جی این این سوشل

علاقائی

این اے 133 ضمنی انتخاب میں پبلک آفس ہولڈرز کے حلقے میں داخلے پر پابندی

لاہور: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے رکن اسمبلی، حکومتی عہددران اور پبلک آفس ہولڈرز  کے حلقہ این اے 133 کے ضمنی انتخابات کے دوران داخلے پر پابندی عائد کردی۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

این اے 133 ضمنی انتخاب میں پبلک آفس ہولڈرز کے حلقے میں داخلے پر پابندی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

تفصیلات کے مطابق ریٹرنگ آفیسر نے اس حوالے سے سی سی پی او لاہور اور ڈی سی کو مراسلہ جاری کردیا۔

مراسلے میں کہا گیا کہ الیکشن قوانین کے مطابق کوئی پبلک آفس ہولڈر حلقے میں کسی سطح پر بھی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتے۔

مراسلے میں ہدایت کی گئی کہ اگر کوئی رکن اسمبلی یا پبلک آفس ہولڈرز حلقے میں انتخابی مہم چلائیں تو پولیس فوری کارروائی کرکے متعلقہ شخصیت کو حلقے سے باہر نکالے۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ این اے 133 میں ضمنی انتخابات 5 دسمبر کو ہونے ہیں ، قوانین کے مطابق تمام امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کرنے ہیں۔

 

 

پاکستان

آزاد کشمیر میں 31 سال بعد بلدیاتی انتخابات، پولنگ جاری

مظفر آباد: آزاد کشمیر میں 31 سال بعد ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں پولنگ کا عمل جاری ہے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

آزاد کشمیر میں 31 سال بعد بلدیاتی انتخابات، پولنگ جاری

 

آزاد کشمیر کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن میں انتخابات ہو رہے ہیں جس کے لیے پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا۔

مظفرآباد ڈویژن 3 اضلاع پر مشتمل ہے جس میں ضلع مظفرآباد، ضلع نیلم اور ضلع جہلم ویلی شامل ہیں۔ ضلع مظفرآباد میں ایک ہزار 643 امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جہاں 15 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔

ضلع مظفرآباد میں پولنگ اسٹیشنز کی کل تعداد 791 ہے جن میں سے 199 کو حساس اور 142 اسٹیشنز کو نہایت حساس قرار دیا گیا ہے۔ مظفر آباد میں ووٹرز کی کل تعداد 4 لاکھ 8 ہزار 868 ہے جس میں 616 مہاجرین ووٹرز بھی شامل ہیں۔ مظفرآباد میں مرد ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 19 ہزار 173 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 89 ہزار 695 ہے۔

مظفرآباد کے حلقہ دو لچھراٹ کھتیلی پولنگ اسٹیشن پر پولنگ کے دوران لڑائی ہوئی جس میں 5 افراد زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ لڑائی کے بعد کھتیلی پولنگ اسٹیشن پر پولنگ کا عمل روک دیا گیا۔ لڑائی تحریک انصاف اور آزاد امیدوار کے حامیوں کے درمیان ہوئی تھی۔

ضلع نیلم میں 529 امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جہاں ایک امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہو چکا ہے۔ ضلع نیلم میں ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 29 ہزار 298 ہے جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 69 ہزار 475 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 59 ہزار 823 ہے۔ ضلع نیلم میں 243 پولنگ اسٹیشز قائم کیے گئے ہیں۔

ضلع جہلم ویلی میں 544 امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اور 4 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔ جہلم ویلی میں ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 54 ہزار 774 ہے جس میں 16 مہاجرین ووٹرز بھی شامل ہیں۔

ضلع جہلم ویلی میں مرد ووٹرز کی تعداد 83 ہزار545 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 71 ہزار 229 ہے۔ ضلع جہلم ویلی میں 276 پولنگ اسٹیشز قائم کیے گئے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

آرمی چیف کیخلاف سوشل میڈیا پر گمراہ کن اعدادوشمار شیئر کیے گئے ہیں، آئی ایس پی آر

راولپنڈی: آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کی فیملی کے اثاثوں سے متعلق سوشل میڈیا پر گمراہ کن اعدادوشمار شیئر کیے گئے ہیں۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

آرمی چیف کیخلاف سوشل میڈیا پر گمراہ کن اعدادوشمار شیئر کیے گئے ہیں، آئی ایس پی آر

 

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف مذموم مہم پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کی فیملی کے اثاثوں سے متعلق سوشل میڈیا پر گمراہ کن اعدادوشمار شیئر کیے گئے ہیں۔ یہ گمراہ کن اعداد و شمار مفروضوں کی بنیاد پر بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ایک خاص گروپ نے نہایت چالاکی و بد دیانتی کے ساتھ جنرل باجوہ کی بہو کے والد (سمدھی) اور فیملی کے اثاثوں کو آرمی چیف اور خاندان سے منسوب کیا ہے اور یہ سراسر غلط تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ اثاثے آرمی چیف جنرل باجوہ کے 6 سالہ دور میں ان کے سمدھی کی فیملی نے بنائے۔

یہ قطعی طور پر حقائق کے منافی اور کھلا جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ان کی اہلیہ اور خاندان کا ہر اثاثہ ایف بی آر میں باقاعدہ ڈکلیئرڈ ہے اور آرمی چیف اور ان کا خاندان باقاعدگی سے ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ہر شہری کی طرح آرمی چیف اور ان کی فیملی ٹیکس حکام کے سامنے اپنے اثاثہ جات سے متعلق جواب دہ ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

اسمبلیوں سے نکلنے کا اعلان عمران خان کا اعتراف شکست ہے، راناثناءاللہ

وفاقی وزیر داخلہ راناثناءاللہ کا کہنا ہے کہ اسمبلیوں سے نکلنے کا اعلان عمران خان کا اعتراف شکست ہے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسمبلیوں سے نکلنے کا اعلان عمران خان کا اعتراف شکست ہے، راناثناءاللہ

نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران رانا ثناءاللہ نے کہا کہ راولپنڈی کے جلسے کے لیے عمران خان نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتوں کے وسائل استعمال کئے، اگر راولپنڈی میں تحریک انصاف 5،10 لاکھ لوگ آتی تو یہ اسلام آباد کی طرف ضرور آتے، جلسے میں لوگ نہیں آئے تو عمران خان نے اسلام آباد نہ جانے کا اعلان کیا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان دونوں اسمبلیاں نہیں توڑسکیں گے، وہ فتنہ فساد برپا کرتے رہیں گے، عمران خان سسٹم سے باہر ہو گا تو سیاسی استحکام آجائے گا، عمران خان ہر روز ایکسپوز ہو رہے ہیں۔

عمران خان سے مذاکرات کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ شرائط رکھ کر مذاکرات کرنے کے نتائج کبھی نہیں آتے ،اس کے ساتھ کیا مذاکرات کریں اور کیا پیشکش کریں؟

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll