Advertisement

ایران کا جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے سے نکلنے پر غور،تین نکاتی منصوبہ تیار

پارلیمنٹ سمیت متعلقہ ادارےاین پی ٹی سے ایران کےدستبردارہونے پر غورکر رہے ہیں، واضح ہو چکا ہےکہ ایران کے این پی ٹی میں رہنے کا جواز ہی نہیں بچا،ایرانی میڈیا

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 months ago پر Mar 29th 2026, 1:45 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
ایران کا جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے سے نکلنے پر غور،تین نکاتی منصوبہ تیار

تہران: ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے (این پی ٹی) سے علیحدگی پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر تشویش کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ممکنہ فیصلے کا مقصد آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کے ذریعے مبینہ جاسوسی کو روکنا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ کچھ معائنہ کاروں کے ذریعے حساس معلومات امریکا اور اسرائیل تک پہنچائی جا رہی ہیں۔

یرانی میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ سمیت متعلقہ ادارےاین پی ٹی سے ایران کےدستبردارہونے پر غورکر رہے ہیں، واضح ہو چکا ہےکہ ایران کے این پی ٹی میں رہنے کا جواز ہی نہیں بچا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ این پی ٹی کے تحت آئی اے ای اے کی ذمہ داری ہے کہ ایران کو پرامن جوہری ٹیکنالوجی اور آلات تک رسائی دی جائے، تاہم ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ آئی اے ای اے اس پر مؤثر ردعمل دینے میں ناکام رہا ہے۔

اس حوالے سے تہران کے رکن اسمبلی مالک شریعتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا کہ ایران کے جوہری حقوق کے تحفظ کے لیے ایک ہنگامی منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے جس کے تین اہم نکات ہیں۔

ان میں این پی ٹی سے علیحدگی کا اعلان، 2014 کے جوہری معاہدے پر عملدرآمد کے لیے بنائے گئے قوانین میں تبدیلی یا خاتمہ، اور ہم خیال ممالک کے ساتھ ایک نئے بین الاقوامی معاہدے کی تشکیل شامل ہے تاکہ پرامن جوہری ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق اگر ایران این پی ٹی سے الگ ہونے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ عالمی جوہری نظام کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

 

Advertisement