Advertisement

یہودی ہونے کے ناطے فلسطین کے حق میں بولنا میری ذمہ داری ہے ، ہنا آئنبنڈر

ایوارڈ وصول کرتے وقت ہنا آئنبنڈر نے اسٹیج پر مختصر مگر مؤثر الفاظ میں کہا فلسطین کو آزاد کریں

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Sep 15th 2025, 6:40 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
یہودی ہونے کے ناطے فلسطین کے حق میں بولنا میری ذمہ داری ہے  ، ہنا آئنبنڈر

 

معروف امریکی اداکارہ اور کامیڈین ہنا آئنبنڈر نے کہا ہے کہ ایک یہودی ہونے کے ناطے فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرنا ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

حال ہی میں ایمی ایوارڈز کی تقریب میں کامیڈی سیریز ’ہیکز‘ (Hacks) میں بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ جیتنے والی ہنا اس سے قبل چار مرتبہ اس ایوارڈ کے لیے نامزد ہو چکی تھیں۔

ایوارڈ وصول کرتے وقت ہنا آئنبنڈر نے اسٹیج پر مختصر مگر مؤثر الفاظ میں کہا: "فلسطین کو آزاد کریں"۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا، جس نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی۔

ویرائٹی (Variety) کو دیے گئے انٹرویو میں ہنا نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک یہودی کی حیثیت سے اس معاملے پر خاموش نہیں رہ سکتیں، کیونکہ یہ ان کی روحانی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے قریبی دوست غزہ میں فرنٹ لائن ورکرز کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں ڈاکٹر، اساتذہ، اور وہ افراد شامل ہیں جو پناہ گزین کیمپوں میں اسکول چلا رہے ہیں اور حاملہ خواتین و بچوں کی مدد کر رہے ہیں۔

ہنا نے کہا "یہ معاملہ میرے دل سے بہت قریب ہے۔ میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ یہودیت اور ہماری ثقافت ہزاروں سال پرانی، بھرپور اور خودمختار روایات پر مبنی ہے، جس کا اسرائیلی نسلی ریاست سے کوئی تعلق نہیں۔"

اداکارہ نے "فلم ورکرز فار فلسطین" کے تحت جاری بائیکاٹ مہم کا بھی تذکرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مہم کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ ان اداروں کے خلاف ہے جو فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم میں شریک یا خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

Advertisement
Advertisement