لاہور: اردو کے نامور شاعر ناصر کاظمی کا 96 واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے ۔


معروف شاعر ناصر کاظمی کی پیدائش 8 دسمبر1925 کو ہندوستانی پنجاب کے شہر انبالہ میں ہوئی ۔آپ کے والد کا نام محمد سلطان کاظمی تھا اور وہ رائل انڈین فورس میں صوبیدار میجر تھے ۔ ان کی والدہ اک پڑھی لکھی خاتون انبالہ کے مشن گرلز اسکول میں ٹیچر تھیں ۔ ناصر نے پانچویں جماعت تک اسی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ بعد میں ماں کی نگرانی میں گلستاں، بوستاں، شاہنامہؑ فردوسی، قصہ چہار درویش، فسانہؑ آزاد، الف لیلٰیٰ، صرف و نحو اور اردو شاعری کی کتابیں پڑھیں۔ بچپن میں پڑھے گئے داستانوی ادب کا اثر ان کی شاعری میں بھی ملتا ہے۔
ناصر کاظمی نے ابتدائی تعلیم نوشہرہ، پشاور اور انبالہ سے حاصل کی جبکہ قیام پاکستان کے بعد لاہور آکر گورنمنٹ اسلامیہ کالج سے ایف اے کا امتحان پاس کیا ۔ 1939 میں صرف سولہ سال کی عمر میں لاہور ریڈیو کے ساتھ بطور اسکرپٹ رائٹر منسلک ہوئے اور پھر آخری وقت تک ریڈیو پاکستان کے ساتھ منسلک رہے۔اس کے علاوہ وہ مختلف ادبی جریدوں، اوراق نو، ہمایوں اور خیال کے مدیر بھی رہے۔
قیام پاکستان کے بعد ان کے اشعار کی خوشبو ہرسوپھیل گئی اور پاکستان کو ناصر کاظمی کے روپ میں ایک نیا شاعر نصیب ہوا ۔ ناصر کاظمی کا پہلا شعری مجموعہ ‘برگ نے’ کے نام سے 1952 میں شائع ہوا، اس کے علاوہ دیوانہ، پہلی بارش، نشاط خواب، سر کی چھایا، خشک چشمے کے کنارے اور ان کا دیوان بھی دیگر مجموعوں میں شامل ہیں۔
ناصر کاظمی کی شخصیت اور شاعری دونوں میں اک عجیب طرح کی سحر انگیزی پائی جاتی ہے ۔ اپنی روائیتی لفظوں کے باوجود انھوں نے غزل کو اپنی طرز ادا کی برجستگی اور ندرت سے سنورا ۔ ان کی تمام شاعری اک حیرت کدہ ہے جس میں داخل ہونے والا دیر تک اس کے سحرر میں کھویا رہتا ہے ۔ انھوں نے شاعری اور نثری اظہار کے لئے نہائت سادہ اورعام فہم زبان استعمال کی ۔ ان کی گفتگو کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے ان کی نثر بھی خود ان کی طرح سادہ مگر گہری ہے۔
میرکی پیروی کرتے ہوئے اپنے سادہ اسلوب، سچے جذبوں اور احساسات کی بدولت اردو کی نامور غزلیں کہیں جوآج بھی ادبی ذوق رکھنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں ۔
" میں کپڑے بدل کر جاؤں کہاں، دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا، دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی، نیت شوق بھر نہ جائے کہیں جیسی غزلیں ان کے جذبوں کی شدت، اظہار کی سادگی اور تصویری پیکر سازی کی عکاسی کرتی ہیں ۔
ناصر کاظمی نے 2 مارچ 1972 کو معدہ کے کینسر کی وجہ سے وفات پائی ، ادب کی دنیا میں ان کا نام ہمیشہ جگمگاتا رہے گا ۔

قابض افغان رجیم کی ریاستی دہشتگردی جاری ، پوست کے خاتمے کے نام پر نہتے شہریوں کا قتلِ عام
- ایک دن قبل

وفاقی وزیر ریلوے کی زیر صدارت ریلوے روٹس کی اپ گریڈیشن منصوبے کے حوالے سے جائزہ اجلاس
- ایک دن قبل

وزیراعظم کی برا ٓمدات میں اضافےکیلئے چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو سہولیات دینے کی ہدایات
- 19 گھنٹے قبل

بانی پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا
- 19 گھنٹے قبل

امریکی صدر کے 13 سے 15 مئی تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے،وائٹ ہاؤس
- ایک دن قبل

اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال
- 19 گھنٹے قبل

بنوں حملے پر پاکستان کا سخت سفارتی ردعمل،فیصلہ کن جواب دینے کا حق رکھتے ہیں،دفتر خارجہ
- ایک دن قبل

صدر مملکت سے وزیرِاعظم سے ملاقات، مہنگائی کم کرنے اور عوامی ریلیف کیلئے اہم ہدایات
- 18 گھنٹے قبل

پی ایف یو سی کے زیر اہتمام معرکہ حق کے حوالے سے تصویری نمائش کا انعقاد،اسپیکر ملک احمد خان کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت
- ایک دن قبل

سال 2025 کے مقابلے رواں سال لاہور میں جرائم میں نمایاں کمی، سی سی ڈی کا دعویٰ
- ایک دن قبل
کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونا ہزاروں روپے سستا،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- ایک دن قبل

ڈھاکا ٹیسٹ:چوتھے دن کے اختتام تک بنگلا دیش نے 179 رنز کی برتری حاصل کرلی
- 21 گھنٹے قبل



.jpeg&w=3840&q=75)










