چیف آف ڈیفنس سٹاف کا عہدہ آرمی چیف کو دینے کی تجویز،مجوزہ ترمیم کا مسودہ سامنے آ گیا
سپریم کورٹ سے آئینی اختیارات واپس لے کر وفاقی آئینی عدالت کو دیے جائیں گے، آئین کا آرٹیکل 184 ختم کر دیا جائے گا، ازخود نوٹس کا اختیار ختم ہوگا،مسودہ


اسلام آباد: ممکنہ 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ سامنے آگیا جس کے مطابق آرمی چیف کے لیے چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ دینے کی تجویز ہے جبکہ سپریم کورٹ سے آئینی اختیارات واپس لیکر وفاقی آئینی عدالت کے سپرد کیے جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق 27 آئینی ترمیم میں آئین کے آرٹیکل 42 اور 59 میں ترمیم کی جا رہی ہے، اس کے علاوہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کی کلاز 5 میں لفظ سپریم کو فیڈرل کانسٹیٹیوشنل میں تبدیل کیا جا رہا ہے،ترمیم کے تحت ‘وفاقی آئینی عدالت’ کے قیام کی تجویز ہے، وفاقی آئینی عدالت، آئین کی تشریح اور آئینی تنازعات کے فیصلے کرے گی۔
ترمیم کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ سے آئینی اختیارات واپس لے کر وفاقی آئینی عدالت کو دیے جائیں گے، آئین کا آرٹیکل 184 ختم کر دیا جائے گا، ازخود نوٹس کا اختیار ختم ہوگا۔
مسودے کے مطابق آئینی مقدمات اب سپریم کورٹ نہیں، وفاقی آئینی عدالت سنے گی، سپریم کورٹ صرف اپیلوں اور عمومی مقدمات کی عدالت رہے گی۔
مجوہ مسودے کے مطابق وفاقی آئینی عدالت میں چیف جسٹس اور چاروں صوبوں سے برابر نمائندگی ہو گی، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی مدت 3 سال مقرر ہو گی، چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کی حیثیت محدود ہو جائے گی۔
اس طرح مجوزہ مسودہ میں سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے درمیان اختیارات کی تقسیم کی تجویز کی گئی ہے، آئینی عدالت کے فیصلے ملک کی تمام عدالتوں پر لازم ہوں گے۔
چیف آف ڈیفنس سٹاف کا عہدہ آرمی چیف کو دینے کی تجویز
27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں فوجی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی تجویز کی گئی ہے، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے آرمی چیف کو “چیف آف ڈیفنس فورسز” کا عہدہ دینے کی تجویز ہے، آئینی ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل اور دیگر اعلیٰ فوجی عہدوں کو تاحیات درجہ حاصل ہوگا۔
ججز تقرری میں وزیراعظم اور صدر کا کلیدی کردار
27 ویں ترمیم کے ذریعے ججوں کی تقرری کا طریقہ کار بھی بدلا جائے گا، جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دونوں شامل ہوں گے، تقرری میں وزیرِاعظم اور صدر کو کلیدی کردار حاصل ہوگا، پارلیمنٹ کو آئینی عدالت کے ججوں کی تعداد طے کرنے کا اختیار ملے گا۔
اسی طرح آئین کے آرٹیکل 42، 63 اے، 175 تا 191 میں ترمیم کی تجویز ہے جس کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات میں نمایاں کمی ہو گی، ماہرین نے ترمیم کو عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات میں بڑا تغیر قرار دیا، اپوزیشن جماعتوں نے مجوزہ 27 ویں ترمیم پر شدید تحفظات ظاہر کیے، سیاسی حلقوں میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام پر بحث تیز ہو گی۔

انڈس اے آئی ویک ایونٹ ملک کے ٹیکنالوجیکل منظر نامے کو بدل دے گا، وزیر اعظم
- 19 hours ago

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کردی
- a day ago

پنجاب حکومت کی کاوشوں سے لاہور کی خوشیاں دوبارہ لوٹ آئیں،گلوکارہ میگھا
- a day ago

دو دہائیوں بعد بسنت کی واپسی اور جنریشن زی کا جنون
- 16 hours ago

بھارت براہ راست جنگ کی جرات نہیں کر سکتا، افغانستان کے ذریعے پراکسی وار لڑ رہا ہے، وزیر دفاع
- 16 hours ago

بھارتی کوسٹ گارڈ نے اسمگلنگ کے الزام میں تین آئل ٹینکروں کو تحویل میں لے لیا
- 19 hours ago

وزیراعظم سے سری لنکن صدر کا رابطہ، ورلڈ کپ میں بھارت کے ساتھ میچ کھیلنے کی درخواست
- 16 hours ago
لیبیا کے قریب تارکین وطن کی ایک اورکشتی ڈوب گئی، دو بچوں سمیت 53 افراد لاپتا
- 20 hours ago

بھیک مانگنا اب ایک منظم اور منافع بخش کاروبار بن چکا ہےاس کے پیچھے طاقتور مافیا سرگرم ہے،خواجہ آصف
- a day ago

اوپن اے آئی کی جانب سے اے آئی پر مبنی ائیر بڈز متعارف کرانے کی تیاری،رپورٹ
- 18 hours ago

وزیراعظم شہباز شریف کا موڈیز کی جانب سے بینکنگ شعبے کی ریٹنگ مستحکم قرار دیے جانے پر اطمینان کا اظہار
- 16 hours ago

ملتان سلطانز 2 ارب 45 کروڑ میں نیلام ،فرنچائز کا نیا نام راولپنڈی ہوگا
- 17 hours ago







.jpg&w=3840&q=75)

