریوں کو صفائی کا خاص خیال رکھنے ،گندے ہاتھوں سے آنکھوں کو نہ چھونے اور متاثرہ افراد سے غیر ضروری قریبی رابطے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے بھی پاکستان میں سیلاب کے باعث وبائی امراض میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں سیلاب کے بعد ڈینگی کے کیسز میں 41 فیصد اور ملیریا میں 26 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان اور سندھ میں ہیضہ پھیل رہا ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں خارش، جلدی امراض، سانپ اور کتوں کے کاٹنے کے کیسز بڑھ گئے ہیں۔  فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کا صحت کا نظام وباؤں کے بوجھ تلے دب سکتا ہے۔

Advertisement
Advertisement