پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی، امریکہ اور ایران کا دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان
ایرانی سپریم لیڈر نے امریکی جنگ بندی معاہدے کے بعد تمام فوجی یونٹس کو رُک جانے کا حکم دے دیا ہے تاہم واضح کیا ہے کہ یہ جنگ کا خاتمہ نہیں بلکہ عارضی وقفہ ہے،رپورٹس


اسلام آباد: پاکستان کی سفارتکاری کی بدولت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی۔امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کے لیے مشروط جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستانی قیادت کے مثبت کردار کو سراہا۔
تفصیلات کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین39 دنوں سے جاری جنگ بالآخر ایک فیصلہ کن موڑ پر آگئی۔پاکستان کی جانب سے ثالثی کی پیش کش پر امریکہ اور ایران کی قیادت نے جنگ بندی کا فیصلہ کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب وزیراعظم محمد شہباز شریف کی پیش کش پر رد عمل دیتے سوشل میڈیا پر دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بندی مشروط ہے، جس کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز کو مکمل اور محفوظ طریقے سے بحال کرنا ہوگا۔
امریکی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قیادت کی درخواست پر ایران پر حملے معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے موصول ہونے والی 10 نکاتی تجویز کو مذاکرات کے لیے ایک ٹھوس بنیاد قرار دیا ہے تاکہ اس عارضی وقفے کے دوران سفارتی عمل کو آگے بڑھا کر خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔
ایران بھی عارضی جنگ بندی پر رضامند
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکی جنگ بندی معاہدے کے بعد تمام فوجی یونٹس کو رُک جانے کا حکم دے دیا ہے تاہم واضح کیا ہے کہ یہ جنگ کا خاتمہ نہیں بلکہ عارضی وقفہ ہے۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے ذریعے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام عسکری شاخیں سپریم لیڈر کے حکم پر فوری طور پر جنگ بندی پر عمل کریں، مگر ملک مکمل طور پر الرٹ رہے گا۔
ایرانی حکام نے جنگ بندی کو ’دشمن کی میدانِ جنگ میں پسپائی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذاکرات سیاسی کامیابی میں تبدیل ہوئے تو اسے تاریخی فتح سمجھا جائے گا، ورنہ جنگ جاری رہے گی۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ایران پر حملے رک گئے تو ایران بھی حملے روک دے گا، ایرانی فوج سے رابطے کے ساتھ آبنائے ہرمز سے 2 ہفتے تک محفوظ ٹرانزٹ ممکن ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کیلئے ایران کی شرائط مان لیں جس کے بعد صدر ٹرمپ نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیل کا بھی عارضی جنگ بندی پر اتفاق
علاوہ ازاں وائٹ ہاؤس کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے بھی عارضی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل نے ایران پر بمباری روک دی ہے اور وہ بھی مذاکرات میں شامل ہوگا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا سویلین انفراسٹرکچر پر حملوں کی ڈیڈ لائن سے صرف ڈیڑھ گھنٹہ قبل ہی جنگ بندی کا اعلان کیا۔

ایران امریکا جنگ بندی: وفاقی حکومت کو جمعہ کو ملک بھر میں ’یوم تشکر‘ منانے کا فیصلہ
- 23 منٹ قبل

سلامتی کونسل میں روس اور چین نے آبنائے ہُرمز کھلوانے کی قرارداد کو ویٹو کردیا
- 20 گھنٹے قبل

گورنر ہاؤس خیبرپختونخوا میں ’’ریاست اور سماج مکالمہ‘‘ کے عنوان سے ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد
- ایک دن قبل

پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی ناقابل معافی ، ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی،وزیر اعظم
- 20 گھنٹے قبل

وزیراعظم کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، پیٹروکیمیکل اورصنعتی کمپلیکس پر حملوں کی شدید مذمت
- ایک دن قبل

جنگ بندی پر اتفاق: وزیراعظم نےمذاکرات کیلئے ایرانی اور امریکی وفود کو اسلام آباد بلا لیا
- ایک گھنٹہ قبل

وزیراعظم کا مسعود پزشکیان سے رابطہ، ایرانی صدر کی اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی تصدیق
- ایک گھنٹہ قبل

جنگ بندی کے بعد سونا اچانک کئی ہزار روپے مہنگا، نئی قیمت کیا ہو گئی؟
- ایک گھنٹہ قبل

ایران ، امریکہ جنگ بندی:آج عالمی امن کے لیے بڑا دن ہے، صدر ٹرمپ
- 2 گھنٹے قبل

اقوام متحدہ سمیت مختلف ممالک کا امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم،پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف
- 2 گھنٹے قبل

آج رات ایران کی پوری تہذیب ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گی، ٹرمپ کی دھمکی
- 21 گھنٹے قبل

ٹرمپ کی دھمکی:ایرانی شہری امریکی حملوں سے بجلی گھروں، پلوں کی حفاظت کے لیے نکل آئے
- 20 گھنٹے قبل







