جی این این سوشل

پاکستان

تبدیلی سرکار کے تین سال… چند حقائق

پر شائع ہوا

کی طرف سے

تبدیلی سرکار کے تین سال… چند حقائق

عمران یعقوب خان Profile عمران یعقوب خان

 

''لوگ خوشحال ہو رہے ہیں، میرے اعداد و شمار اسحاق ڈار والے نہیں بلکہ اصلی ہیں، فوج، عدلیہ، سیاست دان سب غلطیاں کرتے ہیں، کوئی بھی ادارہ غلطی کر سکتا ہے۔ ماضی میں میں نے بھی فوج پر تنقید کی، میں نے فوج کی غلطیوں پر تنقید کی لیکن اس کا مقصد یہ نہیں کہ آپ اپنی فوج کو بُرا بھلا کہنا شروع کردیں اور اس کے پیچھے پڑ جائیں، مافیاز فوج کے پیچھے اس لیے پڑے ہیں کہ فوج حکومت گرا دے، تبدیلی کا راستہ انتہائی کٹھن ہے، کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ ہے نہ کوئی پرچی پکڑ کر لیڈر بن سکتا ہے، حکومت ملی تو ہماری ٹیم ناتجربہ کار تھی، ملک دیوالیہ ہونے والا تھا، آج زرمبادلہ کے ذخائر 29 ارب ڈالر کی سطح پر ہیں، 4700 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جارہا ہے، سیمنٹ کی فروخت میں 40 فیصد اضافہ ہوا، موٹر سائیکلیں، گاڑیاں اور ٹریکٹر ریکارڈ تعداد میں بیچی گئیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ خوشحال ہو رہے ہیں‘‘۔

یہ وہ چند باتیں ہیں جو وزیر اعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے 3 سال مکمل ہونے پر اپنی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کی کارکردگی کے حوالے سے جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ہونے والی تقریب کے دوران اپنے خطاب میں کیں۔ تحریک انصاف کی طرف سے منعقدہ اس تقریب کو دیکھ کر اور اس میں ہونے والی تقریریں سن کر اس بات کا اعتراف تو کرنا ہی پڑے گا کہ اس پارٹی کو ایونٹ مینجمنٹ میں مہارت حاصل ہے۔ اسلام آباد کنونشن سینٹر کے ہال میں جس انداز سے اپنی کامیابی کا جشن منایا گیا، تقریروں اور گانوں میں جو جو سپاسنامے پیش کیے گئے ان کو دیکھ اور سن کرتو ایسا محسوس ہورہا تھا‘ جیسے پاکستان میں واقعی خوشحالی کا دور دورہ ہو چکا ہے، دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگ گئی ہیں اورغربت کا تو جیسے مکمل خاتمہ ہی ہو گیا ہو‘ لیکن میں کیا کروں کہ جب بطور ایک پاکستانی صحافی اور تجزیہ کار اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کیلئے حقائق پر نظر ڈالتا ہوں تو صورتحال کچھ مختلف نظر آتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا وبا کے باعث پوری دنیا میں معیشت بری طرح سے متاثر ہوئی ہے جس کے باعث ناصرف بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ عوام کو مہنگائی کے طوفان کا بھی سامنا ہے۔ پاکستان کا شمار ان چند خوش نصیب ممالک میں ہوتا ہے جہاں اللہ کے فضل و کرم سے یہ وبا نہ صرف کم رہی بلکہ اس پر کافی حد تک قابو بھی پا لیا گیا ہے۔ ہماری سیاست کا ہمیشہ سے یہ المیہ رہا ہے کہ اپنی نااہلیاں چھپانے کے لئے ان کا ملبہ دوسروں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ کچھ یہی طرز حکومت تبدیلی سرکار کا بھی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن نے جب 2013ء میں اقتدار سنبھالا تھا تو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان 127ویں درجہ پر تھا اور 2018ء میں جب ان کا اقتدار ختم ہوا تو پاکستان 117ویں درجہ پر آ چکا تھا، لیکن تبدیلی حکومت کے ان 3 سالوں پر نظر ڈالیں تو 2020ء میں جاری ہونے والے اسی انڈیکس میں پاکستان دوبارہ 124ویں درجے پر چلا گیا ہے، یعنی ''چوروں‘‘ کی حکومت میں دنیا کی نظر میں وطنِ عزیز میں کرپشن کی صورتحال سات درجہ بہتر تھی۔

تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں مختلف پہلوئوں کا جائزہ لیتے ہوئے سب سے پہلے اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بات کر لیتے ہیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق اگست 2018ء سے اگست 2021ء کے دوران آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 362 روپے 33 پیسے مہنگا ہوا، چینی اوسطًٓ 50 روپے فی کلو مہنگی ہوئی‘ دار مسور 43 روپے، دال مونگ 68 روپے، دال چنا 29 روپے فی کلو مہنگی ہو گئی۔ بکرے کا گوشت 337 روپے، گائے کا گوشت 169 روپے فی کلو، برائلر مرغی زندہ 37 روپے فی کلو تک مہنگے ہو گئے۔ تازہ دودھ 25 روپے فی لٹر، دہی 26 روپے فی کلو مہنگا ہوا‘ انڈے 58 روپے فی درجن مہنگے ہوئے، ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 530 روپے مہنگا ہوا۔ بناسپتی گھی اور خوردنی تیل کی قیمتیں 2018ء کے مقابلے میں دُگنی ہو چکی ہیں، 16 کلو گھی اور خوردنی تیل کی قیمت 31 مئی 2018ء کو 2200 روپے تھی جو آج بڑھ کر 4400 روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ 2018ء میں کوکنگ آئل جو اوسطاً 190 روپے فی کلو ملتا تھا‘ اب 340 روپے فی کلو میں بک رہا ہے۔

جون 2020 میں اپسوس کی جانب سے کئے گئے ایک سروے کے مطابق 91 سے 98 فیصد پاکستانیوں کو اکنامک ٹرمنالوجیز کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ وہ جی ڈی پی، معاشی ترقی، گردشی خسارہ وغیرہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ان کو سروکار ہے تو صرف اس بات سے کہ گھر کا خرچہ چلانے کیلئے‘ بجلی، گیس اور پانی کے بلوں کی ادائیگی سمیت دیگر خرچوں کیلئے ان کے پاس پیسے ہیں یا نہیں۔ تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے ایک سال بعد مالی سال 2019ء میں پاکستان کا جی ڈی پی 11 فیصد کمی کے بعد 314 ارب ڈالر سے 278 ارب ڈالر پر آ گیا تھا۔ گزشتہ مالی سال کے دوران اس میں مزید کمی واقع ہوئی اور جی ڈی پی 263 ارب ڈالر پر آ گیا۔ اگرچہ اب یہ 296 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے‘ تاہم اب بھی ماضی کی نسبت کم ہے۔ اگست 2018ء میں تحریک انصاف کے حکومت میں آنے سے قبل مالی سال 2018ء میں ملک پانچ اعشاریہ پانچ فیصد کی شرح کے ساتھ ترقی کر رہا ہے، تاہم حکومت میں آنے کے بعد تحریک انصاف کی ناقص معاشی پالیسیوں کے سبب ملکی ترقی کی شرح میں گراوٹ دیکھنے میں آئی اور مالی سال 2019ء میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 166 فیصد کمی کے ساتھ 2 فیصد پر آکھڑی ہوئی۔ اسی طرح گزشتہ مالی سال میں ملکی ترقی کی شرح مزید تنزلی کا شکار ہو کر منفی صفر اعشاریہ 4 فیصد تک گر گئی۔ اس سے قبل پاکستان کی معیشت میں منفی گروتھ 1951 اور1952 میں دیکھی گئی تھی۔ معیشت کے شکاری 4 وزیر و مشیر خزانہ تبدیل کر چکے ہیں جبکہ 3 سال میں 7ویں چیئرمین ایف بی آر کی تقرری بھی کی گئی ہے۔ موجودہ حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں 7 مرتبہ اضافہ کیا۔ اب تک بجلی کے بلوں میں فی یونٹ 8 روپے 95 پیسے کا اضافہ ہو چکا ہے‘ جو بجلی کا یونٹ 12 روپے کا تھا اب وہی یونٹ 21 روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ تمام زرعی مداخل، مشینری، سیڈ، پیسٹی سائیڈز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، ڈی اے پی اور یوریا کھاد کی بوری کی قیمت میں 30 سے 40 فیصد اضافہ ہوا۔ گیس کی قیمت 144 فیصد بڑھا دی گئی۔ ملکی معیشت پر قرضوں کے بوجھ میں تواتر سے اضافہ ہو رہا ہے‘ البتہ تحریک انصاف کے برسر اقتدار آنے کے بعد ملکی قرضوں میں ریکارڈ52 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گزشتہ 3 سالوں میں قرضے اکٹھے کرنے کی رفتار میں تیزی رہی۔ جون 2020 میں پاکستان کے واجب الادا قرضے 44.50 ہزار ارب روپے ہو چکے تھے۔ تحریک انصاف کی حکومت نون لیگ کے 5 سال سے بھی 3 ہزار ارب روپے زائد قرض اپنے 3 سالوں میں حاصل کر چکی ہے۔

اب تھوڑا سا ذکر ادویات کا بھی کر لیتے ہیں۔ تبدیلی سرکار نے گزشتہ 3 سالوں کے دوران ادویات کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 13 مرتبہ اضافہ کیا‘ جو کل ملا کر ساڑھے 700 فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں مفت میڈیکل ٹیسٹوں اور تشخیص کی سہولت بھی ختم کر دی گئی۔ حکومت اپنی 3 سالہ کامیابیوں کا جشن مناتے وقت ان حقائق کو بھی مدنظر رکھ لیتی تو کیا ہی بہتر ہوتا!

اس سے قبل یہ کالم    'روزنامہ دنیا ' میں بھی شائع ہوچکاہے ۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

پشاور ڈویژن کے اسپتالوں میں داخلہ کورونا ویکسین سرٹیفکیٹ سے مشروط

فیصلے کا اطلاق 20 ستمبر سے ہو گا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

تفصیلات کے مطابق پشاورڈویژن میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر لیڈی ریڈنگ ، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور خیبر ٹیچنگ اسپتال میں داخلہ اور بی آر ٹی میں سفر کرنے کو کورونا ویکسین سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا گیا ۔  فیصلے کا اطلاق 20 ستمبر سے ہو گا ۔

مزید پڑھیں ؛ برطانیہ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ نے نکال دیا

کمشنر پشاور نے کہا ہے کہ     پابندی کا اطلاق لیڈی ریڈنگ اسپتال ، ایچ ایم سی ، کے ٹی ایچ اور قاضی حسین اسپتال نوشہرہ پر ہو گا ،  ایمرجنسی سٹیلائٹ ہسپتالوں میں سرٹیفکیٹ کے بغیر مریضوں کے تیمارداروں اور ملاقاتیوں پر پابندی ہوگی۔

کمشنر پشاور  کا کہنا ہے کہ بی آر ٹی میں اب سفر بھی کورونا ویکسین سرٹیفیکٹ کے بغیر نہیں ہو سکے گا ، کوروناپھیلاوکوروکنے کے لیے بی آر ٹی میں بھی 20 ستمبر سے کویڈسرٹفیکیٹ لازمی قرار دے دیا گیا ہے، منگل کے دن سے بی آرٹی میں کوونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر سفر پر پابندی ہوگی ، پابندی کا اطلاق ایمرجنسی میں لائے گئے مریضوں اور ان کے تیمارداروں پر نہیں ہوگا۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ اعداد و شمارکے مطابق  ملک میں کورونا وائرس سے اموات کی مجموعی تعداد27ہزار072 ہوگئی ہے،جبکہ  متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 12لاکھ18ہزار749ہوگئی ہے ۔ این سی اوسی کے مطابق ملک میں کورونا کے فعال کیسز کی تعداد65ہزار725ہوگئی جبکہ مثبت کیسزکی شرح 5.08 فیصدرہی ۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

پاک نیوزی لینڈ سیریز منسوخ :  وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کاردعمل

ویلنگٹن:  پاک نیوزی لینڈ کرکٹ سیریز منسوخ ہونے کے بعد   نیوزی لینڈکی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کاردعمل سامنے آگیا ہے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیوزی لینڈکی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے کہا ہے کہ   کرکٹ  ٹیم کے دورہ  پاکستان  سے دستبرداری کے فیصلے کی مکمل حمایت کرتی ہیں کیونکہ کھلاڑیوں کی حفاظت انتہائی اہم ہے۔پاکستان کے وزیر اعظم سے بات کرکے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی دیکھ بھال کے لیے شکریہ ادا کیا۔

مزید پڑھیں: برطانیہ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ نے نکال دیا

جیسنڈا آرڈرن  نے کہا ہے  کہ سب کے لیے مایوس کن ہےکہ کھیل آگے نہیں بڑھ سکالیکن ہم اس فیصلے کی مکمل حمایت کرتے ہیں ۔

قبل ازیں نیوزی لینڈ نے    دورہ پاکستان  منسوخ کردیا تھا،  کھلاڑیوں کو کمروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ۔  نیوزی لینڈ کرکٹ چیف ایگزیکٹو نے کہا تھا کہ دورہ جاری نہیں رکھ سکتے ، دورہ نیوزی لینڈ ختم کردیا گیا ہے ۔

دورہ منسوخ ہونے کی خبروں کے بعد وزیراعظم پاکستان اور نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا  تھا ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا  تھا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو کوئی سیکیورٹی تھریٹ نہیں تھا ۔ ہمارا انٹیلی جنس نظام دنیا کا بہترین نظام ہے ۔  

نیوزی لینڈ کرکٹ ذرائع کا کہنا  تھا کہ نیوزی لینڈ حکومت کی جانب سے ہدایات کے بعد دورہ جاری نہیں رکھ سکتے ۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے ہمیں ایڈوائس دی گئی ۔

پی سی بی چیئرمین رمیز راجا   کا کہنا تھا کہ  آج کا دن انتہائی پریشان کن رہا،  اپنے کھلاڑیوں اور فینز کے لیے افسردہ ہوں۔

چیئرمین پی سی بی رمیز راجا نے لکھا کہ  سیکیورٹی تھریٹ پر یکطرفہ فیصلہ کرکے دورہ منسوخ کرنا مایوس کن ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب سیکیورٹی تھریٹ شیئر نہ کیا گیا ہو۔نیوزی لینڈ کس دنیا میں رہ رہا ہے، نیوزی لینڈ کو آئی سی سی میں ہمارا سامنا کرنا ہوگا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

یواین ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی آرمی چیف سے ملاقات، باہمی دلچسپی کے امورپر گفتگو

راولپنڈی :  آرمی چیف جنرل قمرم جاوید باجوہ  نے کہا ہے کہ  افغانستان میں پناہ گزینوں کا بحران روکنا ہوگا۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پاک فوج  کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ  اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی ہے، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور،  علاقائی سلامتی  پر تبادلہ خیال کیا گیا۔افغانستان کی موجودہ صورتحال اور انسانی بنیادوں پر امداد میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ  نے کہا کہ  افغانستان میں انسانی المیہ روکنے کے لیے عالمی کوششوں کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے، گزشتہ4دہائیوں میں پاکستان نے 40لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی،  افغانستان میں پناہ گزینوں کا بحران روکنا ہوگا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق  یون این ہائی کمشنر نے پاکستان میں 40لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کو سراہا ،  ہائی کمشنر نےافغانستان صورتحال میں پاکستان کے مثبت کردار کو بھی سراہا،  ہائی کمشنر   نےہر سطح پر پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کا اعادہ کیا۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ  بحران میں ریسپانس اور اقوان متحدہ کے بنیادی اصولوں کی پاسداری پر آرمی چیف نے یو این ایچ سی آر کے کردار کو سراہا۔

پڑھنا جاری رکھیں

Trending

Take a poll