Advertisement

امریکا نے  نائن الیون کی ایف بی  آئی کی تحقیقات کا پہلا مسودہ جاری کردیا

غیر ملکی میڈیا کے مطابق پہلےمسودےمیں سعودی عرب کےہائی جیکرزسےرابطےکاکوئی ثبوت نہیں ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Sep 12th 2021, 4:35 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
امریکا نے  نائن الیون کی ایف بی  آئی کی تحقیقات کا پہلا مسودہ جاری کردیا

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق  امریکانےنائن الیون کی ایف بی آئی کی تحقیقات کاپہلامسودہ جاری کردیاہے، پہلےمسودےمیں سعودی عرب کےہائی جیکرزسےرابطےکاکوئی ثبوت نہیں ہے،  ایف بی آئی نے  صدر جو بائیڈن کے ایگزیکٹو آرڈر کے بعد 11 ستمبر 2021 کو امریکہ پر حملوں اور ہائی جیکرز کے لیے سعودی حکومت کی حمایت کے الزامات کی تحقیقات سے متعلق پہلی دستاویز جاری کی۔

مزید پڑھیں : فرانس کا طالبان حکومت سے تعلقات نہ رکھنے کا اعلان

ایف بی آئی کی تحقیقات کاپہلا مسودہ 16صفحات پرمشتمل ہے، ایف بی آئی کی جانب سے جاری کردہ 16 صفحات پر مشتمل دستاویز میں ہائی جیکرز اور سعودی  حکومت کے درمیان رابطوں کا خاکہ پیش کیا گیا۔

دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ   اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ ریاض  کی حکومت ان حملوں میں شریک تھی ،سعودی عرب  طویل عرصے سے کہتاآرہاہےکہ اس کا ان حملوں میں کوئی کردار نہیں تھا۔

سعودی عرب نے  امریکہ کی جانب سے حملوں سے متعلق کلاسیفائیڈ دستاویزات  کےجاری کرنے کا خیرمقدم کیا ہے۔

امریکی حکومت کے  کمیشن کو اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ سعودی عرب نے القاعدہ کو براہ راست مالی اعانت فراہم کی ، ہلاک ہونے والوں میں سے تقریبا، 2500 کے اہل خانہ ،زخمیوں ، کاروباری اداروں اور مختلف انشورنس کمپنیوں کے 20 ہزار سے زائد افراد نے سعودی عرب پر اربوں ڈالر کا مقدمہ دائر کیا ہے۔

خیال رہے کہ  امریکی صدرنےکچھ روز قبل تحقیقات ڈی  کلاسیفائیڈکرنےکااعلان کیاتھا، متاثرین کے رشتہ داروں نے بائیڈن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ 20 ویں سالگرہ کے موقع پر  دستاویزات  سامنےلائیں ورنہ یادگار ی تقریبات میں شرکت نہیں کریں گے۔ 

 

Advertisement