طلال چوہدری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاست اور حکومت اس مؤقف پر متفق ہیں کہ ہر فرد کو جمہوری حدود میں رہتے ہوئے احتجاج کا حق حاصل ہے


وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے واضح کیا ہے کہ ملک میں جتھوں کے ذریعے سیاست یا دباؤ ڈالنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ریاست کسی گروہ کی بلیک میلنگ قبول نہیں کرے گی۔ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) احتجاج کی آڑ میں بدامنی پھیلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن افرا تفری اور تشدد کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
طلال چوہدری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاست اور حکومت اس مؤقف پر متفق ہیں کہ ہر فرد کو جمہوری حدود میں رہتے ہوئے احتجاج کا حق حاصل ہے، مگر یہ حق آئین میں درج کچھ شرائط و ضوابط سے مشروط ہے۔
انہوں نے ٹی ایل پی کی ماضی کی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس جماعت نے اپنے مظاہروں میں مسلح جتھوں کا استعمال کیا، جنہوں نے سیکیورٹی اداروں اور قومی و نجی املاک پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور اہلکار شہید ہوئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف پاکستان کا عالمی امیج متاثر ہوتا ہے بلکہ شہریوں کے ذاتی اثاثوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ لہٰذا، اب ملک میں جتھوں کے ذریعے مطالبات منوانے کا دروازہ بند ہونا چاہیے۔
انہوں نے اس احتجاج کے فلسطین اور غزہ کے نام پر کیے جانے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں جہاں جہاں غزہ کے لیے آواز بلند کی گئی، وہاں خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
طلال چوہدری کے مطابق، فلسطینی عوام نے اللہ کا شکر ادا کیا ہے کہ انہیں امن اور دوبارہ اپنے وطن میں آباد ہونے کا موقع ملا ہے۔ پاکستان سمیت تمام مسلم اور دیگر ممالک نے اس کے لیے جو سفارتی کوششیں کیں، ان کے نتیجے میں ایک امید کی کرن پیدا ہوئی ہے کہ اب فلسطین کو اس کا جائز حق ملنے جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ متعلقہ تمام فریق اس پیش رفت پر مطمئن ہیں کیونکہ اس معاہدے سے نہ صرف فلسطینی عوام کو حق ملا ہے بلکہ ظلم کرنے والوں کو بھی پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔
امیرِ قطر کی پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں پر وزیراعظم کو مبارکباد
- 10 گھنٹے قبل

نئے تعینات ہونے والے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب سالک جلال کا اصلاحاتی مشن، جیلوں کے اچانک دوروں کا آغاز
- 13 گھنٹے قبل
پاکستانی قیادت کی امن کوششوں سے عالمی جنگ بندی ممکن ہوئی، طاہر اشرفی
- 5 گھنٹے قبل

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو وزیراعظم ہاؤس آمد پر گارڈ آف آنر پیش
- ایک دن قبل

تعبیر فاؤنڈیشن اور کِٹاس کالج کے درمیان مستحق اور ذہین طلبہ کے لیے تعلیمی وظائف کی فراہمی کا معاہدہ
- ایک دن قبل

ایرانی صدرمسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے
- 2 دن قبل
پی آئی بی ایف کی جانب سے پاکستان۔ایران تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے چھ نکاتی ایجنڈا ایرانی سفیر کو پیش
- 15 گھنٹے قبل
ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل، بعد ازاں دہلی واپس روانہ
- 5 گھنٹے قبل

ایرانی صدر کی علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کی تعریف
- ایک دن قبل
امریکہ نے ایرانی فٹ بال ٹیم پر لگائی گئی سفری پابندیاں نرم کر دیں
- 12 گھنٹے قبل

پرواز کارڈ کے تحت 135 ہنر مند نوجوان سعودی عرب روانہ، وزیراعلیٰ پنجاب نے پرواز کارڈ اور بلاسود قرضے تقسیم کیے
- 13 گھنٹے قبل
وزیرِ دفاع کی پاکستان تحریک انصاف کو میثاقِ جمہوریت پر دستخط کرنے کی دعوت
- 15 گھنٹے قبل


.webp&w=3840&q=75)




