اجلاس میں فیصلہ: ملک میں موجود غیر قانونی افغان باشندوں کا ریاستی بوجھ ختم ہو گا
وزیراعظم نے کہا کہ واپسی کے عمل میں خصوصاً بزرگ، خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے ساتھ باعزت سلوک ضروری ہے


وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ یہ بے حد تشویشناک ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد حملوں میں افغان شہری ملوث پائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امن مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے اس دراندازی کو روکنے کی بھرپور کوششیں کی ہیں، مگر نتیجہ اب تک مثبت نہیں رہا۔
وزیراعظم کی صدارت میں افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے سلسلے میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی وزراء اور آزاد کشمیر، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلی شریک ہوئے۔ خیبرپختونخوا نے نمائندے کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی، اور وفاقی و صوبائی لیول کے اعلی حکام بھی موجود تھے۔
اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان نے ہزاروں جانیں دی ہیں اور بھاری معاشی نقصان برداشت کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کامیاب مہمات اور سفارتی دوروں کے باوجود افغانستان میں موجودہ عناصر پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جلد یہ طے کریں گے کہ حکومت مزید مہاجرین کا بوجھ کب تک اٹھائے گی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبائی حکومتیں اور متعلقہ ادارے مل کر غیر قانونی افغان باشندوں کی وطن واپسی کو یقینی بنائیں۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ 16 اکتوبر 2025 تک 14 لاکھ 77 ہزار 592 افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جا چکا ہے، اور مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔ وفاقی سرحدی بریفنگز میں کہا گیا کہ صرف وہ افغانی پاکستان میں رہ سکیں گے جن کے پاس درست ویزہ ہوگا، اور ایگزٹ پوائنٹس کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے تاکہ وطن واپسی کا عمل آسان اور تیز ہو سکے۔
اجلاس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ مہاجرین کو گیسٹ ہاؤسز میں ٹھہرانا قانوناً جرم ہے، اور حکومت ایسے افراد کی نشاندہی کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ واپسی کے عمل میں خصوصاً بزرگ، خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے ساتھ باعزت سلوک ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوج نے افغانستان کی مداخلت کا بھرپور جواب دیا ہے، اور قوم ان کی کارکردگی پر فخر کرتی ہے۔
اس کے علاوہ، وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا وفاق کا اہم حصہ ہے اور وفاق صوبے کی ترقی میں مکمل تعاون کرے گا۔ واضح رہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں آج پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات ہونے والے ہیں، افغان وفد کی قیادت وزیر دفاع ملا یعقوب کریں گے، اور پاکستان کی جانب سے سیکیورٹی حکام شریک ہوں گے۔

ملیک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر ہزاروں روپے کا اضافہ
- 2 دن قبل

ملک میں سونا ہزاروں روپے سستا، فی تولہ سونا کتنے کا ہوگیا؟
- 19 گھنٹے قبل
پولیسں نے کراچی ڈیفنس فیز 8 میں نوجوان پر تشدد کرنیوالا مرکزی ملزم گرفتار کر لیا
- 18 گھنٹے قبل
ملک میں پاسپورٹ ڈیلیوری اب ہو گئی اورآسان، جانیےکیسے؟
- 19 گھنٹے قبل
ایتھنز: ائیرشو کے دوران جنگی طیارہ گرکر تباہ
- 14 گھنٹے قبل
آئمہ بیگ کا انسٹا گرام اسٹیٹس اچانک نظروں میں آگیا،علیحدگی کی افواہیں
- 2 دن قبل
نیپال میں سیلاب کی تباہ کاریاں: ٹنل سے 9 روز بعد 2 افرادکو زندہ نکال لیا گیا
- 2 دن قبل

پاکستان نے نارووال میں ہندو مندر بارے بھارتی وزارت خارجہ کے بے بنیاد، سیاسی مقاصد پر مبنی دعووں کو مسترد کر دیا
- 2 دن قبل
پاکستان کسان اتحاد کےخالد کھوکھر نے گورننس پر خطرے کی گھنٹی بجا دی
- 13 گھنٹے قبل
میجر جنرل فیصل نصیر نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم اتھارٹی کا قومی کوآرڈینیٹر مقرر کردیا گیا
- 2 دن قبل

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون نئے مرحلے میں داخل ہو گیا: طاہر اشرفی
- 2 دن قبل
نئے انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے کوئی نہیں روک سکتا: محسن نقوی
- 14 گھنٹے قبل

