اسلام آباد : مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز نے وزیراعظم عمران خان سےلاپتہ افراد کے لواحقین سے ملنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاہے کہ سلیکٹڈ ہونےکےباوجود آپ کافرض ہے کہ عوام کا خیال رکھیں۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے لاپتہ افراد کے لواحقین کے دھرنے میں شرکاء سے اظہار یکجہتی کے لیے نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز ڈی چوک پہنچیں ، اس موقع پر مریم نواز نے کہا کہ میرے پاس انکے احساسات کے بدلے الفاظ نہیں ہیں ، سب یہاں رشتوں میں بندھے ہیں۔جب کوئی اللہ کو پیارا ہوجاتا ہے تو رہتی زندگی تک اسکی یاد نہیں جاتی، لیکن اس انسان کا غم جو روز اپنے پیاروں کا انتظار شروع کردیتےہیں ان کا کیا ؟ ۔ ان کے دلوں پر کئی سالوں سے یہ قیامت گزر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی سڑکوں پر یہ کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں مجھے ان کے احساسات کا ادراک ہے، پہلے انسان کے دعوے زیادہ ہوتےہیں لیکن اقتدار کے بعد وہ بھول جاتے ہیں۔ وزیراعظم خود نہیں آسکتےتو وزیرکوبھیج دیں ، اگریہ بھی نہیں کرسکتے توانسانی حقوق پربیانات نہ دیں اقتدار سے پہلےبڑی بڑی باتیں کی جاتی ہیں ۔ چاہے آپ سلیکٹڈ ہیں آپکا فرض ہے کہ انکے پیاروں کو پتہ ہی دے دیں۔ وزیر اعظم سے کہتی ہوں کہ وزیر اعظم ہاوس یہاں سے دور نہیں ہے آپ نے اللہ تعالی کو جواب دینا ہے ۔
مریم نوازنے کہا کہ شہریوں کا تحفظ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ، کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو اس کا بھی قانونی طریقہ ہوتا ہے ، میں اس وقت اظہار یکجہتی کے سوا کچھ نہیں کر سکتی ۔ انسان کی باتیں اس کا پیچھا قبر تک کرتی ہیں ، حکومت کا فرض اپنے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے ، آپ کو بس یہی باتیں ملی ہیں کہ لاشوں میں بلیک میل نہیں ہوں گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ہر بندہ سڑکوں پر ہے ،آپ میں اتنا احساس نہیں ہے کہ ان کی بات سن سکیں ،آپ ان کو اُلٹا مارتے ہیں لاٹھی چارج کرتے ہیں ،اندازہ ہے حکمران ہر چیز نہیں کر سکتے لیکن سر پر ہاتھ تو رکھ سکتے ہیں ، کیا انسان کی مجبوریاں وطن کے فرض سے بڑی ہوتی ہیں ، لاپتہ افراد کے اہلخانہ کھلے آسمان میں سردی تلے بیٹھے ہیں ، جب فرض ادا نہیں کر سکتے تو ایسے اقتدار میں نہ ہونا اچھا ہے ۔ اوپن بیلٹ عدالت لے جا سکتے ہیں تو یہ معاملہ بھی لے جا سکتے ہیں۔
دھرنے میں لاپتہ افراد کے لواحقین مریم نواز سے اپنے پیاروں کی واپسی کیلئے دہائی دیتے نظر آئے ، ان کا کہنا تھا کہ ایک ہفتہ سے یہاں لاوارثوں کی طرح بیٹھے ہیں، عمران خان نے کہا تھا کہ ملک میں اب کوئی لاپتہ نہیں رہے گا، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اپنے شہریوں کو تلاش کریں حکومت، عدالت اور کمیشن کہتے ہیں کہ کوشش کررہے ہیں، ہمیں سڑکیں، گیس، بجلی نہیں چاہے صرف اپنے پیارے چاہیں، 12 سالوں سے ہماری زندگیاں ایک تلاش بن کر رہ گئئ ہیں۔
یاد رہے کہ بلوچ لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا یہ کیمپ سات روز سے اسلام آباد میں ڈی چوک تک مارچ کر کے وہاں دھرنا دئیے بیٹھے ہیں ۔

سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی ،جنوبی وزیرستان میں دراندازی کی کوشش ناکام
- 14 گھنٹے قبل

شائقینِ کرکٹ کو پی ایس ایل کے پلے آف میچز اسٹیڈیم میں دیکھنے کی اجازت مل گئی
- 10 گھنٹے قبل

پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے آغاز کی راہ ہموار، ریگولیٹری فریم ورک آخری مرحلے میں داخل
- 14 گھنٹے قبل

’نہ پیچھے ہٹیں گے، نہ جھکیں گے‘، حزب اللہ کا اسرائیل سے براہ راست مذاکرات سے انکار کردیا
- 12 گھنٹے قبل

پاکستان کا دورہ نہایت مفید رہا،مذاکراتی عمل میں پیشرفت ہوئی ہے ، عباس عراقچی
- 14 گھنٹے قبل

روس ایران اور خطے کے مفاد میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہے، پیوٹن کی عراقچی سے ملاقات
- 8 گھنٹے قبل

شہباز شریف کی وزارت منصوبہ بندی کو قیمتی پتھروں کی برآمدات میں اضافے کیلئے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت
- 12 گھنٹے قبل

جنوبی سوڈان میں طیارہ گر کر تباہ،پائلٹ سمیت تمام 14 افراد جانبحق
- 9 گھنٹے قبل

عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں ریکارڈاضافہ ،فی تولہ کتنےکا ہو گیا؟
- 14 گھنٹے قبل

اسحاق ڈار کا برطانوی وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے میں پائیدار امن کیلئے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق
- 9 گھنٹے قبل

اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ، شرح سود میں 1 فیصد اضافہ
- 14 گھنٹے قبل

حزب اللہ کے راکٹ حملوں کا خوف،نیتن یاہو نے مذہبی تقریب منسوخ کر دی
- 13 گھنٹے قبل












